ہفتہ , 14 دسمبر 2019

کسے اپنی پالیسیاں تبدیل کرنی چاہئے… سعودی عرب کو یا ایران کو؟ (پہلا حصہ)

عبد الباری عطوان

دنیائے عرب کے مشہور صحافی اور یونیسکو کے رکن پروفیسر محمود الباری نے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں درپیش نشیب و فراز کا جائزہ پیش کیا ہے۔

سعودی عرب کی پالیسیوں کو دلدل میں گرفتار کرنے والے عادل الجبیر کہتے ہیں کہ ان کے ملک کو یقین ہے کہ آرامکو کمپنی پر حملے میں ایران کا ہاتھ تھا۔ یہ بات عادل الجبیر نے لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ جس طرح لبنان اور متعدد عرب ممالک کی سڑکوں پر مظاہرے ہوئے، اس دوران ان کے اس بیان نے علاقے کے لئے آئندہ خطروں کو کسی حد تک واضح کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے ولیعہد، ایران کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں متضاد سگنل دے رہے ہیں۔ ایک طرف تو یہ عقلمندی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مسائل کا حل، سیاسی ہونا چاہئے اور پھر عراق اور پاکستان کے وزرائے اعظم جیسے کچھ ثالثی بھی سامنے آتے ہیں، چاہئے خود سے یا پھر بن سلمان کے مطالبے پر، لیکن دوسری طرف ولیعہد بن سلمان امریکی فوجیوں کو سعودی عرب بلاتے ہیں جس کے بعد سعودی عرب کی مدد کے لئے تین ہزار امریکی فوجی روانہ کر دیئے جاتے ہیں۔

اس طرح کی متضاد پالیسی سے سعودی مفاد کو بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ در اصل سعودی عرب اور اس کے رہنماؤں کی اب تک یہ سمجھ میں نہیں آیا ہے کہ سبھی مسائل کا حل سیاسی ہے جو مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور بس۔ جہاں تک ان کا خیال ہے کہ امریکا ان کی مدد کرے گا تو یہ بالکل غلط فکر ہے اور اس کے متعدد اسباب ہیں:

امریکا یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ علاقے میں اطلاعات کا سب سے پہلا اور بڑا ذریعہ ہے کیونکہ اس نے خلیج فارس کے متعدد ساحلی علاقوں میں فوجیں تعینات کر رکھی ہیں اور رڈار وغیرہ نصب کر رکھے ہیں، اسی طرح قطر، عراق اور بحرین میں اس کی چھاونیاں ہیں ۔ ان سب کے مد نظر یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ امریکا کو سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو پر حملے کا پتہ ہی نہ چلا ہو۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ امریکا نے اعلان کیا تھا کہ خلیج فارس میں تیل ٹینکرز پر حملے کے بعد اس نے پورے علاقے میں نگرانی بڑھا دی ہے۔

جاری…

بشکریہ

رای الیوم

 

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …