ہفتہ , 14 دسمبر 2019

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم

جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات عندیہ دے رہے تھے، عین اسی کے مطابق ہندوستان کی عدالت عظمیٰ نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں شہید ہونے والی بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا مشکل ترین [1] فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا ہے[2] اور ساتھ ہی مسلمانوں کے آنسووں کو پونچھنے کے لئے مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا بھی حکم دیا ہے[3]۔ یاد رہے کہ فیصلہ آنے سے قبل ایودھیا اور پورے ملک میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ ایودھیا میں متنازع مقام سمیت اہم عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ کئی مقامات پر انسداد دہشت گردی سکواڈ کے دستے تعینات کر دیئے گئے تھے، صاف واضح تھا اور زندگی کے دستور بدل رہے تھے، مسلم علاقوں میں گشت بڑھایا جا رہا تھا، جدھر بھی حکومت کی نظر پڑ رہی تھی، ادھر سب کچھ الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ بقول شاعر؛
تمہارے شہر کا انصاف ہے عجب انصاف
ادھر نگاہ ادھر زندگی بدلتی ہے
بہر کیف جو فیصلہ آیا ہے، اس کی ماہیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ اس سے پہلے کیا کچھ ہوا تھا اور یہ کیس اس قدر متنازعہ کیونکر ہوا، مسلمانوں کا موقف بابری مسجد کو لیکر کیا تھا اور مسجد میں مورتیوں کے وجود کی داستان کیا ہے۔؟

مسلمانوں کا موقف اور گذشتہ کارروائیوں کے نشیب و فراز
مسلمانوں کا کہنا تھا کہ وہ دسمبر 1949ء تک اس مسجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں، جس کے بعد کچھ لوگوں نے رات کی تاریکی میں رام کے بت مسجد میں رکھ دیئے تھے۔ بتوں کو رکھے جانے کے حوالے سے یہ انکشاف بھی عجیب ہے کہ مسجد کے اندر 1949ء میں 22 اور 23 دسمبر کی درمیانی شب ضلع مجسٹریٹ کی مدد سے رام کی بچپن کی مورتی رکھی گئی اور اس وقت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے مسجد سے مورتی ہٹانے کا حکم دیا، لیکن ضلع مجسٹریٹ نے اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا[4]۔ اسی وقت سے عدالت نے مسجد سیل کرکے نگران تعینات کر دیا گیا تھا اور باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گيا اور عدالت کا مقرر کردہ پجاری وہاں پوجا کیا کرتا تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کے مطابق اس مقام پر بتوں کی پوجا اس واقعے کے بعد ہی شروع ہوئی ہے، جبکہ اس سے قبل ایسا کچھ نہیں تھا اور یہاں پر صرف مسلمان ہی عبادت کیا کرتے تھے۔ اس تنازعہ کے سامنے آنے کے بعد گذشتہ چار دہائیوں میں کئی مسلمان اور ہندو تنظیمیں اس زمین پر اختیار اور عبادت کے حق کے لیے عدالتوں کا رخ کرتی رہی ہیں۔

اس تنازعہ میں شدت 1992ء میں اس وقت آئی تھی، جب ہندو انتہا پسندوں نے مسجد کو تباہ کر دیا۔ چنانچہ چھ دسمبر 1992ء کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کے کارکنوں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور ان کی حامی تنظیموں کے کارکنوں نے مبینہ طور پر تقرییاً ڈیڑھ لاکھ رضاکاروں کے ہمراہ اس مقام پر چڑھائی کر دی۔ یہ جلوس وقت کے ساتھ ساتھ پرتشدد ہوتا گیا اور وہ کئی گھنٹے تک ہتھوڑوں اور کدالوں کی مدد سے مسجد کی عمارت کو تباہ کرتے رہے، یہاں تک کہ مسجد کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مذہبی ہنگاموں میں کم و بیش دو ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حالات کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے ہندوستان کے صدر جمہوریہ شنکر دیال شرما نے ریاست اتر پردیش کی اسمبلی کو برخواست کرتے ہوئے ریاست کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور پھر 1993ء میں ایک صدارتی حکم کے تحت بابری مسجد کے ارد گرد زمین کا 67.7 ایکڑ رقبہ وفاقی حکومت نے اپنے اختیار میں لے لیا تھا[5]۔

