جمعہ , 13 دسمبر 2019

امریکہ کا ناجائز قبضہ چھڑایا جائے، شام کا قوام متحدہ سے مطالبہ

نیو یارک: اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ امریکا شام کے تیل کے علاقوں پر قبضہ اور تسلط جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔انھوں نے کہا سلامتی کونسل کے اراکین کو شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ پر مبنی اپنے فرائض پر عمل کرنا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں منافقت اس حدتک بڑھ گئی ہے کہ اس کے بعض اراکین داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کے قتل پر خود کو ہیرو بناکے پیش کر رہے ہیں۔انھوں نے اسی کے ساتھ کہا کہ شام کے عوام کے خلاف عائد اقتصادی پابندی اقتصادی دہشت گردی ہے جو ختم ہونا چاہئے۔اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب دیمتری پولیانسکی نے بھی شام کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ شام کو بیرونی افواج کے غیر قانونی قبضے سے فوری طور پر نجات ملنی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ شام کا تیل اس ملک کے عوام کی دولت ہے اور امریکا سمیت کسی بھی ملک سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دیمتری پولیانسکی نے کہا کہ شام میں دوسرے ملکوں کے فوجیوں کی غیر قانونی موجودگی فوری طور پر ختم ہونی چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکی اقدامات سے شام کے شمال مشرقی علاقوں میں عدم استحکام وجود میں آرہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکا نے شام کے تیل کے کنووں کی حفاظت کے بہانے شمال مشرقی شام میں اپنے فوجیوں کو باقی رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ شام کی قانونی حکومت نے نہ صرف یہ کہ امریکا کو اس کی اجازت نہیں دی ہے بلکہ اس نے امریکا کے اس اقدام کو ناجائز قبضہ کرنے کے جارحانہ اقدام سے تعبیر کیا ہے۔ اس دوران شام میں جنگ بندی کے نگراں مرکز کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا مختلف بہانوں سے الرکبان کیمپ سے انخلا کو ٹال رہا ہے۔ شام میں جنگ بندی کے نگراں مرکز کے سربراہ یوری بورنکوف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو بھی الرکبان کیمپ کے حالات کے بارے میں اطلاعات نہیں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ شام کا الرکبان کیمپ اردن کی سرحد کے قریب واقع ہے۔اس کیمپ کو جس میں تقریبا چالیس ہزار پناہ گزین موجود ہیں ، امریکا نے اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔ روس کے فوجی اور سفارتی عہدیداروں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ امریکا کے زیر قبضہ الرکبان کیمپ میں، دہشت گرد گروہوں سے وابستہ عناصر کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

وکلا کی بڑی تعداد گرفتار

لاہور؛ گزشتہ دنوں وکلا اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد سے اب …