جمعہ , 13 دسمبر 2019

ایران اور پاکستان عسکری سفارتکاری کے راستے پر گامزن

اسلام آباد: حالیہ سالوں کے دوران، پاک ایران اعلی فوجی حکام کے دوروں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور آج کل یہ پاکستانی آرمی چیف کا دوسرا سرکاری دورہ ایران ہے جس سے باہمی عسکری سفارتکاری کے فروغ کیلئے دو ہمسایہ اور دوست ممالک کا پختہ عزم ظاہر ہوتی ہے۔

بطور پاکستان کی مسلح افواج کے نمبر وان شخص کے "جنرل قمر جاوید” کے حالیہ دورہ ایران سے بعض خطی اور غیر خطی ممالک کیجانب سے دو ہمسایہ اور دوست ممالک کے تعلقات میں ڈراریں ڈالنے کی سازشوں کی عدم کامیابی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ پاکستانی سپہ سالار کا دوسرا سرکاری دورہ ایران ہے۔ انہوں نے اس سے پہلے بھی اکتوبر مہینے کے دوران ایک اعلی سطحی عسکری وفد کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کیا اور ایرانی مسلح افواج کے اعلی حکام سمیت صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحانی” اور ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف” کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے حالیہ دورہ ایران کے موقع پر بھی ایرانی صدر مملکت، وزیر خارجہ، ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل باقری، ایرانی فوج کے سپہ سالار میجر جنرل "سید عبدالرحیم موسوی” اور قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سکریٹری جنرل "علی شمخانی” کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

پاکستان کے سابق وائس ائیر چیف مارشل "قیصر حسین” نے پاکستانی آرمی چیف کے حالیہ دورہ ایران کے نتائج سے اطمنیان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک بہت ہی معقول شخص ہیں جنہوں نے خطے میں کشیدگی کے اختتام اور فرقہ واریت کیخلاف جنگ کو اپنی ترجیحات کے سر فہرست میں قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوجی کمانڈر کے دورہ ایران سے دونوں ممالک کے اتحاد کو مزید تقویت ملے گی اور خاص طور پر عرب ممالک اور ان کے ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات کی راہ کو بھی ہموار کر سکتی ہے۔

پاکستانی تجزیہ کار برائے مشرق وسطی اور پاکستان کے سیکورٹی امور "کامران یوسف” نے بھی پاکستانی آرمی چیف کا دوسرا سرکاری دورہ ایران کو دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی اور سیکورٹی شعبوں میں اعلی سطحی وفدوں کے تبادلہ کے سلسلے کی کڑی قرار دے دیا۔

ماہر سیاسی تجزیہ کار برائے افغان اور طالبان امور "محمد طاہر خان” نے مشترکہ سرحدوں میں قیام سلامتی، انتہاپسندی کی روک تھام، سرحدوں پر دہشتگرد عناصر کی نقل و حرکت کی روک تھام، اسمگلنگ کیخلاف جنگ اور افغان مسئلے کے جائزہ کو جنرل قمرجاوید باجوہ کے دورہ ایران کے اہم ترین مقاصد قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں اور خطے اور افغانستان کی صورتحال پر اس کے اثرات کے تناظر میں پاکستان کو خدشہ ہے کہ موجودہ صورتحال، باہمی علاقائی تعاون پر بُرے اثرات مرتب کریں لہذا ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی سپہ سالار کے حالیہ دورہ ایران کا مقصد بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام سے اسی حوالے سے تبادلہ خیال کرنے کا ہے۔

طاہرخان نے کہا کہ افغانستان کی حالیہ تبدیلیوں، افغانستان اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات اور افغانستان سے امریکی فوجی علیحدگی کے پیش نظر، ایران اور پاکستان بطور افغانستان کے دو اہم ہمسایہ ممالک کے اسی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوسکتے ہیں لہذا جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ ایران انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی نمل یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر "رضوانہ عباسی” نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران مشترکہ خطروں کا مقابلہ کرنے اور سرحدوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ایک موثر میکنزم کے درپے ہیں لہذا پاکستانی سپہ سالار کا حالیہ دورہ ایران اس حوالے سے بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے افغان مسئلے کے حل میں ایران اور پاکستان کے اہم کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کا افغان مسئلے کو سیاسی طریقوں اور مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کا ایک جیسا موقف ہے لہذا افغانستان سے امریکی فوجی علیحدگی کے بعد کی صورتحال میں ان دونوں ممالک کو کلیدی کردار حاصل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل، 2 مارچ کو دوبارہ انتخابات

تل ابیب: اسرائیلی پارلیمنٹ نیسٹ تحلیل کر دی گئی اس طرح اب گزشتہ ایک سال …