اس کے بعد بابری مسجد کے واقعے کی تفتیش کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا، جس میں بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کے کئی رہنماؤں سمیت 68 افراد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ بہت سے لوگوں کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت نے کوئی سزا نہیں سنائی اور بابری مسجد کے انہدام کے الزام کا سامنا کرنے والے بہت سے رہنما آج بھی حکمراں جماعت سے وابستہ ہیں، جس کو عدالت عظمیٰ نے ٹرسٹ بنانے کی ذمہ داری سونپی ہے اور یہ بھی اپنے آپ میں عجیب بات ہے کہ اسی حکمراں جماعت کو مندر بنانے کے لئے ٹرسٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جس کے رہنماوں کو بابری مسجد شہید کئے جانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ بات ہے، جس پر مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی کھلے الفاظ میں مذمت کی ہے[6] ۔ لیکن جو ہونا تھا ہوچکا، اب مسلمانوں کو دیکھنا ہوگا کہ انکا اگلا قدم کیا ہوتا ہے۔؟ جہاں بعض مسلمان حلقوں نے حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے، وہیں کچھ ایسے بھی افراد ہیں، جنہوں نے فیصلہ پر اظہار تعجب کیا ہے۔

چنانچہ ہندوستان کے بابائے قوم کے پوتے تشار گاندھی نے جہاں طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر آج مہاتما گاندھی کے قاتل گوڈسے کے بارے میں فیصلہ آتا تو انہیں قاتل ہونے کے باوجود محب وطن قرار دیا جاتا” [7] جبکہ دوسری طرف اس کیس کی پیروی کر رہے ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس سے مطمئن نہیں ہیں اور اس بارے میں رائے مشورے کے بعد عمل کیا جائے گا[8]۔ مسلمان اگلا قدم جو بھی اٹھائیں، موجودہ فیصلہ کے حوالے سے گردش کرنے والی خبر پر ایک تامل بر انگیز نظر ضروری ہے، جو اپنے آپ میں بہت سے حقائق سے پردہ اٹھا رہی ہے، جو کچھ مختلف اخباروں اور نیوز ایجنسیوں کے ذریعہ بیان کیا جا رہا ہے، اس کا مختصر خاکہ اور اسی کے ذیل میں اہم نکات یہ ہیں: ہندوستانی عدلیہ کے سربراہ و چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے ایک آئینی بنچ نے مندر مسجد کے اس تنازعے کا متفقہ طور پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متنازعہ جگہ پر مندر تعمیر ہوگا، البتہ مسلم فریق کو ایودھیا کے اندر کسی نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل پانچ ایکڑ زمین دی جائے گی۔ عدالت نے مرکز اور اتر پردیش کی ریاستی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس متبادل زمین کا انتظام کریں۔

فیصلہ کے اہم نکات:
جسٹس گوگوئی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جن اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا وہ یہ ہیں:
1۔ زمین کی ملکیت کا فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ ملکیت کا فیصلہ صرف قانونی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔
2۔ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق ایودھیا کی بابری مسجد 1528ء میں کسی خالی زمین پر نہیں بنائی گئی تھی۔ آثار قدیمہ کے مطابق مسجد کے نیچے کسی مندر کے باقیات تھے اور محکمے نے اس کے ثبوت بھی پیش کیے تھے۔ لیکن آثار قدیمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر اس کے اوپر تعمیر کی گئی تھی۔
3۔ 1949ء میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بے حرمتی کا عمل تھا اور 1992ء میں اسے منہدم کیا جانا قانون کی خلاف ورزی تھی۔
4۔ 1949ء میں مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کئے جانے کا عمل قانون کے تحت نہیں تھا۔
5۔ سنّی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین نمایاں جگہ پر دی جائے۔

مذکورہ بالا نکات فیصلے کے وہ اہم نکات ہیں، جن پر غور کیا جائے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔
الف: زمین کی ملکیت کا فیصلہ اگر مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ قانونی بنیادوں پر کیا جاتا ہے تو قانونی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والے مذہبی عقیدے کی آڑ میں اقتدار کے حصول کے لئے پورے ملک کو بدامنی کا شکار بنانے والوں کو قانون کا تحفظ کیوں حاصل ہے، جن لوگوں نے مذہبی بنیادوں پر ملک میں نفرت کی فضا پھیلائی اور عدالت عظمیٰ کے سامنے ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں ان کا جرم ثابت ہے، انہیں ان کے جرم کی سزا کیوں نہیں ملی اور عدالت نے کن بنیادوں پر ان پر کوئی بھی تعزیراتی دفعہ اب تک عائد نہیں کی ہے۔ کیا پورے ہندوستان کی سرزمین کو ایک خاص آئین کے پیروکاروں کی ملکیت قرار دینے والے اور اپنی آئیڈیالوجی کو تسلیم نہ کرنے کی بنیاد پر سالہا سال سے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے ساتھ جینے والے لوگوں پر سرزمین ہند کے دروازوں کو بند کرنے والے مذہبی بنیادوں پر ملکیت کا فیصلہ نہیں کر رہے ہیں، عدالت اس بارے میں کیا کر رہی ہے۔

ب: محکمہ اثار قدیمہ کے مطابق اگر مسجد کسی خالی زمین پر نہیں بنائی گئی تھی اور مسجد کے نیچے کسی مندر کے باقیات تھے، جس کے ثبوت بھی محکمہ کی طرف سے پیش کئے گئے، لیکن ان ثبوتوں کے پیش کئے جانے کے باوجود بھی محکمہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا یا پھر اس نے اس بات کے ثبوت پیش نہیں کئے کہ مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر ہوئی تھی، کیا یہ بات اپنے آپ میں قابل غور نہیں ہے۔؟ کیا محض کسی جگہ کھدائی کی بنیاد پر اور اس مقام پر کچھ آثار ملنے کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ زمین پر ملکیت اس کی ہے، جس سے متعلق آثار ملے ہیں، کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ایک ایسی سرزمین کو خریدا گیا ہو، جس پر پہلے کوئی عمارت پہلے منہدم ہوچکی ہو اور منہدم عمارت کی زمین پر دوسری عمارت بنائی گئی ہو۔

ج: اگر 1949ء میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بے حرمتی کا عمل تھا تو بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف کیا کوئی جرم ثابت ہے اور یہ بے حرمتی مجرمانہ عمل ہے یا نہیں، اس بے حرمتی کا ارتکاب کرنے والے آیا عدالت عظمیٰ کی نظر میں مجرم ہیں یا نہیں؟ علاوہ از ایں 1992ء میں اسے منہدم کیا جانا اگر قانون کی خلاف ورزی کے زمرہ میں آتا ہے تو 1992ء میں کارسیوکوں کی بھیڑ کو اکسانے والے اور مسجد کے انہدام کی کارروائِی میں آگے آگے رہنے والے لیڈران قانون کی خلاف ورزی کے جرم کے مرتکب ہوئے یا نہیں، ان مجرموں کے بارے میں عدالت عظمیٰ کی رائے کیا ہے۔

د: 1949ء میں مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کئے جانے کا عمل قانون کے تحت نہیں تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے ان کی ملکیت کو 1949ء میں تسلیم کیا ہے، ورنہ کسی بھی جگہ پر ناجائز قبضہ کرکے وہاں عبادت کرنے والوں کو روکنا خلاف قانون کیوں کر ہوسکتا ہے، کیا سارے ثبوت محض انہیں شہادتوں میں سمٹے ہوئے ہیں، جن کو شہادت کے طور پر پیش کیا گیا اور حساس نفسیاتی و فطری مسائل کو یکسر مسترد کر دیا گیا کہ جس ملکیت کو عدالت نے پہلے تسلیم کیا ہے، اب کس بنیاد پر اسے رد کیا جا رہا ہے، اس مقام پر اسرار زیدی کا یہ شعر بے ساختہ زباں پر آتا ہے:
انصاف کی بھیک کسے ملتی
قانون شہادتوں میں گم تھا

ھ: سنّی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین کیوں دی جا رہی ہے، جبکہ آثار قدیمہ کے ثبوتوں کی روشنی میں سنی وقف بورڈ کی جانب سے ملکیت کا دعویٰ بظاہر خارج کر دیا گیا ہے، اگر فیصلہ محض اس بات پر آیا ہے کہ عدالت سنی وقف بورڈ کی ملکیت کے ثبوتوں کو غیر قابل انکار تسلیم کرتی ہے، لیکن چونکہ مسجد کی جگہ کی کھدائی کئے جانے پر متنازعہ جگہ پر کسی مسجد یا اسلامی تہذیب و تمدن کی علامتیں دریافت نہ ہو کر مندر کی باقیات ملی تھیں تو مندر کی باقیات کے مل جانے پر اس بات کا فیصلہ کرنا کہ یہاں پہلے مندر تھا، کیا قانونی ثبوتوں کے تحت فیصلہ ہے یا پھر یہ فیصلہ مذہبی عقیدت کے تحت کیا گیا ہے، جس کے بارے میں پہلے ہی عدالت عظمیٰ نے صاف کر دیا کہ تھا کہ زمین کی ملکیت کا فیصلہ مذہبی عقیدے پر نہیں ہوتا، اگر یہ فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہے تو ان ناقابل انکار ثبوتوں کو کیوں فراموش کر دیا گیا، جنہیں ہندوستان کے معروف تاریخ داں ڈی این جھا نے سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد جمع کیا تھا، اس بات کو واضح کر دیا تھا کہ بابری مسجد کے ڈھانچے کے نیچے کوئی مندر نہیں تھا۔[9] اسکے علاوہ سپریم کورٹ کے سابق جج اشوک گانگولی کے اٹھائے گئے سوالات بھی اپنی جگہ اہم ہیں جن پر غور کی ضرورت ہے [10]

علاوہ از ایں مندر کی باقیات کا کسی جگہ ملنا اور مندر کو توڑ کر مسجد بنانا کیا یہ دونوں چیزیں ایک جیسی ہیں؟ ان میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جس محکمہ آثار قدیمہ نے یہ ثبوت پیش کئے کہ جس جگہ مسجد بنی ہے، وہاں سے مندر کی باقیات ملی ہیں، اسکے لئے یہ کہنا کونسی بڑی بات تھی کہ مسجد کی عمارت کو مندر توڑنے کے بعد بنایا گیا ہے۔ یہ مندرجہ بالا وہ نکات ہیں، جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آثار قدیمہ کے جن ماہرین کی رائے کو عدالت نے معتبر مانا ہے، ان کے تحقیقی نتائج کیا ہیں اور ان ثبوتوں کے بارے میں عدالت کیا کہتی ہے، جن سے واضح ہوتا ہے کہ بابری مسجد کے نیچے کھدائی سے حاصل ہونے والی اشیاء کا تعلق ہندو مذہب سے نہیں تھا۔[11] ان تمام حقائق کے پیش نظر مسلمانوں کو مل کر ایک حکمت عملی طے کرنا ہوگی اور متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا، اگر وہ خدا پر بھروسہ کریں اور دوسروں کی دریوزہ گری کے بجائے اپنی ایمانی طاقت کے سہارے آگے بڑھیں تو یقیناً جس افتاد کا شکار ہیں، اس سے نکل سکتے ہیں۔ اس لئے کہ ایک بابری مسجد کی شہادت یا اسکے بارے میں غلط فیصلہ اتنا بڑا نقصان پہنچانے کا سبب نہیں ہے، جتنا انکے ایمان کی شہادت اور اپنے مستقبل کو لیکر انکا اجتماعی طور پر غلط فیصلہ کرنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
[1]۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-42233448
[2]۔ https://www.bbc.com/hindi/live/india-50357233
[3]۔ https://timesofindia.indiatimes.com/india/ayodhya-verdict-live-updates-supreme-court-verdict-on-ram-mandir-babri-masjid-dispute/liveblog/71978224.cms

Ayodhya verdict LIVE UPDATES: Supreme Court gives disputed land to new trust, mosque on alternate land


[4]۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-42213193
[5]۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-42213193
[6]۔ https://www.thehindu.com/news/national/ayodhya-verdict-a-victory-of-faith-over-facts-owaisi/article29930772.ece
۔https://www.indiatoday.in/india/story/ayodhya-verdict-ram-mandir-babri-masjid-asaduddin-owaisi-1617366-2019-11-09
[7]۔ अयोध्या पर आए फैसले पर बोले महात्मा गांधी के प्रपौत्र – अगर गांधी की हत्या मामले में आज फैसला आता तो गोड्से हत्यारे लेकिन… – NDTV https://khabar.ndtv.com/news/india/tushar-gandhi-on-supreme-court-ayodhya-case-verdict-says-if-gandhi-murder-case-retired-today-godse-w-2129894
[8]۔ इस फैसले के खिलाफ रिव्यू दाखिल करेंगे – जफरयाब जिलानी:
https://www.ndtv.com/video/news/news/zafaryab-zillani-to-ndtv-wer-will-file-a-petitio
[9]۔ https://www.bbc.com/hindi/india-50359630
مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو یہ گفتگو
https://frontline.thehindu.com/static/html/fl2625/stories/20091218262501700.htm
[10]۔ https://m.hindustantimes.com/india-news/ayodhya-verdict-ex-sc-judge-asok-ganguly-raises-questions-about-evidence-that-land-belonged-to-ram-lalla/story-iSby9uYpRIc1wz4viojvvK.html
[11]۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو
https://www.bbc.com/urdu/regional-50360163

 

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …