جمعہ , 24 جنوری 2020

چین کا مشرق وسطیٰ میں امریکا کی ‘خود غرض’ پالیسیوں پر تنقید

بیجنگ: چین نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی پالیسیوں کو ‘خود غرضی’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن پرامن خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چین کے نائب وزیر خارجہ شین جیاوڈونگ کا کہنا تھا کہ ‘خطے میں بڑا اثر رکھنے والا سپر پاور امریکا خود غرض ہے اور اس نے یک طرفہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے’۔

بیجنگ میں دو روزہ مڈل ایسٹ سیکیورٹی فورم سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ پالیسی کمزور کی قیمت پر طاقت کے ساتھ ہے جو خطے کی سلامتی کی صورت حال کا ایک اہم عنصر رہا ہے’۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی شام سے اپنی فوج کو واپس کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں جبکہ ایران اور چین پر معاشی پابندیاں بھی عائد کردی ہیں جس کے باعث تیل کی دولت سے مالا مال خطے میں اس کے معاشی منصوبے نمایاں ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ شی جن پنگ نے چین کے صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے مختلف ممالک میں چینی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی عملی کوششیں شروع کر رکھی ہیں جس میں عرب لیگ کے رکن ملک جبوتی میں چین کے پہلے عسکری بیس کی تعمیر بھی شامل ہے۔

چین نے اپنے ہمسایہ اور دوست ملک پاکستان کے ساتھ بڑے پیمانے پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی شروع کردیا ہے اور اس کو پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا نام دیا گیا ہے۔

بیجنگ میں منعقدہ فورم کے افتتاحی سیشن میں اردن کے سابق نائب وزیراعظم جواد عنانی کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ چین خطے میں سیاسی اور معاشی سلامتی کے حوالے سے بڑا کردار ادا کرسکتا ہے’۔

رپورٹ کے مطابق مقررین نے مشرق وسطیٰ میں امریکی کردار پر چین کی تنقید کی حمایت کی اور فلسطین کے حوالے سے چین کے تعاون اور عراق وار کے حوالے سے پالیسی کو سراہا۔

موریطانیہ کے وزیرخارجہ احمد اولد تیغادی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘مشرق وسطیٰ میں امریکا مخالف جذبات سے چین اور روس دونوں کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ حکمران طبقہ اور عوام دونوں امریکی پالیسیوں کے متبادل کی امید لگائے بیٹھے ہیں’۔

کانفرنس میں پہلی مرتبہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ سفارتی مشنز چین کے ہیں جو امریکا سے بھی زیادہ ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان معاشی حوالے سے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرکے اپنے ملکوں میں درآمدات کو مشکل بنادیا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے حال ہی میں سی پیک پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس منصوبے سے پاکستان پر چین کے قرضوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی جس کو چین نے یکسر مسترد کردیا اور پاکستان نے بھی اس بیان کو رد کردیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کیساتھ توانائی کے تعاون کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہیں: پاکستان

اسلام آباد:پاکستانی وزیر اعظم کے خصوصی ایلچی برائے تیل امور نے کہا ہے کہ ہم …