ہفتہ , 14 دسمبر 2019

متنازعہ نقشہ: بھارت کا کشمیر کے بعد نیپال کے علاقے پر بھی وار

تحریر: عنایت اللہ شہزاد

برصغیرِ پاک و ہند میں برطانوی فوج نے جہاں صدیوں پرانی سلطنتیں اور ریاستوں کا خاتمہ کرکے فتح کا علم بلند کیا وہیں کچھ اقوام ایسی بھی تھیں جنھیں شکست دینا ان کے بس سے باہر تھا۔ ان اقوام میں سے ایک قوم نیپال کی تھی۔ انگریز فوج نے متعدد بار چھوٹی بڑی کوششیں کیں مگر نیپال فتح کرنے میں ناکام رہی۔ نومبر 1814 میں شروع ہونے والی اینگلو نیپالی جنگ دو سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کو گورکھا وار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انگریز فوج کی سر توڑ کوششوں کے باوجود فتح ان کا مقدر نہ بن سکی اور بالآخر 4 مارچ 1816 کو اس جنگ کے خاتمے کے لیے نیپال کے بادشاہ اور برطانوی فوج کے آفیسر لفٹیننٹ کرنل براڈشا کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا۔

معاہدے کے تحت برطانوی فوج بنگال کے مختص کردہ چند علاقوں کے علاوہ باقی کسی جگہ حکومت قائم نہیں کر سکتی تھی۔ انگلستان کی حکومت نے گورکھا قوم کی شجاعت سے متاثر ہوکر انھیں برطانوی آرمی میں بھرتی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ گورکھا کے نوجوان ڈیڑھ سو سال تک برطانوی آرمی کا حصہ بنتے رہے اور پاکستان اور بھارت کے قیام کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ تاہم برطانوی فوج نے نیپال کے گورکھا پلاٹون میں سے اکثریت کو اپنے ملک میں شہریت دے رکھی ہے۔

گورکھا جنگ کے اختتام کے دو سو تین سال بعد ایک بار پھر نیپال کی سرحدوں میں کسی غیر ملک نے قابض ہونے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ زبردستی قبضہ کرلیا گیا ہے، تو بجا ہوگا۔ حال ہی میں بھارت نے اپنی ریاست کا متنازعہ نقشہ جاری کر دیا ہے جس میں جہاں ایک جانب کشمیر کو بھارت کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے، وہیں دوسری جانب نیپال کے سرحدی علاقے کالاپانی کو ہندوستان کا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ کالا پانی بھارتی ریاست اتھرکنڈ کا حصہ ہے جب کہ نیپالی حکومت کے بقول کالا پانی صدیوں سے نیپال کا حصہ رہا ہے اور رہے گا۔

کالا پانی کا مذکورہ حصہ کم و بیش 6 ہزار ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے۔ نیپال کے وزیر خارجہ پرادیب گیاوالی کے دفتر سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق بھارت کے نئے نقشے میں کالا پانی کی شمولیت کو نیپال نے مسترد کر دیا ہے۔ نیپال نے ہفتے کے روز جاری متنازعہ بھارتی نقشے پر تشویش کا اظہار کر کے بھارت سے اس سلسلے میں بات چیت کی پیش کش کی ہے۔

جمعرات کی شام بھارت کے دفترِ خارجہ سے بھی اسی سلسلے میں ایک بیان جاری ہوا جس کے مطابق بھارت نے نیپال کے کسی علاقے کو ہندوستان میں شامل نہیں کیا تاہم جو علاقے بھارت کے نقشے میں شامل کیے گئے ہیں ان کی ملکیت کا حق ہند وستان کے پاس ہے۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت نے نیپال کو معاملے پر خاموش رہنے کی تلقین کی ہے۔

نیپال پر بھارت کے مسلط ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ نیپال کی ضروریات کا بڑا انحصار بھارت پر ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات سے لے کر اشیائے خورد و نوش تک بھارت کے زمینی راستے سے نیپال پہنچا دیا جاتا ہے۔ نیپال معاشی لحاظ سے ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے اور اسی کم زوری کا بھارت بے دریغ فائدہ اٹھا رہا ہے۔

دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ نیپال کی فوج تعداد میں بہت قلیل اور کم زور ہے۔ ان کے پاس نہ جدید ہتھیار ہیں اور نہ ہی بھارت سے لڑنے کی صلاحیت۔ نیپالی حکومت چار و ناچار بھارتی احکامات کو بجا لانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے۔

تیسری وجہ ہندو مذہب ہے۔ نیپال میں ہندو مذہب کے پیروکاروں کی تعداد 80 فی صد سے زائد ہے۔ ہندو رسومات اور عقائد یکساں ہونے کی وجہ سے نیپال میں بھارت کو کسی حد تک قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

کھٹمنڈو کے سینماؤں میں بالی ووڈ کی کسی فلم کے ریلیز ہونے کے دن عوام کا سمندر امڈ آتا ہے۔ نیپالی زبان ہندی سے مختلف ہونے کے باوجود نیپال میں بھارتی ڈرامے دیکھے جاتے ہیں۔ نیپال کے ایف ایم چینلز پر نیپالی سے زیادہ ہندی گانے چلائے جاتے ہیں اور نیپالیوں کا ہیرو بھی شارخ خان، عامر خان یا سلمان خان ہی ہوتے ہیں۔

تاہم اب بھارت اور نیپال کے تعلقات میں تلخیوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے جس کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ نیپال اب بھارتی ظلم کے آگے ڈٹ جانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ نیپالی عوام میں حالیہ بھارتی نقشے کے جاری ہونے کے بعد مودی حکومت کے خلاف نفرت کی لہر بھی چل پڑی ہے۔ انند نیپال سے میرے ایک دوست ہیں اور جرمنی میں زیرِ تعلیم ہیں؛ حالیہ بھارتی اقدام سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی تو ان کے الفاظ یوں تھے، ”میں شرمندہ ہوں کہ بھارت کے نئے نقشے میں نیپال کے 6 ہزار ایکڑ زمین پر محیط علاقے کو انڈیا کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور نیپال میں کوئی اس کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔ میں نے اب بھارت سے شدید نفرت کرنا شروع کر دیا ہے۔“

انند کی بات درست ہے، نیپال فی الوقت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ بھارت کو ”منہ توڑ“ جواب دے سکے۔ تاہم نیپال آیندہ کے خطرات کو بھانپتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ حال ہی میں چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے دورۂ نیپال کے بعد اہم ترقیاتی منصوبوں پر کام کے آٖغاز کا عندیہ دیا تھا، اس تناظر میں نیپال پاکستان کی طرح چین کے ساتھ بھی روابط بڑھا سکتا ہے اور شاید بھارت اس بات کو ہضم نہیں کر پا رہا۔

مودی حکومت نے متنازعہ نقشہ جاری کر کے پاکستان اور چین کے بعد نیپال کو بھی اپنی دشمنی پر اکسایا ہے اور بھارت کے اس امر سے خطے کے امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ شمال میں چین، مغرب میں پاکستان اور مشرق میں نیپال، بھارت کے ظالمانہ رویے سے ناخوش اور بے زار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت کے خلاف ان ممالک کا مؤقف کس قدر مضبوطی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان نقشے کے معاملے کو سختی کے ساتھ رد کر چکا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …