پیر , 16 دسمبر 2019

عمران خان کا استعفیٰ لینے کی حکمت عملی تبدیل ہو سکتی ہے: فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا آج 12 واں روز ہے اور ٹھنڈ کے باوجود شرکاء اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں موجود ہیں۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان سے فوری مستعفی ہونے اور نئے انتخابات سمیت دیگر مطالبات کررکھے ہیں تاہم حکومت اور اپوزیشن میں وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مطالبات

آزادی مارچ کی قیادت کرنے والی جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بظاہر 10 مطالبات سامنے رکھے ہیں۔

ان مطالبات میں ناموس رسالت کے قانون کا تحفظ، ریاستی اداروں کے وقار کی بحالی اور اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال سے روکنا، انسانی حقوق کا تحفظ اور آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانا، مہنگائی کو روکنا اور عام آدمی کی زندگی کو خوشحال بنانا اور موجودہ حکومت کو ختم کرکے عوام کو اس سے نجات دلانا اور نئے انتخابات کرانا وغیرہ شامل ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو اہم مطالبات وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے پر ڈیڈلاک ہے۔

پلان بی پر عمل درآمد کیلئے جے یو آئی کا اجلاس بے نتیجہ
آزادی مارچ کے پلان بی پر عمل درآمد کے لیے جمیت علمائے اسلام (ف) کی مرکزی قیادت کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ہوا تاہم اس میں کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی اور ضلعی قیادت شریک ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں شریک جے یو آئی (ف) کے صوبائی امراء نے مشاورت کا وقت مانگ لیا ہے۔

جے یو آئی ف کے اجلاس میں آزادی مارچ کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا، مذاکرات کے حوالے سے حکومت کی غیر سنجیدگی پر بھی بات چیت ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یوآئی ف کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس کل ظہر بعد دوبارہ ہو گا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ اجلاس میں احتجاج کو ملک بھر میں پھیلانے پر مشاورت ہو گی، اگلے قدم کے لیے ساتھیوں سے تجاویز لیں گے جو رہبر کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں گی، حتمی فیصلہ رہبر کمیٹی کریگی۔

یہ بھی دیکھیں

رضاکاروں کو مغربی سازش کا سامنا ۔ کارٹون

اپنے ملک یا نظام کے لئے کام کرنے والی مسلم رضاکار فورس کہیں کی بھی …