اتوار , 15 دسمبر 2019

اسرائیل اپنی خیر منائے… (پہلا حصہ)

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو جن کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے ان دنوں بڑی محنت سے کچھ عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے دوستانہ تعلقات کی باتیں بار بار کر رہے ہیں ۔ اسی لئے انہوں نے مشکوک بیانات کا سہارا لیا ہے۔

ان کی کوشش یہ ہے کہ علاقے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی مسلسل بڑھتی طاقت اور اسرائیل کے محدود ہوتے اثرات اور فوجی تسلط سے اسرائیل کے اندرپھیلے خوف کو کسی طرح دور کریں۔

نتن یاہو، ایران کے بڑھتے خطرے اور ایران سے اسرائیل کے تصادم کے امکان کی بڑے پیمانے پر تشہیر کر رہے ہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ ان کی اس تشہیر سے کہیں زیادہ تیزی سے علاقے کے ممالک میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ شام میں بھی، جنگ یمن کے حوالے سے بھی اور عرب ممالک سے ایران کے بڑھتے تعلقات کے پہلو سے بھی سیاسی تبدیلیاں بڑی تیزی سے رونما ہو رہی ہيں۔

ہم اپنی بات اس مقدمے سے شروع کر رہے ہیں کیونکہ یہ ہماری نظر میں ضروری ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹس کے ٹوئٹر اکاونٹ پر یہ خبر لیک کی گئی کہ انہوں نے خلیج فارس میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے سامنے نیویارک میں ہونے والی ملاقاتوں میں یہ تجویز پیش کی کہ آپس میں عدم جارحیت کا معاہدہ کر لیا جائے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے جان بوجھ کر مشکوک ٹویٹ کیا کیونکہ خلیج فارس کے عرب ممالک میں تو کویت بھی شامل ہے اور کویت نے اس طرح کی ایک بھی ملاقات نہیں کی ہے۔

اسرائیل کے مسئلے پر کویت حکومت، عوام اور پارلیمنٹ سب ایک ساتھ ہیں۔ اس لئے کویت کبھی بھی اسرائیل کے ساتھ سیاسی، تجارتی یا کسی بھی طرح کا معاہدہ نہیں کر سکتا، عدم جارحیت کے معاہدے کی بات تو بہت دور ہے۔ اس کے علاوہ عمان اور قطر خلیج فارس کے وہ ممالک ہیں جن کے تعلقات ایران سے بہت اچھے ہیں، ویسے یہ دونوں ممالک، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے مسئلے پر کسی حد تک آگے گئے ہیں۔

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ نتن یاہو اگر ان عرب ممالک سے عدم جارحیت کا معاہدہ چاہتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان ممالک کی کونسی جنگ چل رہی ہے کہ انہیں عدم جارحیت کے معاہدے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ ان عرب ممالک میں تو امریکا، فرانس اور برطانیہ کی فوجی چھاونیاں ہیں۔

جاری…

بشکریہ

رای الیوم

عبد الباری عطوان

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …