جمعہ , 17 جنوری 2020

نوازشریف، 2007 سے پہلے اور بعد

مظہر عباس

چند برس پہلے جاتی امراء میں میاں نوازشریف نے انٹرویو ختم ہوتے ہی اس وقت کامقبول بھارتی گیت گنگنانا شروع کر دیا۔میں نے ان سے کہا "میاں صاحب آپ مجھے یہ ریکارڈ کرنے دیں لیکن میاں صاحب اپنی مخصوص مسکرا ہٹ کے ساتھ میری درخواست رد کردی "نہیں مظہر صاحب، جانے دیں، یہ تو بس ایسے ہی گنگنا دیا” اور اس کے بعد انہوں نے معروف بھارتی گلوکار کشور کمار کے اس گیت کے مزید بول گنگنانا شروع کر دیے۔

میاں صاحب کے پسندیدہ گانو میں سے یہ ایک تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ کراچی میں نواز شریف کے وکیل نوید خواجہ نے مجھے بتایا کہ 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے جب ن لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں لانڈھی جیل میں قید کیا تو اس دوران میاں صاحب اکثر یہ نغمہ گنگناتے تھے۔

بیگم کلثوم کے انتقال کے بعد سے میاں نواز شریف کی صحت مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ عارضہ قلب کے ساتھ اب دیگر امراض کا شکار ہو گئے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ جولائی 2016 کے عدالتی فیصلے اور نا اہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر "ووٹ کو عزت دو” مارچ اور عدالت سے 10 سال کی سزا سنائے جانے کے باوجود اپنی لندن سے واپسی اور قید کے بعد وہ اس صورت حال سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔

نواز شریف اب لندن میں ہیں اور اس مرتبہ انتہائی شدید بیماری کے حالت میں ہیں جس کا اعتراف خود حکومتی میڈیکل بورڈ کر چکی ہے۔میاں صاحب کی گرتی صحت اور بیماری کی سنگینی نے وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر حکومتی عہدیداروں کو تشویش میں مبتلا کیا جس کے بعد انہوں نے ابتدا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کو صرف ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی منظور دے دی۔

تاہم بعد میں اس سہولت کے ساتھ شرائط عائد کر دی گئیں جنہیں نواز شریف کی طرف سے میاں شہباز شریف نے عدالت میں چیلنج کیا ۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس اپیل کی فوری سماعت کرتے ہوئے ان کو علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ، اپنے تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ان کے بیرون ملک قیام میں توسیع ان کے معالج کے تحریری رپورٹ کی حکومت کی منظوری کے بعد ہوسکے گی۔

شریف خاندان اور حکومت کے درمیاں ایک ہفتہ طویل قانونی اور طبی جنگ لڑی گئی جس کا فیصلہ آخر کار لاہور ہائی کورٹ نے دونوں فریقوں کو مطمئن کرنے کے بعد کیا۔

میاں نواز شریف کا سیاسی ماضی دلچسپ اور متنازع رہا ہے، مثال کے طور پر میاں صاحب ریکارڈ پر تو ملک کے تین بار منتخب وزیراعظم رہے لیکن ایک بار بھی وہ اپنی مدت پوری نہیں کر سکے۔ اس کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ن لیگ کے ادوار اقتدار میاں صاحب کا بری فوج کے سربراہان اور دیگر ریاستی سے کبھی نزدیکی اور کبھی دوری کا رشتہ رہا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ اوروزیراعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو کی مذاحمتی آواز کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاست کی سرپرستی میں اقتدار پر براجمان ہونے والا شخص ، خود بی بی کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے باوجود ، 2007 کے بعد خاص طور پر پاکستان کے سب سے بڑے اور اہم صوبہ پنجاب سے مذاحمتی جماعت بن گیا۔

انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کے ریاست اور حکومت وقت کی جماعت ہونے کی چھاپ کو تبدیل کیا اور اسے ایک مضبوط حزب اختلاف کی جماعت کے طور پر منوایا ۔ اس انداز سیاست پر ان کی جماعت آج بھی قائم ہے۔

یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ تاریخ میاں صاحب کو کس طرح یاد رکھے گی، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ اور تین بار منتخب وزیر اعظم کے عہدے پر فائز شخص یا ایک ایسا بدنام رہنما جسے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اقامہ ظاہر نہ کرنے اور بیرون ملک تنخواہ نہ لینے پر نا اہل کیا اور بعد ازاں نیب کی ایک عدالت نے 10 سال کی سزا سنائی تھی۔

ایک ایسا شخص جسے "گاڈ فادر اور سسیلین مافیا ” جیسے القابات دیے گئے ساتھ عدالت عالیہ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ۔ ایک رہنما جو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 یعنی "صادق اور امین ” قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لیکن میاں صاحب کے متحرک ووٹ بینک اور ان کی بھرپور حمایت کرنے والے اس فیصلے کو سیاسی انتقام اور بدنام کرنے کی سازش قرار دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے کسی اہم رہنما یا ممبران اسمبلی و سینیٹ نے میاں سے علیحدہ ہو نے یا پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا جس کے باعث ن لیگ کا ووٹ بینک اب بھی برقرار ہے۔

تاہم، میاں صاحب کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ آیا وہ صحت یاب اور تندرست ہونے کے بعد عملی سیاست میں واپس آ کر مخالف قوتوں کا مقابلہ کریں گے یا نہیں۔ ممکنہ طور پر اس کے جواب کا انحصار نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل کے فیصلے پر ہوگا ۔ لیکن اگر فیصلہ خلاف آیا تو پھر ان کی صاحبزادی مریم نواز ان کی میراث کو لے کر چلیں گی لیکن اگر وہ بھی سیاست سے باہر کر دی گئیں تو میاں شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کا ایک مضبوط پارٹی کے طور پر برقرار رہنے کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب اگر خدانخواستہ نواز شریف کی صحت حد سے زیادہ خراب ہو جاتی یا ان کو کچھ ہو جاتا تو وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح مقبولیت حاصل کر لیتے ۔ یہ ایک ایسی صورت تھی جو ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان کے حق میں برا ہوتا۔ اس لیے نواز شریف کا جلد مکمل صحت یا ب ہوکر وطن واپس آنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔

کراچی میں مقیم صحافی ہونے کے ناطے ، میں میاں نواز شریف کو جاننے کا دعویٰ نہیں کرسکتا جیسے میں بینظیر بھٹو یا الطاف حسین یا آصف علی زرداری اور حتی کہ عمران خان کو بھی جانتا تھا۔ تاہم میاں صاحب کو کم جاننے کے باوجود میں پوری دیانتداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ 2007 کے بعد میں نے میاں نواز شریف کو 80 اور 90 کی دہائی کے مقابلے میں ایک بدلا ہوا سیاستدان پایا ۔ واضح رہے کہ جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں میاں صاحب کی تربیت اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل اور حسین حقانی جیسے لوگوں کر رہے تھے۔

سن 2016 ءکے عدالتی فیصلے سے پہلے میں نے صرف ایک بار سن 2000 ء میں سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے طیارہ ہائی جیکنگ کیس کے فیصلے کے دن شدید ذہنی دباو کا شکار دیکھا تھا۔ اس روز جب جج جسٹس رحمت حسین جعفری نے کیس میں میاں شہباز شریف سمیت تمام کو رہا کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو عمر قید کی سزا سنائی ۔ جوں ہی جج نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع انسداد دہشت گردی کی عدالت میں صحافیوں اور سیاستدانوں سے کھچاکھچ بھرے کمرے میں مقدمے کا فیصلہ سنایا، وہاں موجود نواز شریف کی صاحبزادی مریم نوازنے پوری آواز سے "گو مشرف گو” کا نعرہ لگایا۔

1997 میں مسلم لیگ نواز دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی اور میاں نواز شریف ایک انتہائی طاقتور وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے۔ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد میاں صاحب نے ایک اردو بولنے والے اور نسبتاً کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے جنرل پرویز مشرف کو آرمی کے سربراہ کے عہدے پر ترقی دے دی۔ اسی دور میں صدارتی آرڈیننس 58-B 2کا استعمال کرتے ہوئے بے نظیر حکومت کا خاتمہ کرنے والے صدر فاروق لغاری اپنے عہدے سے علیحدہ ہو گئے اور ان کی جگہ نواز شریف کے معتمد خاص رفیق تارڑ کو صدر بنا دیا تھا۔

اس سے قبل میاں صاحب کے دور حکومت میں میاں صاحب کے خلاف توہین عدالت کا ایک مقدمہ سننے والے اس وقت کے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ کو کارروائی کرنے سے روکنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت پر دھاوہ بولا گیا۔ اس واقعے کے بعد اعلی عدلیہ کے جج صاحبان دو حصوں میں تقسیم کو گئے۔

ایک گروپ کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ تھے جبکہ دوسرے گروپ کی سربراہی مرحوم سعید الزماں صدیقی کر رہے تھے۔ اس چپقلش کا خاتمہ جسٹس سید سجاد علی شاہ کے عہدے سے برطرفی پر ہوا ۔ ان تمام واقعات کے تناظر میں دو تہائی اکثریت رکھنے والے میاں صاحب سمجھ رہے تھے کہ وہ اب پاکستان کے طاقتور ترین وزیراعظم ہیں ۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کی حکومت کا اچانک خاتمہ کر دیا جائے گا۔

