منگل , 21 جنوری 2020

عہدے کا بے جا استعمال، مواخذہ شروع ٹرمپ پریشان

واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ پر اپنے دائرہ کار سے تجاوز، عہدے کے بے جا استعمال اور سیاسی فوائد کے لیے یوکرائن پر دباؤ بڑھانے جیسے معاملات پر عوامی مواخذے کا آغاز ہوچکا ہے جس کی کارروائی براہِ راست نشر کی گئی۔

پہلے دن حکومتی اہلکاروں نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر وولویمیر زیلنسکی کو جولائی میں کی جانے والی اس فون کال پر حقائق سے آگاہ کیا جس میں صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا تھا کہ سابق امریکی نائب اور 2020 کے صدارتی انتخابات کے اہم حریف جو بائیڈن کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کرے کیونکہ بائیڈن کے بیٹے رابرٹ ہنٹر بائیڈن یوکرائن کی ایک گیس کمپنی کے شریک بانی بھی ہیں۔ تاہم بائیڈن خاندان پر لگائے گئے تمام الزامات غلط ثابت ہوئے۔

سوالات میں 400 ملین ڈالر کی فوجی امداد کے معاملے پر مزید شواہد سامنے آئے کیونکہ پہلے یہ امداد روکی گئی تھی اور بعد میں اسے جاری کیا گیا تھا جو دباؤ کا ایک مبینہ حربہ تھا۔ تاہم اس ضمن میں مزید سوالات اور جرح کا سلسلہ جاری رہے گا۔

دوسری جانب ڈیموکریٹ پارٹی کے دو عہدیداروں نے کہا ہے کہ ولیم ٹیلر اور جارج کینٹ سے جرح کے بعد امریکی صدر کے مواخذے کی مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے مزید ثبوت اور ٹھوس شواہد پیش کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جو اس کارروائی میں آگے پیش کئے جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی تک دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، ایرانی سپریم لیڈر

تہران: ایران کے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ …