منگل , 10 دسمبر 2019

 

(ابلاغح نیوز) لیبرپارٹی کے قائد جیرمی کوربن نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خطرے میں برطانیہ کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے، جو غیرملکی فوجی مداخلت کی حمایت کرتی ہے جس کے نتیجے میں عراق جنگ شروع ہوئی جس کی اس وقت برسراقتدار خود ان کی لیبرپارٹی کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے حمایت کی تھی۔ جیرمی کوربن نے یہ بات لندن برج حملےکے بعد یارک میں تقریر کرتے ہوئے کہی، جیرمی کوربن نے وزیراعظم بورس جانسن پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا خوشامدی ہونے کاالزام عاید کیا اور کہا کہ برطانیہ کے لئے اب بھی وقت ہے کہ وہ امریکی صدر کادم چھلا بننے سے گریز کرے، انھوں نے متنبہ کیا کہ برطانیہ کی جانب سے بار بار فوجی مداخلت کی وجہ سے دہشت گردی اور انتہاپسندی مسئلہ حل ہونے کے بجائے اور بڑھ گیاہے۔انھوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ ناکام ہوچکی ہے۔انھوں نے کہا کہ آج دنیا عراق میں بےڈھنگے طریقے سے کی گئی فوجی مداخلت کے نتائج کی فضا میں سانس لے رہی ہے،انھوں

نے دعویٰ کیا کہ میں نے اس کی مخالفت کی تھی۔انھوں نے الزام عاید کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی خارجہ پالیسی کا دم چھلا بن کربورس جانسن برطانیہ کو خطرے سے دوچار کررہے ہیں۔جیرمی کوربن نے لندن برج کے واقعے میں لوگوں کی جانب سے غیر معمولی جرات کے مظاہرے کی تعریف کی انھوں نے پولیس کی جانب سے کی گئی فائرنگ کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور جعلی خود کش جیکٹ پہنے ہوئے تھا اور لوگوں کی جان خطرے میں تھی، انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی ذمہ داری دہشت گردوں ،ان کو مالی امداد فراہم کرنے والوںاور ان کوبھرتی کرنے والوںپر عاید ہوتی ہے،انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ صرف خارجہ پالیسی پر سوال اٹھا کر کم نہیں کیاجاسکتا بلکہ بعض اوقات برسراقتدار آنے والی حکومتیں بھی اس کو کم کرنے کے بجائے ان کو بڑھاوا دیتی ہیں،انھوں نے کہا کہ 16سال قبل میں نے عراق میں فوجی مداخلت اور اس پر قبضے کے خلاف متنبہ کیاتھا میں نے کہاتھا اس سے کشیدگی ،نفرت ،مصائب اورمایوسی پھیلے گی،اور ایسا ہوا اور آج ہم اسی کے نتائج بھگت رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عملاً ناکام ہوچکی ہےشمالی افریقہ ،مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں برطانیہ کی بار بار فوجی مداخلت سے یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا ہے جرمی کوربن نے بجٹ میں کٹوتی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی معنوں میں سیکورٹی کم خرچ میں نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے مزید جنگوں میں شرکت کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں سعودی عرب کی حمایت میں جو ہر جگہ حقوق انسانی کادشمن ہے یمن میں انسانی بحران کو طول دینے ،پڑوسیوں کے معاملات میں مداخلت کرنےاور صحافیوں کو قتل میں ملوث ہے ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹے جانے کاخدشہ ہے اس پالیسی سے ہم محفوظ نہیں ہوسکیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن سے سوڈانی فوج واپس بلانے کے فیصلے کا خیرمقدم

صنعا: یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے یمن سے فوج …