اتوار , 15 دسمبر 2019

فلسطین ایشو کا کیا بنا!؟

تحریر : محمد سلمان مہدی

سوشل میڈیا سمیت ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر بہت سے ایشوز نمایاں طور پر نشر کئے جا رہے ہیں۔ مسلم و عرب دنیا میں عراق اور لبنان میں ہونے والے مظاہروں سے توجہ ہٹانے نہیں دی جا رہی۔ یعنی اب شام کا منجن نہیں بک پا رہا!؟ یا یمن پر سعودی امریکی اتحاد کی فوجی جارحیت سے عرب و مسلم عوام کے سامنے خادم حرمین شریفین قابل دفاع نہیں رہے!؟ ایران، حزب اللہ، حماس وغیرہ کو ہر ممکن طریقے سے ستا کر دیکھ چکے۔ پاکستان، ترکی، سوڈان وغیرہ کو چونا لگتے ہم نے دیکھا۔ اب امریکی سعودی اتحاد اور ذرائع ابلاغ سے ایک سوال ہمارا بھی بنتا ہے: فلسطین کا مسئلہ کہاں تک پہنچا؟

ایران اور اس کے حامیوں کے خلاف تو سارے عملی اقدامات دیکھتے ہی دیکھتے ہوگئے۔ آپ چڑھ دوڑیں گے کہ پاکستانی ہو، ایران سے مطلب!؟ تو چلیں یہ بتا دیں کہ کشمیر کا کیا بنا!؟ کرتار پور راہداری کھل گئی، مگر کشمیری کو ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ بہت خوب، عراق اور لبنان میں عوام بدعنوان حکام سے تنگ ہیں تو ایسی کی تیسی کر دیں۔ اس سے تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ غزہ، رملہ، بیت المقدس کے فلسطینیوں کو بھی یہی حق ہونا چاہیئے کہ اسرائیل کو جڑ سے اکھار پھینکیں۔ کیونکہ عراق اور لبنان میں تو زیادہ تر حکام ان کے اپنے مکمل ہم وطن ہیں، کچھ ہی ہوں گے، جن کی شہریت دوہری ہو۔ مگر اسرائیل تو پورے کا پورا ناجائز قبضہ گروپ ہے۔ بولے تو لینڈ مافیا۔

پانچ اگست 2019ء کے بعد پاکستانیوں کو کشمیر کشمیر کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والے اب کہاں ہیں؟ اس وقت بھی بہت سوں کو لگ رہا تھا کہ فلسطین ایشو کو دبانے کے لئے نریندرا مودی کو زایونسٹ لابی نے استعمال کیا ہے۔ فلسطین ایشو دبانے کے لئے کشمیر کشمیر اور اب کشمیر ایشو بھی غائب۔ اب عراق اور لبنان ہے۔ وقفے وقفے سے ایران، شام اور یمن بھی۔ فرمائشی پروگرام چل رہا ہے کہ پاکستان کشمیر پر یوں کرلے، ایران نیوکلیئر ڈیل پر ووں کرلے۔ دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن تا حدیدہ کنٹرول رکھنے والے یمنیوں کو حکم کہ پورا یمن مستعفی و مفرور صدر کے حوالے کر دے۔ شام کے لئے فرمائش کہ نیا آئین بنائے۔

اس نوعیت کی فرمائشات برائے اسرائیل، سعودیہ و امریکا بھی تو آنی چاہئیں۔ سعودی عرب یمن جنگ ختم کرے اور اسرائیل کی ایسی کی تیسی کرے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر رہیں، اسرائیلی وزیر دفاع کا کردار ادا کرنے سے باز رہیں۔ فلسطین پر سے اسرائیل کا قبضہ مکمل ختم کیا جائے۔ یہ بھی عوامی خواہشات ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، ٹی وی چینلز، دیگر ویب سائٹ یا اخبارات ایسی فرمائشات کو بھی تو اسپیس دیں۔ لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔

حضور، جان کی امان پاؤں تو پوچھوں کہ فلسطین اور کشمیر کب یاد آئے گا؟ وہاں بھی تو انسان ہی آباد ہیں۔ ان کے بھی تو حقوق ہیں۔ وہاں کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟ ان کے لئے آزادی کا کوئی ایجنڈا؟ فلسطین کے غاصب اسرائیل کے وجود کے خاتمہ کا کوئی منصوبہ؟ یہ عرب لیگ، یہ او آئی سی، یہ جی سی سی اور اس کے سرخیل سعودی و اماراتی شیوخ و شاہ، یہ سب بتائیں فلسطین کا کیا بنا!؟ کشمیر کا تو آپ بتا چکے کہ نریندرا مودی کے بھارت کو فل سپورٹ۔ آپ عرب شیوخ و شاہ نے پاکستانیوں کو سمجھ لیا مسکین و فقیر (بھیک منگا)، ایرانی مسلمان آپ کی نظر میں مجوس، ترک مسلمان آپ کے بقول یاجوج ماجوج۔ فلسطین تو عرب ہی ہے ناں، مسلمان اکثریت بھی ہے اور تو اور مسلکی لحاظ سے بھی آپ ہی کا سگا بھائی ہے۔ شام اور یمن پر چڑھ دوڑنے والے خادم حرمین شریفین ایک نظر کرم قبلہ اول و مسجد اقصیٰ کی آزادی پر بھی۔ ایک چڑھائی اسرائیل پر بھی بنتی ہے یا نہیں!؟

غزہ کی اوپن ایئر جیل کے مکین بھی محاصرے کے خاتمے کی منتظر۔ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی بھی آزادی چاہتے ہیں۔ یہ جو کل تک امریکی سعودی بلاک کے لاڈلے تھے، جناب محمود عباس، اب یہ فلسطینی پارلیمنٹ کے الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں اور ان کی شرط یہ ہے کہ مقبوضہ القدس شہر میں یعنی بیت المقدس میں بھی پولنگ اسٹیشن بنانے کی اجازت دی جائے۔ 1969ء میں خادم حرمین شریفین کی سرپرستی میں او آئی سی بناتے وقت یہ طے کیا گیا تھا کہ یہ مقبوضہ بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنے گا۔ تب تو ایران میں بھی شاہ ایران حکمران تھا۔ امام خمینی تو ملک میں بھی نہیں تھے۔ تو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا تو آپ سب عرب حکمرانوں کی بھی متفقہ پالیسی ہوا کرتی تھی یا پھر وہ سب کچھ منافقت تھی۔؟

آج بھی مغربی کنارے کا اکسٹھ فیصد علاقہ اسرائیل ہی کے براہ راست قبضے میں ہے کہ جس کے نہ ہونے سے فلسطین کی اقتصادی موت واقع ہوچکی ہے۔ سال 2013ء تک اس علاقے پر اسرائیلی کنٹرول سے فلسطین کو تین ارب چالیس کروڑ ڈالر سالانہ کا نقصان ہوا۔ اس نقصان کا براہ راست ذمے دار اسرائیل ہے۔ کیا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل، امریکا، یورپی یونین، عرب لیگ، او آئی سی، جی سی سی نے کبھی اسرئیل پر مفلوج کر دینے والی پابندی لگائی!؟ حالانکہ یہ اسرائیل تو ہے ہی ایک جعلی ملک۔ مگر اقوام متحدہ نے اس جعلی قبضے کو بھی ملک کی حیثیت سے رکنیت دے رکھی ہے اور فلسطین ایک آزاد عرب ریاست تاحال نہیں بن سکا، تو پھر سوال وہی ذہن میں آتا ہے کہ فلسطین ایشو کا کیا بنا!؟

آل سعود، آل نھیان اور آل خلیفہ نے نریندرا مودی کو بھائی بنالیا۔ ساری عنایتیں مودی کے لئے۔ ان کی طرف سے پیغام صاف ہے کہ کشمیری جائیں بھاڑ میں۔ فلسطینی بھی جائیں بھاڑ میں۔ یہ ان کا مائنڈ سیٹ ہے۔ سوشل میڈیا میں بھی ان کی سرمایہ کاری ہے۔ جمال خاشقچی کا قتل بھی نام نہاد آزادی پسند مغربی دنیا کو قاتل حکومت کے خلاف نہ کرسکا۔ یہاں صرف زبانی جمع خرچ اور اسرائیل کے تحفظ کے لئے اتنے مستعد کہ پوری دنیا میں جو بھی مخالفت کرے، اس کی ایسی کی تیسی کر دی جاتی ہے۔ لبنان اور عراق کے عوام زندہ باد مگر کوئی تو بتائے کہ فلسطین اور کشمیر پر اتنی مستعدی کب دکھائی جائے گی!؟ اور اب دوبارہ کب کونسا ایشو ان ایشوز کو دفن کرنے کے لئے وقتی طور پر مسلمان ممالک میں پھیلایا جائے گا۔!؟

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …