جمعرات , 23 جنوری 2020

افغانستان میں ووٹوں کی گنتی پر تنازعہ

کابل: افغانستان کے الیکشن کمیشن نے کئی امیدواروں کے اعتراض اور بائیکاٹ کے باجود سیکڑوں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب صدارتی انتخابات کی نگرانی کرنے والے واحد افغان ادارے الیکشن ٹرانسپیرنسی فاؤنڈیشن نے صدارتی انتخاباب کے حوالے سے پیدا ہونے والے ممکنہ بحران کی بابت سخت خبردار کیا ہے۔

کابل میں الیکشن کمیشن کے جاری بیان کے مطابق ملک کے چند صوبوں میں حالیہ صدارتی انتخابات کے بعض ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل پیر سے انتخابی مبصرین کی نگرانی میں شروع کردیا گیا ہے ۔ افغان الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شروع کرنے کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب ایک اہم صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے گزشتہ روز کابل میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ عبداللہ عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس عمل کے نتیجے میں ملک بحران کی جانب جاتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری صدر اشرف غنی کے الیکشن کمپین آفس پر عائد ہوگی۔دوسری جانب افغانستان کے انتخابات کی نگرانی کرنے والے واحد ادارے الیکشن ٹرانسپیرنسی فاؤنڈیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدارتی انتخابات کے بعض ووٹوں کی دوبارہ گنتی انتخابی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اٹھائیس ستمبر کے صدارتی انتخابات کے دوران ووٹنگ کا وقت شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں بغیر بائیومیٹرک اندارج کے ڈالے گئے ووٹوں کو معتبر قرار دینے کی کوشش کی گئی تو بعض صدارتی امیدوار کی انتخابی کمیٹیاں انتخابی نتائج کو مسترد کردیں گی۔افغانستان کے الیکشن کی نگرانی کرنے والے ادارے کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب عبداللہ عبداللہ، گلبدین حمکت یار اور رحمت نبیل جیسے صدارتی امیدواروں کی انتخابی کمیٹیوں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے عمل کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ملک کے آٹھ ہزار پولنگ بوتھوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب افغانستان کے الیکشن کمیشن نے اس بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت بھی جاری نہیں کی ہے کہ ایسا کیوں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اس عمل کے بارے میں افغانستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔افغانستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی وجوہات بیان کرنے سے گریز کے باعث افغان حلقوں میں اس تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ صدارتی انتخابات کے نتائج کا معاملہ بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔افغانستان کے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان دوبارہ موخر کیے جانے کے بعد چودہ نومبر کو اس کے اعلان کی توقع ہے تاہم بعض رپورٹوں میں کہا جارہا ہے انتخابی نتائج کا اعلان ایک بار پھر موخر کیا جاسکتا ہے۔افغانستان کے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کی کامیابی کی سب سے زیادہ توقع ظاہر کی جارہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی تک دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، ایرانی سپریم لیڈر

تہران: ایران کے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ …