منگل , 10 دسمبر 2019

جنگ اور اسلحہ کی تجارت پر امریکی بقا کا انحصار

تحریر: رضا حجت

جنگ کے حامی پیچھے ہٹنے پر تیار نظر نہیں آتے۔ آج کوئی ایسا شخص نہیں جو اس حقیقت سے آگاہ نہ ہو کہ مغربی ایشیا کا خطہ انتہائی حساس صورتحال سے گزر رہا ہے اور کسی بھی وقت ایک ہلکی سی چنگاری جنگ کی آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف "بے نتیجہ انقلابوں” نے خطے کو ایک نئی مشکل کا شکار کر دیا ہے۔ آمرانہ حکومتی نظاموں کے خلاف انجام پانے والی کوششوں کا بے فائدہ ثابت ہو جانے سے عوام کے اندر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اور حتی بعض یورپی ممالک اپنی آمدن اور سرمائے کی فراہمی یا جنگ کی آگ بدستور جلے رہنے یا منظم انداز میں دہشت گردی کو دوبارہ تشکیل دینے یا خطے میں اپنی مسلسل ناکامیوں کو قبول نہ کرنے کی خاطر ہمیشہ کی طرح خطے میں اپنے ڈکٹیٹر اتحادیوں کو اسلحہ فروخت کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ اس بارے میں تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکہ خطے خاص طور پر سعودی عرب میں مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

دوسری خبر یہ ہے کہ امریکہ اور فرانس سعودی عرب کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس فیصلے کا مقصد ایران کے مقابلے میں سعودی عرب کی حفاظت بیان کیا ہے! جبکہ اقتصاد کے شعبے میں نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصاد اسٹنگ لیٹز جیسے معروف عالمی ماہرین اقتصاد نے خبردار کیا ہے کہ مغرب ایک بار پھر اقتصادی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ واضح ہے کہ مغرب خاص طور پر یورپ ابھی گذشتہ اقتصادی بحران سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر پایا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع ہونے والی تجارتی جنگ اقتصادی بحران کی واپسی کا باعث بن سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تجارتی جنگ کسی کے فائدے میں نہیں ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ اور یورپی ممالک نے اپنی نجات کا راستہ پسماندہ ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے میں تلاش کیا ہے۔ حال ہی میں مغربی ایشیا میں امریکہ کے ایک اعلی سطحی فوجی کمانڈر نے اس آگ کو مزید ہوا دیتے ہوئے کہا ہے: "پینٹاگون نے مئی کے مہینے سے اب تک 14 ہزار مزید فوجی، ایک طیارہ بردار جنگی بیڑہ اور لاکھوں ٹن اسلحہ مشرق وسطی خطے میں پہنچایا ہے تاکہ ایران سے درپیش خطرات کا سدباب ہو سکے۔”

یہ امریکی فوجی کمانڈر کہتا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود خطے میں ایران سے درپیش خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بیان اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں دشمن کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کا ایک اور پہلو بھی ہے جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ خطے میں بدامنی پر مبنی اقدامات جاری رکھیں اور یونہی مغربی طاقتوں سے اسلحہ خریدتے رہیں۔ اس بارے میں جس واقعے پر بہت زیادہ تاکید کی جاتی ہے اور اسے بنیاد بنا کر ایران کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے وہ سعودی عرب کی آرامکو تیل تنصیبات پر ہوائی حملے ہیں۔ اگرچہ یمن کے مجاہدین اس کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں اور ایران بھی اس بات پر زور دے چکا ہے کہ وہ جو اقدام بھی انجام دیتا ہے اعلانیہ طور پر اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ حال ہی میں رویٹرز نیوز ایجنسی نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب اب تک آرامکو تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی اپنے دعوے کے قابل قبول ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

فرانس کے وزیر دفاع فلورینس پارلے نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد سعودی عرب کو میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا: "آئندہ کچھ دنوں میں یہ پیکج سعودی عرب بھیج دیا جائے گا اور اسے بہت جلد آپریشنل کر دیا جائے گا۔” لیکن یہ مسئلہ صرف ایران اور خطے میں مغربی طاقتوں کے روایتی اتحادی ممالک کو مضبوط بنانے کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ خطے میں چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی ملحوظ خاطر ہے۔ اسی طرح ترکی کی جانب سے مغرب اور نیٹو کو چھوڑ کر جدید اسلحہ خریدنے کیلئے روس کا رخ کرنا بھی اہم ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں خطے میں اپنے اتحادی ممالک کا خود سے دور ہو کر روس کی جانب جھکاو سے بھی خوفزدہ ہیں۔ اگرچہ اس وقت تک مغربی ممالک کا سب سے بڑا مقصد اسلحہ کی فروخت کے ذریعے آمدن کا حصول ہے۔ امریکہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر حتی داعش کی تشکیل نو کی بھی کوشش میں مصروف ہے۔ لہذا امریکہ خطے کو بدستور بدامنی اور عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ جنگ کے ذریعے عالمی سیاست میں داخل ہوا، جنگ کے ذریعے عالمی سیاست میں اپنی موجودگی کو جاری رکھا اور جنگ کے ذریعے زندہ ہے۔ جنگ اور بدامنی کا خاتمہ امریکی سیاست کا اختتام ثابت ہو گا۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ سید جواد حسین رضوی بانی پاکستان قائد اعظم …