میاں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو آرمی کا نسبتاً کمزور سربراہ سمجھنے کی سنگین غلطی کی جس کا احساس انہیں اس وقت ہوا جب جنرل پرویز مشرف نے شہباز شریف کے ذریعے نواز شریف کو پیغام بھجوایا کہ وہ انہیں جہانگیر کرامت نہ سمجھیں۔ با خبر ذرائع کہتے ہیں کہ اس پیغام نے میاں صاحب کو خوفزدہ کر دیا اور انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی سری لنکا سے واپسی کا انتظار کیے بغیر ہی ان کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا کر جنرل ضیاء کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا۔ لیکن میاں صاحب کو معلوم نہیں تھا کہ آرمی جرنیل پرویز مشرف کی حمایت میں سامنے آ جائیں گے اور یہی واقعہ ان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔

تاہم ان تمام منفی واقعات کے باوجود میاں نواز شریف کو پاکستان میں موٹر وے کا جال بچھا کر پورے ملک کو ملانے، ذرائع آمدورفت کو آرام دہ بنانے کے ساتھ سفر کو انتہائی کم وقت میں کرنے کے اقدام پر اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ منصوبہ ان کے بعد آنے والی تمام حکومتوں نے جاری رکھا۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف حکومت کے خلاف منفی بیانات کے باوجود اب تک ان سے جڑی ہے اور یہی ان کی عوامی طاقت کا مظہر ہے۔

میاں صاحب نے یقیناً اپنی سیاسی حکمت عملی کو مثبت انداز میں تبدیل کیا اور 2013 کے بعد کچھ اچھی مثالیں بھی قائم کیں جیسے انہوں نے بلوچستان میں قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کو حکومت بنانے کی اجازت دی یا خیبر پختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت کو گرانے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن وہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے معاملات سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ اس خرابی میں سر فہرست 2013 کے بعد سندھ میں کیا جانے والا آپریشن ہے جس کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری سے تعلقات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان عدم اعتماد آج بھی برقرار ہے اور دونوں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم دونوں میں جو ایک بات مشترکہ ہے وہ ہے ان کے صحت سے جڑے سنگین مسائل ، میاں صاحب کو اپنے برطانیہ میں ڈاکٹر وں سے معائنہ کروانے کی ایک بار ملک سے باہر جانے کی اجازت آخرکار عدالت سے مل گئی ۔ اس سے پہلے عدالت ہی نے ان کی خراب صحت کے باعث انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سزا معطل کر کے اپنی مرضی کے معالجین سے علاج کروانے کی اجازت دے دی لیکن آصف زرداری کا معاملہ مختلف ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا مقدمہ کراچی منتقل کر دیا جائے ساتھ ہی ان کو بھی اپنے معالجین سے علاج کروانے کی سہولت مہیا کر دی جائے لیکن ابھی تک ان کا معاملہ تعطل کا شکار ہے۔

ان رہنماؤں میں دوسری مشترک بات یہ ہے کہ دونوں نے اپنی سیاست اپنی آئندہ نسل کو منتقل کر دی ہے۔ اب بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز متحرک ہو کر اپنی اہلیت ثابت کر رہے ہیں۔

حالیہ دور میں ان دونوں رہنماؤں کا سیاسی حریف بھی ایک ہی ہے اور وہ ہیں وزیراعظم عمران خان جو ابھی تک اپنے کرپشن کے خلاف بیانیہ پر قائم ہیں اور وہ ان دونوں پر سنگین بدعنوانی کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ تاہم ان کے لیے میاں نواز شریف کی صحت معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ وہ کہتے رہے ہیں کہ ان کی جنگ ایک صحت مند اور تندرست نواز شریف سے ہے اور اگر خدانخواستہ ان کی صحت کو کچھ ہوتا ہے تو اس کے عمران خان کی پنجاب میں مقبولیت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور تحریک انصاف کے لیے ملک کے سب سے بڑے اور اہم ترین صوبہ میں اپنے قدم جمائے رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ یہ محاظ آرائی کی صورت حال کس نہج پر پہنچ کر اختتام پزیر ہوتی ہے تاہم یہ کہنا مشکل نہیں کہ میاں نواز شریف کا سزا سنائے جانے کے باوجود پاکستان واپس آنا اور جیل جانے کو ترجیح دینا ان کی سیاست میں ایک اہم ترین سنگ میل ضرور ثابت ہوا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …