اتوار , 15 دسمبر 2019

خارجہ پالیسی: سابق حکومتوں نے سیاسی اور ذاتی مفاد کو مقدم جانا؟

تحریر: ملک شفقت اللہ
پاکستان میں چند دہائیوں کے دوران اگر خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں تو صورتِ حال قابلِ ذکر نہیں۔ سیاسی قیادت کسی ایسے وزیر کو خارجہ امور کے حوالے سے آگے نہیں لاسکی جو پاکستان کی پوزیشن کو عالمی تناظر میں دیکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دیتا اور خاص اہداف کے تعاقب میں آگے بڑھتا۔

خاص طور پر پچھلے دس سال میں پاکستان میں حکومت کی ناکام خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ہم نے بڑا نقصان اٹھایا۔ مشرف دور کی پالیسیوں کو ناکامی سے دوچار کرنے اور اس کے تسلسل میں رکاوٹ ڈالنے سے ایک گمبھیر صورتِ حال نے جنم لیا۔ نواز شریف نے خارجہ امور کو سیاسی اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ تنازع کشمیر جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سرِ فہرست رہتا ہے، اس پر حکومت غیر سنجیدہ نظر آئی۔ اور اداروں کے مابین کھنچاؤ کی پالیسی کے ساتھ ملکی سالمیت کے محافظ اداروں کی ساکھ بھی خطرے میں ڈال دی گئی۔ مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے بجائے کاروباری مفادات کے لیے محض چند ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے منشور کے تحت پاکستان بھی زبوں حال اور جبر کا شکار اقوام کی حمایت اور مدد سے کبھی گریز نہ کرنے کا عزم رکھتا ہے اوراس ضمن میں عالمی امن مشن کے تحت پاک افواج ایک عرصے سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ افریقا کے قحط و جنگ زدہ ممالک میں امداد اور امن کے قیام کے لیے کوششیں سب کے سامنے ہیں۔ پاک فوج کے تحت یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور پاکستان نیوی نے ایک بار پھر افریقی ملک موریطانیہ میں انسانیت کی خدمت کی مثال قائم کی ہے۔ موریطانیہ میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کرنے کے ساتھ مشن کمانڈر نے موریطانیہ کی عسکری و سول قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں جو اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہیں کہ اس وقت تجارتی محاذ پر نئی منڈیوں کی تلاش اور ملک کی اقتصادی صورتِ حال میں استحکام کے لیے دنیا بھر سے روابط کو فروغ دینا ضروری ہے۔ موریطانیہ پاکستان میں تجارتی میدان میں شراکت دار ہے۔ پاکستان، اس ملک کو عسکری ساز و سامان اور مہارت و تربیت فراہم کرتا آ رہا ہے۔

یہ افریقا کی گیارہویں بڑی قوم اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ موریطانیہ سے تجارتی و عسکری سطح پر تعاون بڑھانا ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ موریطانیہ شمال مغربی افریقا کا بحر اوقیانوس پر واقع ایک ملک ہے۔ یہاں کے باسی عربی اور فرانسیسی زبانیں بولتے ہیں۔ اس ریاست کو 1960 میں فرانس سے آزادی نصیب ہوئی تھی۔ پاک فوج کے اس طبی مشن کا ایک مقصد پاکستان کے مثبت اور پرامن اور مددگار ملک کے امیج کو اجاگر کرنا تھا۔ پاکستان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی مصنوعات آسانی سے پہنچ میں آنے والی منڈیوں تک پہنچائے۔ افریقا کے ممالک ان میں سے ایک ہیں جن میں سی پیک کی تکمیل کے بعد رسائی آسان ہو گی۔ یہ بات طے ہے کہ پاکستان کو معاشی ترقی اور استحکام کے لیے اپنی بر آمدات میں اضافہ کرنا ہوگا جس سے ایک طرف تو زرِمبادلہ ملک میں آئے گا اور دوسری طرف ملک میں روزگار کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ اس کے لیے موریطانیہ اور خطے کے دیگر ممالک انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

اگر عالمی جغرافیائی صورتِ حال اور معیشت کے ماہرین سے پوچھا جائے تو ان کے نزدیک اسی خطے میں اہم ممالک میں ایتھوپیا اور صومالیہ بھی ہیں۔ بحیرۂ عرب کی پٹی پر واقع ان ریاستوں تک رسائی بھی آسان ہے، لیکن یہ علاقے جنگ کی لپیٹ میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں امن و امان کے قیام کی کوششوں میں پاکستان کو ضرور کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کا چین کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے آگے آنا اور ملک سمیت خطے کی ترقی و خوش حالی کے لیے کوششیں کرنا قابلِ تحسین ہے۔ تاہم سی پیک کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک سے تعلقات کو فروغ دینے اور تجارتی اہداف طے کرنے کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …