اتوار , 15 دسمبر 2019

امریکہ کے دل میں ایرانی عوام کا درد، حقیقت یا فسانہ؟

 

تحریر: ابو فجر لاہوری

امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹ کیا ہے کہ ’’ایران میں حکومت نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کا بے رحمی کیساتھ جواب دیا ہے۔ انٹرنیٹ چار دن سے زائد ہوگئے بند ہے، لیکن بہادر ایرانی عوام حکومت کے جبر کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت سامنے آ رہی ہے اور دنیا ایرانی عوام کی آواز کو سن رہی ہے۔‘‘ ایران میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کیخلاف جمعہ کے روز سے مظاہرے شروع ہوئے جو پرتشدد صورتحال اختیار کر گئے۔ ان مظاہروں میں مشتعل مظاہرین نے چند گاڑیاں، پٹرول پمپس اور دیگر املاک کو نذرآتش کیا اس تصادم میں مختلف قانون نافذ کرنیوالی فورسز کے 4 اہلکار بھی جاں بحق ہوئے جبکہ مظاہرین کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایران میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے اطلاعات تک رسائی میں مشکلات ہیں تاہم ایمنسٹی اور مغربی میڈیا جو ایسے مواقعوں پر ہمیشہ پروپیگنڈہ کرتا ہے، کے مطابق اب تک مظاہرین کی ہلاکتوں کی تعداد 106 ہے۔

ایران حکومت نے ان مظاہروں کو بیرونی سازش قرار دیا ہے اور اسے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا ہے۔ ایرانی فورسز نے اب تک ان پُرتشدد مظاہروں کو کنٹرول کر لیا ہے جبکہ ان مظاہروں کو پُرتشدد بنانے والے ’’شرپسند ماسٹر مائنڈ‘‘ بھی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان گرفتار ہونیوالوں کے تانے بانے ایران دشمن ملک سے ملتے ہیں جس کے ثبوت بھی عدالتوں میں فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ ایرانی حکام نے اس معاملے میں امریکہ کا ہاتھ قرار دیا ہے۔ ایرانی ٹی وی نے بھی عوام کو آگاہ کیا کہ ان مظاہروں میں تشدد کا عنصر ’’بیرونی سازش‘‘ کے تحت پھیلایا گیا جس کے بعد ایران کے عوام اپنی حکومت کے حق میں اور اِن پُرتشدد مظاہروں کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ ایرانی حکومت کے حق میں مظاہرے کرنیوالوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جسے یہ مغربی میڈیا نہیں دکھا رہا جبکہ پُرتشدد مظاہرے کرنیوالے چند درجن نوجوانوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ٹویٹ کرکے یہ کہنا کہ حکومتِ ایران مظاہرین کیساتھ ’’بے رحمی‘‘ سے پیش آ رہی ہے، اور 4 دن سے بند انٹرنیٹ سروس پر واویلہ کیا ظاہر کرتا ہے؟ کشمیر میں گزشتہ 3 ماہ سے بھارت کشمیری عوام پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ 3 ماہ سے انٹرنیٹ سروس بند ہے، روزانہ کی بنیاد پر قتل و غارت ہو رہی ہے۔ کشمیری لڑکیوں کو اغوا کرکے غائب کیا جا رہا ہے، نوجوانوں کو رات کے اندھیرے میں گھروں سے اُٹھا لیا جاتا ہے، کشمیری عوام گزشتہ 3 ماہ سے زائد عرصے سے محصور ہیں، ادویات ختم ہو چکی ہیں، پٹرول نایاب ہے، سیب کی فصل تباہ ہو چکی ہے۔ کاروبار زندگی مکمل ٹھپ ہے مگر امریکہ کو مودی سرکار کا یہ ظلم دکھائی نہیں دیا اور ایران میں 4 روز سے انٹرنیٹ بند ہونے کی بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو اس کی مذمت کرنا پڑ گئی ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کو ’’مظلوم‘‘ ثابت کرنے اور انٹرنیٹ کی سروس کی بندش پر دکھ ہونا ثابت کرتا ہے کہ ایران میں ہونیوالے مظاہروں کے پیچھے امریکہ خود ملوث ہے۔ انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے امریکہ کو یہ نقصان ہوا کہ وہ وہاں موجود اپنے ایجنٹوں سے رابطہ نہیں کر پا رہا اور ایرانی حکومت مظاہرے کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ امریکہ کو اگر ایران کے ’’مظلوم عوام‘‘ کا دکھ تھا تو کشمیر میں بسنے والے مظلوم بھی تو انسان ہیں، ان کیلئے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کیوں کوئی ٹویٹ کرکے مودی کی مذمت کیوں نہیں کی؟ ایرانی حکام کے مطابق ایران میں معیشت کی خرابی کی وجہ ایرانی حکومت کی پالیسیاں نہیں، بلکہ امریکہ کی اقتصادی پابندیاں ہیں، جس کی وجہ سے ایران میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ایرانی حکام کہتے ہیں کہ امریکہ نے کہا تھا کہ ایران پر اتنی پابندیاں لگاو کہ یہ ہمارے قدموں میں بیٹھ جائیں۔ ایرانی عوام کی اکثریت بھی یہی سمجھتی ہے کہ ایران کے مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہے، ایران کی حکومت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو روز سے ایران میں حکومت کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور ان مظاہروں میں شرکاء کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام اور ایرانی میڈیا مظاہروں کو بڑھاوا دینے میں امریکی مداخلت کو بے نقاب کر رہا ہے۔ گرفتار ہونیوالے چند شرپسندوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہیں ’’باہر‘‘ سے ہدایات ملی تھیں۔ ایرانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان شرپسند عناصر کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا جبکہ ایرانی حکومت کے حق میں مظاہرے کرنے والے ’’مرگ بر امریکہ‘‘ جیسے فلک شکاف نعرے لگا کر امریکی پابندیوں کی مذمت کر رہے ہیں۔ ادھر بچوں کے حقوق کے عالمی دن پر کشمیر میڈیا سروس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بچے سب سے زیادہ اذیت کا شکار ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاستی ظلم و ستم سے بچے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں 894 بچے شہید ہوئے جبکہ ہزاروں کو جیل بھیجا گیا جبکہ اس دوران شہید کئے گئے نہتے کشمیری شہریوں کی تعداد 95 ہزار 469 ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 1 لاکھ 7 ہزار 780 بچوں نے اپنے والد یا والدہ کوہمیشہ کیلئے کھو دیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی یہ رپورٹ کسی بھی صاحب دل کیلئے دل دہلا دینے کیلئے کافی ہے۔ آج دنیا ’’بچوں کا عالمی دن‘‘ منا رہی ہے اور کشمیر کے مظلوم بچے بھارتی مظالم پر آہیں بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا امریکہ کو کشمیر کے یہ مظلوم بچے دکھائی نہیں دیتے؟۔ بھارتی جیلوں میں وحشیانہ مظالم سہتے کشمیری بچے انسان نہیں؟؟ امریکہ کا یہ دوہرا معیار ہمارے حکمرانوں کیلئے بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے وزیراعظم یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم نے کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے، مگر پتہ نہیں وہ عالمی سطح کون سی ہے جہاں مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا ہے؟ یہاں ہمارے حکمرانوں کیلئے امریکہ کا دوہرا معیار آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے کہ امریکہ کو ایران میں 4 دن کی انٹرنیٹ بندش ’’ظلم‘‘ دکھائی دیتی ہے، مگر اسے کشمیر میں 3 ماہ سے محصور کشمیری دکھائی نہیں دیتے۔ وہاں کی بند انٹرنیٹ سروس نظر نہیں آتی۔ امریکہ کبھی بھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا اور امریکہ نے کئی مواقعوں پر یہ ثابت کیا ہے۔ مگر افسوس ہمارے حکمران اس کھلی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے۔ امریکہ وہ بچھو ہے جس کی فطرت کاٹنا ہی ہے۔ اس کی دوستی کسی طور پر مسلمانوں کو فائدہ نہیں دے سکتی۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …