جمعہ , 13 دسمبر 2019

ملک کا پیسہ لوٹنے والے ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑوں گا، عمران خان

حویلیاں: وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ملک کا پیسہ لوٹنے والے ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔

ہزارہ موٹروے کے حویلیاں- تھاہ کوٹ سیکٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مراد سعید کی تقریر سن کر سوچ رہا تھا کہ نوجوانوں میں اس طرح کا جنون ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قومیں جذبہ اور جنون سے کھڑی ہوتی ہیں، جنون صلاحیت اور عقل کو شکست دیتا ہے۔

ساتھ ہی عمران خان نے کہا کہ ہزارہ موٹروے سی پیک کا حصہ ہے اور ہمارا ملک جو اٹھے گا اس میں سی پیک کردار ادا کرے گا، سی پیک سے ہماری خامیاں جیسے زرعی پیداوار جو ہماری دنیا میں سب سے کم ہے، ہم چین سے ٹیکنالوجی سیکھ کر اپنی پیداوار دوگنی کریں گے اور خوشحالی آجائے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آج سی پیک کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جارہا ہے، ہماری بہت بڑی آبادی نوجوانوں کی ہے اور ان کو ہنر ملے گا تو یہ ہی ہماری قوت بنیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ نے پاکستان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، ہم نے صرف اس کے انتظامات ٹھیک کرنے ہیں، ہم نے موٹروے بنانی ہیں مگر پیسہ عوام پر لگانا ہے، صحت اور تعلیم کے مسائل حل کرنے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘تحریک انصاف جب حکومت میں آئی تو پہلا سال ہمارے لیے بہت مشکل تھا کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے’۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘زراعت اور صنعتوں کے ذریعے ہم ملک کو تبدیل کریں گے، ہاؤسنگ اسکیم سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا’۔

’پاکستان میں اگر کوئی دھرنے کا ماہر ہے تو وہ میں ہوں‘
آزادی مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پچھلے دنوں کنٹینر پر جو سرکس ہوئی، بتانا چاہوں گا کہ پاکستان میں اگر کوئی بھی دھرنے کا ماہر ہے تو وہ میں ہوں، میں نے کہا تھا کہ اگر ایک مہینہ یہ کنٹینر پر گزار دیں تو میں مان جاؤں گا، میں نے 126 دن کنٹینر پر گزارے ہیں، میں جانتا ہوں کہ کنٹینر اور دھرنا کیا ہوتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دھرنے کے نام پر مدرسے کے بچوں کو لایا گیا، ہماری حکومت پہلی حکومت ہے جس نے مدرسوں کے بچوں کی ذمہ داری لی، دھرنے کے شرکا سے جاکر پوچھا جائے تو انہیں معلوم بھی نہیں ہوگا کہ ان کا دھرنے میں آنے کا مقصد کیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سب سے مشکل گھڑی میرے لیے اس وقت تھی کہ جب بارش میں مدرسے کے بچے باہر بیٹھے تھے اور مولانا فضل الرحمٰن گرم کمرے میں گھر پر بیٹھے تھے’۔

مولانا فضل الرحمٰن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘دین کو پیسہ بنانے کے لیے فروخت کرنا، بچوں سے جھوٹ بول کر سڑکوں پر لانا، اس سے بڑا گناہ کیا ہوسکتا ہے، ایک آدمی جو ڈیزل کے نام پر بکنے والا ہے، کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ پر بکنے والے ہے، اس نے اسلام کا نام استعمال کیا اور بچوں کو گمراہ کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے مولانا فضل الرحمٰن کی آخرت کی فکر ہے، دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں وہ سزا نہ دے جو اس کو ملنی ہے’۔

’بلاول بھٹو لبرل نہیں لبرلی کرپٹ ہیں‘
انہوں نے کہا کہ ‘کنٹینر پر نیلسن منڈیلا بننے والے شہباز شریف اور آئن اسٹائن کی روح کو تڑپانے والے بلاول زرداری بھی موجود تھے’۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘بلاول زرداری نے جو تھیوری دی اس پر آئن اسٹائن کی روح بھی تڑپ رہی ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بلاول زرداری خود کو لبرل کہتے ہیں مگر وہ لبرلی کرپٹ ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کنٹینر پر دیگر افراد میں بے روزگار سیاست دان بھی تھے، جنہیں ڈر ہے کہ وہ پکڑے جائیں گے وہ کنٹینر پر موجود تھے’۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ یہ سارے اکٹھے ہوجائیں گے کیونکہ ان کا مفاد ایک ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) والے جہادی بھی بن جائیں گے لبرل بھی بن جائیں گے جہاں ان کا پیسہ بچ جائے یہ اس طرح خود کو تبدیل کرلیتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کنٹینر پر کیے گئے سارے ڈرامے کی ایک ہی کوشش تھی کہ دباؤ ڈالا جائے تاکہ کرپشن کیسز سے پیچھے ہٹ جائیں، یہ بلیک میل کرنے آئے تھے’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘دھرنے والے جب مذاکرات کرنے آئے تو کہا کہ کسی کو بھی تحریک انصاف سے وزیر اعظم بنادیں سوائے عمران خان کے، وہ اس لیے کیونکہ عمران خان کی کوئی قیمت نہیں’۔

’مجھے ہار کر جیتنا بھی آتا ہے‘
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘میں ان کی بلیک میلنگ میں آکر اگر اداروں کو پیچھے ہٹنے کا کہہ دوں تو میں اپنی قوم سے غداری کروں گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں جنرل مشرف کی طرح مک مکا کرلوں، انہیں این آر او دے دوں تو سب آرام سے بیٹھ جائیں گے اور ملک میں کوئی افرا تفری نہیں ہوگی مگر مجھے خوف خدا ہے، مجھے اپنی آخرت کی فکر ہے میں ان کی طرح نہیں، این آر او کا مطلب ہے کہ ان کے کرپشن کیسز معاف کردیے جائیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے گزشتہ 10 سالوں میں پاکستان کا قرضہ 4 گنا بڑھایا ہے، مہنگائی کی وجہ سے قوم پر مشکل وقت گزر رہا ہے اور یہ مشکل وقت ان ہی کی وجہ سے ہے’۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘میں سب کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مجھے مقابلہ کرنے کی بہترین تربیت ہے اور اس سے قبل بھی مقابلہ کرکے میدانوں میں پاکستان کو اوپر لے کر جاچکا ہوں، مجھے ہارنا بھی آتا ہے جیتنا بھی آتا ہے اور ہار کر کیسے جیتا جاتا ہے وہ بھی آتا ہے، مجھے پارٹی وراثت میں نہیں ملی اور نہ ہی جنرل جیلانی کے گھر کا سریا لگاتے لگاتے کوئی وزارت حاصل کی تھی، 22 سال کی جدو جہد کی ہے تب جاکر اس مقام پر پہنچا ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جو مرضی کرنا ہے کرلو، سب اکٹھے ہوجاؤ، میرا وعدہ کہ ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑوں گا جس نے اس ملک کا پیسہ چوری کیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ جیل جاتے ہی بیمار ہو جاتے ہیں لیکن، کابینہ میں زیادہ تر لوگوں نے کہا کہ نواز شریف کو نہ جانے دوں پر مجھے رحم آگیا اور کابینہ کو کہا کہ ان کو تکلیف ہے جانے دو، تاہم ہم نے صرف 7 ارب روپے کی گارنٹی مانگی تھی اور کہا تھا کہ کاغذ کے ٹکڑے پر دستخط کردو مگر شہباز شریف نے ڈرامے شروع کردیے’۔

’شریف خاندان 7 ارب روپے کی ٹپ دے سکتا ہے‘
عمران خان نے کہا کہ ‘شریف خاندان کے پاس جتنا پیسہ ہے یہ 7 ارب روپے کی ٹپ دے سکتے ہیں مگر شہباز شریف نے کہا کہ میں گارنٹی دوں گا، جن کا خود کا بیٹا، داماد بھاگا ہوا ہو وہ کیا گارنٹی دیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف کے دونوں بیٹے پہلے ہی بھاگے ہوئے ہیں ان کی کون گارنٹی دے گا’۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘عدالت کا فیصلہ قبول کرتے ہیں، شہباز شریف جو ڈرامے کررہے ہیں قوم سب سمجھ چکی ہے، کہتے ہیں نواز شریف کو کچھ ہوا تو عمران خان ذمہ دار ہوگا، 800 سے زائد قیدی جیلوں میں گزشتہ 10 سالوں میں مرچکے ہیں ان کا کون ذمہ دار ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا ایمان ہے کہ پاکستان ایک عظیم قوم بنے گی اور وہ اس وقت بنے گی جب یہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑی ہوگی، مدینہ کی ریاست کی بنیاد انصاف اور انسانیت پر رکھی گئی تھی، جو ریاست اپنے کمزور، غریب، بیواؤں، یتیموں پر رحم کرتی ہے وہ کامیاب ہوتی ہے’۔

موجودہ اور آنے والے چیف جسٹس سے اپیل
عمران خان نے کہا کہ ‘انصاف لوگوں کو آزاد کردیتا ہے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور آنے والے جسٹس گلزار کی بہت عزت کرتا ہوں، ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ عدلیہ کے بارے میں تاثر کو درست کریں، ہمارا قانون ایسا ہو کہ کمزور سے کمزور آدمی بھی جب طاقتور کے آگے کھڑا ہو تو اسے اعتماد ہو کہ اسے انصاف ملے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری حکومت پوری مدد کرے گی، حکومت آپ کو پیسہ دینے کے لیے تیار ہے، مگر ہماری عدلیہ عوام کا خود پر اعتماد بحال کرے کہ یہاں سب کے لیے ایک قانون ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بریف کیس کے ذریعے ملک کے چیف جسٹس کو انہوں نے فارغ کروادیا ہے’۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل جائے گا مگر نا انصافی کا نہیں’۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل، 2 مارچ کو دوبارہ انتخابات

تل ابیب: اسرائیلی پارلیمنٹ نیسٹ تحلیل کر دی گئی اس طرح اب گزشتہ ایک سال …