اتوار , 15 دسمبر 2019

ہفتہ وحدت ۔ مسلم اُمہ کی طاقت کا مظہر

بسم تعالی

سیدہ سائرہ بانو

ماہ ربیع الاول میں ہفتہ وحدت کا انعقاد، انقلاب اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کا وہ کارنامہ ہے جس نے اُمتِ مسلمہ کو منتشر کرنے والے عناصر کی دُم پر پاؤں رکھا ہوا ہے۔ چونکہ امام خمینی ؒ مغربی استعماری طاقتوں کے مقابل سینہ سِپر رہے اس لئے جانتے تھے کہ یہ فتنہ پرور قوتیں مسلم اُمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا مذموم ارادہ رکھتی ہیں۔ لہذا ضروری تھا کہ اپنے قول و فعل کے ذریعہ اتحاد بین المسلمین کی اہمیت کو اُجاگر کریں۔ آپ نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا :”اے طاقتور مسلمانو! خوب جان لو اور دنیا کو بتادو کہ تم نے فرقہ پرستی اور سرحدی اختلاف کو رَد کر دیا ہے۔ یہ سب تمہاری دشمن قوتوں اور اُن کے چیلوں کی سازش ہے کہ اسلام کی حُرمت کے نام پر تمہیں آپس میں اُلجھائے رکھیں۔ اِن کا کام دنیا کے سامنے اسلام کے چہرے کو مسخ کر کے پیش کرنا ہے تاکہ فتنہ پرستوں کو تم پر انگلی اٹھانے کا موقع ملے۔”

امام خمینی ؒ کے افکار کو سمجھنے والے مسلمان کُھلے دل سے تسلیم کریں گے کہ اُن کے یہ الفاظ ایک ناقابلِ تردید سچ ہیں جنہیں جُھٹلانا ممکن نہیں۔ آپ ؒ نے مسلمانوں پر واضح کیا کہ شیعہ سُنی اختلاف دشمن کی خواہش ہے اور اُن کے نزدیک مسلکی اختلاف کو ہَوا دینے والے سُنی ہیں نہ شیعہ بلکہ دشمن کے آلہ کار ہیں۔آپ ؒ نے کسی ایک مسلمان ملک کے اندرونی انتشار کو پوری اُمت کا انتشار قرار دیا۔ مسلکی اختلاف کے جھگڑے کو بڑے خوبصورت انداز سے ختم کرنے کی کوشش کی اور فرمایا: "جب ہمارا ارادہ اللہ کے دین (اسلام) کی خدمت کرنا ہے تو پھر مسلکی اختلاف کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ہم سب بھائی بھائی ہیں اور ایک ہیں۔ ہم سب توحید پرست ہیں اور قرآن کو ایک مکمل دستور سمجھتے ہیں۔ ہمارا عمل بھی توحید و قرآن کے عین مطابق ہونا چاہیے۔” امام خمینی ؒ نے اپنے فعل سے ان الفاظ کو حقیقت میں بدلا اور رحمتِ دو عالم سیدالانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی تواریخ (12 تا 17 ربیع الاول) کو بطور ہفتہ وحدت منانے کا اعلان کیا۔ یعنی ایک معمولی سے عددی اختلاف کو آپ ؒ نے نہایت دانشمندی سے وحدت میں تبدیل کر دیا۔ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ شیعہ سُنی وحدت امام خمینی ؒ کی کاوش کا ثمر ہے۔

آپ ؒ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد رہبر انقلاب اسلامی ایران سید علی خامنہ ای نے شیعہ سنی اتحاد کی عملی کوشش کو جاری رکھا اور اس حوالے سے کئی اہم بیانات دیے۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کو انسانیت کے تکامل کا باعث قرار دیا ہے۔ آپ کے نزدیک رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس وہ مرکز ہے جس سے ہر مسلمان بلاتعصب و اختلاف جُڑا ہوا ہے۔ اسی لئے استعماری قوتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کو متنازع بناکر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی تاکہ امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جاسکے۔

وحدتِ اسلامی کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک بڑی رکاوٹ فرقہ پرستی ہے جس کے پیچھے تسلط پسند طاقتوں کا ہاتھ رہا ہے۔ عصرِ حاضر کے جدید ارتباطی وسائل کو فرقہ وارانہ اختلاف کے لئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک مسلمان قوموں کے وہ چند افراد ہیں جو ان تسلط پسند قوتوں کے اغراض و مقاصد کو پورا کرنے کے لئے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ رہبر معظم نے اس حوالے سے بہت اہم بات کہی ہے: "سب سے پہلے سیاستدانوں اور حکمرانوں اور اس کے بعد عالمِ اسلام کے دانشوروں, علمائے دین اور روشن ضمیر لوگوں, اہلِ قلم, شاعروں اور ادیبوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان مہروں سے آگاہ کریں جو مسلمانوں کے اتحاد میں رخنہ ڈالتے ہوئے انہیں اللہ کی مضبوط رسی سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ ارشادِ اقدس الہی ہوتا ہے: واعتصموا بحبل اللہ جمیعا۔ یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔ اللہ کی رسی کو تو ایک ایک ہو کر بھی پکڑا جاسکتا ہے لیکن قرآن کا حکم ہے, سب مل کر اس رسی کو پکڑو اور اختلاف نہ پیدا نہ کرو۔ یہاں تک کہ خدا کی رسی کو پکڑنے کے لئے بھی اتحاد کی دعوت دی گئی ہے چہ جائیکہ بعض خدا کی رسی تھامنا چاہتے ہوں اور بعض شیطان کی رسی کے پیچھے ہوں۔ اگر خدا کی رسی کو پکڑنا چاہتے ہیں تو یہاں بھی سب مل جل کر اسے تھامیں اور ہمدردی و الفت کا مظاہرہ کریں۔ اتحاد, عالمِ اسلام کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔” وحدت کے لئے امتِ مسلمہ میں قومیت و فرقہ پرستی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ مثلا ہمیں اسرائیل کے مقابلہ میں فلسطینی برادران کی حمایت عرب و عجم کے تعصب سے بالاتر ہوکر کرنی چاہیے۔ اسی طرح اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی کسی بھی جماعت کی کامیابی کو مسلکی عینک اتار کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے امام خمینی ؒ کے فرامین اور کاوشیں ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔ یہ شیعہ سُنی اتحاد ہی ہے جس کے نتیجہ میں ہمارے ملک کے گلی کوچے دُرود و سلام کی آوازوں سے گونج رہے ہیں، در و بام سجے ہیں اور چوراہوں پر میلاد کی محفلیں منعقد ہو رہی ہیں۔ یہ اہتمام عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دشمنانِ اتحاد کے لئے شکست کا پیغام ہے۔ دعا ہے کہ خدا اس محبت اور وحدت کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …