اتوار , 15 دسمبر 2019

عرب امارات، محبان اہلبیتؑ کے سروں پر لٹکتی تلوار، زیرو ٹو

تحریر: روح اللہ طوری

لگ بھگ 10 سال قبل ابوظہبی کی شاہی حکومت نے فرقہ واریت پر مبنی ایک نہایت افسوسناک فیصلہ کیا، جسکے تحت ہر ایرے غیرے کو وہاں کام کرنے کی اجازت تھی۔ عیسائی، یہودی اہل کتاب کیا ہندو سکھ، حتیٰ دہریوں کو بھی وہاں ہر طرح کام کرنے کی اجازت حاصل تھی، مگر۔۔۔ ہاں اجازت جسے حاصل نہیں تھی، وہ صرف شیعہ تھے۔ اس حکمنامے کے تحت وہاں کام کرنے والے ہر اس شخص کو 02 (زیرو ٹو) سے شروع کسی سرکاری نمبر سے کال آتی۔ اور اسی کے باعث اس قانون کو لوگوں نے از خود زیرو ٹو سے موسوم کردیا۔ اور پھر اس کال کے بعد اسے اپنے پاسپورٹ سمیت فورا مرور (کچہری) میں حاضر ہونا پڑتا۔ وہاں مسئولین کی جانب سے کوئی مناسب وجہ بتائے بغیر، انہیں اپنے مستقبل کا خطرناک پروانہ تھما کر ایک ہفتے کے اندر اندر امارات کو خیرباد کہنا پڑتا۔ کچھ دن بعد اور آہستہ آہستہ لوگوں پر آشکار ہوا کہ جس بندہ خدا کے نام میں کہیں علی، حسن یا حسین موجود ہے، اس قانون کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اس قانوں کے زمرے میں آکر ہزاروں شیعوں سمیت سینکڑوں اہل سنت برادران کو بھی خراج دینا پڑا۔

زیرو ٹو کا اجرا سب سے پہلے ابوظہبی میں ہوا۔ لاکھوں مسلم اور غیر مسلموں میں سے ایک مخصوص فرقے کا انتخاب کرکے ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف شیعوں بلکہ علی، حسن و حسین کے ناموں سے موسوم اہل سنت برادران کو بھی یہ سرزمین چھوڑنی پڑگئی۔ اسکے کچھ عرصہ بعد دوبئی کے علاوہ امارات کی دیگر ریاستوں میں بھی اس قانون کا اجرا کیا گیا، یوں شارجہ، العین، فجیرہ، راس الخیمہ اور عجمان میں کام کرنے والے اہلیان و موالیان علی، حسن اور حسین کو اپنا سب کچھ یہاں چھوڑ کر پاکستان جانا پڑگیا۔ اس دوران بعض لوگوں کا کروڑوں بلکہ اربوں روپے کا کاروبار تو ڈوب ہی گیا۔ بلکہ بعض کو اپنی املاک مثلا ذاتی گاڑی، دوکان اور ہوٹل وغیرہ سے بھی محروم ہونا پڑا۔ کیونکہ پاسپورٹ پر تین یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی خروجی سٹیمپ لگنے کے باعث اسے نہایت کم وقت میں یہ سرزمین چھوڑنی پڑتی، چنانچہ وہ ایسے مختصر وقت میں اپنی جائداد کا سودا طے کرنے پر قادر ہی نہ ہوتا۔ دوبئی میں نرمی اور چھوٹ کے باعث بعض لوگوں نے کال سے پہلے پہلے اپنے ویزے ازخود کینسل کرادئے۔

دوبئی سے اپنے لئے نئے ویزوں کا بندوبست کراکے اپنے کاروبار کو جاری رکھا۔ چنانچہ نہ صرف دوبئی بلکہ دوبئی کے ویزوں پر ابوظہبی سمیت امارات کے کسی بھی ریاست میں انہیں کسی قسم کا مسئلہ نہیں تھا۔ یوں زیرو ٹو سے بچ نکلنے والوں نے اس تمام عرصے میں بغیر کسی روکاوٹ کے فائدہ اٹھا لیا۔ مگر یہ تھی آٹھ دس سال پہلے کی بات۔ اب چند ماہ سے، دوبئی کی حکومت کو بھی شاید قائل کردیا گیا ہے، کہ ابوظہبی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، وہ بھی متوالیان اہلبیت علیھم السلام پر یہ سرزمین تنگ کرے۔ چنانچہ متعدد کیس باقاعدہ مشاہدے میں آچکے ہیں۔ جس سے ثابت ہورہا ہے کہ دوبئی بھی ابوظہبی اور امارات کے دیگر ریاستوں کی سنت پر عمل پیرا ہورہا ہے۔ چند روز قبل دوبئی سے آنے والے ایک معزز و مکرم نے نام افشا نہ کرنے کی شرط پر اسلام ٹائمز کو بتایا کہ اسے صرف اسی بنا پر ڈیپورٹ کیا گیا کہ وہ شیعہ تھا۔ تاہم اسکا خیال ہے کہ حکومت دوبئی ابوظہبی کی طرح پرانے لوگوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتی، بلکہ اس نے شاید یہ تصمیم لیا ہے کہ نئے آنے والے افراد کی خوب تحقیق اور تفتیش کی جٓائے اور نئے آنے والوں میں سے کسی بھی شیعہ کو کہیں کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسکے پاس دوبئی کا لائسنس پہلے سے موجود تھا۔ چند سال پہلے وطن گیا تھا۔ تاہم بیروزگاری سے تنگ آکر چھ ماہ قبل دوبارہ دوبئی آیا۔ اس دوران خود اور دیگر یار دوستوں کی مدد سے مختلف کمپنیوں میں جاب جائن کرنے کی کوشش کی۔ مگر ہر جگہ سے نفی میں جواب آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ نام اور تعلق کے حوالے سے سوال کیا جاتا تھا۔ حتی ایک جگہ انٹرویو کے دوران اس سے دوٹوک انداز میں سوال کیا گیا کہ آپ شیعہ ہیں یا سنی؟۔ اسکے علاوہ ایک اور اہل سنت دوست، جسکا نام اہلبیتؑ میں سے کسی ایک بزرگوار کے نام سے مشتق اور مرکب ہے، نے کہا کہ اس ایک دفعہ ایک مخصوص دفتر طلب کیا گیا۔ وہاں اسکے توقع کے برعکس عجیب و غریب سوالات کیے گئے۔ نام کے بعد رہائش وغیرہ سے جب انکی کوئی تسلی نہیں ہوئی، تو شاید مجبور ہوکر انہوں نے اپنے مقصد کا آخری سوال داغ کر کہا۔ آپکا تعلق کس فقہ سے ہے۔ بندہ نے جب اہل سنت کا کہا۔ تو انہوں نے کہا کہ چلو خیر ہے۔ مگر یہ کیسا اتفاق ہے۔ پٹھان اور سنی ہوکر ایسا نام کیوں رکھا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہماری فیمیلی میں یہ روایت برابر اور آباو اجداد سے چلی آرہی ہے۔ یوں اسکی جاں چوٹ گئی۔

حکومت پاکستان کی ذمہ داری
حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ کہ وہ اپنے عوام کے روزگار اور دیگر ہر طرح کے مسائل کا خصوصی خیال رکھے۔ انڈین گورنمنٹ تمام عرب ممالک بلکہ دنیا بھر کے تمام ممالک میں اپنے شہریوں کے حقوق کے حوالے سے انکے ساتھ خصوصی معاہدے کرتی ہے۔ اور انکے حقوق کا پورا پوار خیال رکھتی ہے۔ انڈیا حکومت ہی سے مجبور ہوکر ابوظہبی اور دیگر کئی عرب ممالک میں مندر کی بنیاد پڑگئی۔ جبکہ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی خاطر کچھ کرنا تو درکنار شاید انکے ہاں میں ہاں ملارہی ہے، کہ وہاں بتوں کی پوجا کرنے کی آزادی تو ہے مگر شیعوں کو ذکر الہی کیلئے مساجد اور ذکر اہلبیتؑ کے لئے امام بارگاہوں کی اجازت نہیں۔ حکومت پاکستان شاید اس وجہ سے اس میں دلچسپی نہیں لے رہی کہ اسکے خیال میں اس سے حکومت اور ملک کو کوئی خاص فرق نہیں پڑرہا۔ تاہم ان سطور کے ذریعے حکومت پر آشکار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اس سے پہلے بھی جو لوگ مجبورا ابوظہبی سے لوٹ کر اپنے وطن میں بیروزگار بیٹھ گئے۔ تو انہوں نے یا تو یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کا رخ کیا، حکومت بلا تفریق اپنے تمام شہریوں کے مسائل و مشکلات کا پورا پورا خیال رکھے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …