منگل , 10 دسمبر 2019

آزاد چائے والا کی وڈیو اور خواتین کی تعلیم

عزالہ محسن رضوی

آج کل سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوزگردش کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنے متنازع مواد کی بنا پر وائرل ہو جاتی ہیں۔ خاص کر وہ جو خواتین سے متعلق ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چالیس سالہ جبر نے ایک ایسے مائنڈ سیٹ کو جنم دیا ہے جو خواتین کو ترقی کرتے اور آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔یہ وہ خوفزدہ مائنڈ سیٹ ہے جو سمجھتا ہے کہ عورت اگر تعلیم یافتہ ہوگی تو اپنے حقوق سے نا صرف آگاہ ہوگی بلکہ اُن کے لیے آواز بھی اُٹھائے گی اور جبرِمسلسل پر مبنی حاکمیت کے سحر سے آزاد ہو جائے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج کل چاہے وہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، مسلسل عورت کی تذلیل و تضحیک پر مبنی منفی کرداروں کی صورت ڈرامہ سیریل اور وڈیوز کی بھرمار ہے۔یہ وہی مائینڈ سیٹ ہے جو ٹی وی چینل پر بیٹھ کر کہتا ہے کہ برابری چاہتی ہو تو مرد کی طرح ریپ کر کے دکھاؤ! ایسا کہتے ہوئے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ کتنے بچے اور بچیاں آئے روز ریپ کا شکار ہوتے ہیں اور تمام عمر اس ٹراما سے باہر نہیں نکل پاتے، ذہنی مریض بن جاتے ہیں

یہ تازہ وڈیو کسی آزاد چائے والا کی ہے جو تعلیم یافتہ لڑکیوں سے شادی کے خلاف ہرزہ سرائی پر مبنی ہے۔ یقیناً یہ وڈیو اس قابل نہیں کہ اپنی تحریر کے ساتھ اپ لوڈ کی جائےالبتہ اس پر بات کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اس میں خواتین کے تعلیم یافتہ ہونے، ڈگری یافتہ ہونے کو ٹارگٹ کیا گیا ہے وہ بھی شادی کے حوالے سے جو اس معاشرے کے بہت سے والدین خاص طور پر مڈل کلاس والدین کے لیے ایک حساس موضوع ہے۔ہمیں یہ وڈیو ایک خاتون دوست نے بھیجی اور ہماری رائے مانگی، ہمارے لیے ضروری تھا کہ رائے دینے سے پہلے وڈیو دیکھیں سو مجبوراً اس نیم خواندہ شخص کا پیج وزٹ کرنا پڑا اور وڈیو دیکھی جو عام حالات میں شاید ایک منٹ بھی دیکھنا گوارا نہ ہوتا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے پیج بنانا اور جاہلانہ گفتگو سے بھرپور وڈیوز بنانا، بے معنی بحث و تمحیص، یہ سوچے بنا کہ اس سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ ہماری نظر میں یہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسے افراد سوشل میڈیا کی بدنامی کا باعث ہوتے ہیںیہ صاحب صرف سستی شہرت کے متمنی ہیں یا ذہنی مریض ہیں۔

کہتے ہیں انسان کی گفتگو،اُس کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے۔ تمام تر گفتگو ‘میں’ کے گرد گھوم رہی ہے۔ اور یہی تمام خرابی کی جڑ ہے۔ شادی تب کامیاب ہوتی ہے جب میں نہیں ‘ہم’ اُس شادی کا حصہ ہو۔ تعلیم انسان کو humble بناتی ہے، ‘میں’ کو ختم کرتی ہے، دوسروں کو سمجھنے اور حالات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت دیتی ہے یعنی شعور بخشتی ہے۔یہ شخص کیا جانے کہ تعلیم ہوتی کیا ہے؟ جو تعلیم کو محض رٹنےکا عمل گردانے، غالباً وہ خود تو رٹنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے اور اپنی جہالت اور اپنے احساسِ کمتری کو فخریہ انداز میں بیان کر رہا ہے۔ ایسی وڈیوز اور باتیں صرف ایک خاص مائینڈ سیٹ رکھنے والے لوگوں کو ہی اپیل کر سکتی ہیں جو خواتین کے تعلیم حاصل کرنے کے خلاف ہیں، تعلیم و تہذیب سے آراستہ اور با شعور افراد کو نہیں!

ہم نے عموماً جتنے بھی تعلیم یافتہ نوجوان دیکھے ہیں، وہ صرف اور صرف تعلیم یافتہ ہمسفر چاہتے ہیں۔ تعلیم ہوگی تو ذہنی مطابقت ہوگی، ایک دوسرے کے مسائل کی سمجھ اور وسائل کا ادراک ہو گا۔ زندگی کا معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی۔ جب دونوں مل کر زندگی کی گاڑی کھینچیں گے تو روپے پیسے کی قدر کا احساس بھی مدِنظر ہوگا۔ تعلیم یافتہ اور باشعور خواتین ناجائز مطالبات سے گریز کرتی ہیں۔ اس کے برعکس غیر تعلیم یافتہ خواتین کو ناجائز مطالبات کرتے ضرور دیکھا ہے کیونکہ وہ شوہر کے وسائل اور مسائل کی سمجھ بُوجھ نہیں رکھتیں

یہ بات بھی بجا کہ کُچھ خواتین ایسی ضرور ہوں گی جو بظاہر تعلیم یافتہ ہوں اور شعور نہ رکھتی ہوں تو اس میں تعلیم کو قصوروار ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔ ٹھیک اُسی طرح جیسے بہت سے مرد ڈگریاں ضرور رکھتے ہیں مگر علم سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا ویسے ہی قحط ہے اُس پر آبادی کے ایک بڑے حصّے کے حصولِ علم کی راہ میں سازشیں اور رکاوٹیں کھڑی کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ کیا اس طرح ہم آگے بڑھ سکیں گے؟ ہر ذی ہوش انسان کو ان سوالات پر غور ضرور کرنا چاہئے۔خواتین پر بلا جواز تنقید کرنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کے لیئے اپنے دو شعر پیش خدمت ہیں، اس امید پر کہ وہ غور کریں

وہ کہتا ہے کہ اُس کی آنکھ سے دُنیا کو دیکھوں

جو بھی خواب دیکھوں اُس کی مرضی سے ہی دیکھوں

کوئی جائے اور اُس کو یہ بتائے، کہ یہ مُمکِن نہیں ہے

میری آنکھیں تو قدرت کی ودیعت ہیں، انہیں کیا پھوڑ ڈالوں

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم نے نیشنل سائنس و ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے نیشنل سائنس و ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا۔ پاک فوج …