جمعہ , 24 جنوری 2020

تمہاری ہمدردی ہماری حب الوطنی پر داغ ہے

خرم شہزاد

ہندوستانی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ سنادیا اور مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دے دی، جبکہ مسلمانوں کو قریب ہی مسجد کےلیے جگہ دینے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں نے اپنا ردعمل دے دیا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان کی حکومت اور عوام بھی اپنا ردعمل دینے میں مصروف ہیں۔ جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس طرح کے کسی ردعمل کے اظہار سے ہم کیا مقاصد حاصل کرلیں گے؟

کیا ہمارے ردعمل کے بعد ہندوستانی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی یا پھر حکومت دوبارہ ایک اور کمیشن بناکر اس معاملے کو مزید کچھ سال لٹکانے کی کوشش کرے گی؟ حکومتی ردعمل تو سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک ان واقعات پر، جو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کریں، اپنا ردعمل جاری کرتے ہیں لیکن پاکستانی عوام بابری مسجد کےلیے جس طرح سے جذباتی ہورہی ہے، اچنبھے کی بات ہے۔

اگر ہمدردی کرنے اور ردعمل دینے کی بات ہو تو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والے اعلان پر پاکستانیوں کو اپنا بھرپور ردعمل دینے کی ضرورت تھی۔ ہم ستر سال سے جس خطے کو مقبوضہ کہہ رہے تھے، وہ خطہ تو دراصل اب مقبوضہ ہوا ہے کہ اس سے پہلے اس کی اپنی ریاستی حیثیت بحال تھی۔ جنگ جاری تھی، ہندوستان قبضہ کرنے کی اپنی کوشش میں تھا تو کشمیری اس قبضے کے خلاف ڈٹے ہوئے تھے۔ ہماری اخلاقی سفارتی اور بہت حد تک کی عملی مدد کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ تھی، لیکن جب یہ سب ختم ہورہا تھا اور کشمیر بھارت کی ایک اسٹیٹ میں تبدیل ہونے کے عمل میں تھا تو ہم اس سب کو روکنے کے بجائے سڑکوں پر دھرنے اور آزادی مارچ میں مصروف رہے۔ لوگ، میڈیا اور حکومت سب اس آزادی مارچ میں اس قدر مصروف تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہ چلا کہ کب ہماری شہ رگ پر دشمن عملی طور پر مکمل قابض ہوچکا ہے۔

اب اس کے بعد چاہے سو سال ہم کشمیر اور کشمیریوں کےلیے اپنے ردعمل دیتے رہیں، وہاں کے مظالم کی دہائیاں دیتے رہیں، عالمی سطح پر ہماری کون سنے گا؟ بلکہ الٹا ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب اس سارے عمل کو روکا جاسکتا تھا، جب ہندوستان پر دباؤ ڈالا جاسکتا تھا، اس وقت تم لوگ کہاں تھے؟ جناب! اس وقت ہم مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج تھے کیونکہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر نہیں، ٹماٹر تھے۔ جو تین سو روپے کلو ہونے کا ڈھونگ رچا ہوا تھا۔ یقیناً عالمی رہنما کہیں گے کہ بھیا پھر اب بھی جاکر ٹماٹر ہی انجوائے کریں اور کشمیر کا ڈرامہ بند کردیں۔

اگر ہمدردی کرنی اور ردعمل دینے کی بات ہو تو جب بنگلہ دیش میں حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسیاں دی جارہی تھیں، تب ہمیں اپنا ردعمل دینے کی ضرورت تھی۔ کیونکہ ان لوگوں پر مقدموں میں باقاعدہ پاکستان کا نام لیا جاتا تھا۔ پاکستان سے محبت اور پاکستان کےلیے کام کرنا ان کے جرائم میں شامل تھا۔ لیکن ایک کے بعد ایک رہنما پھانسی چڑھتا چلا گیا اور پاکستانیوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ کسی کی ناک پر مکھی نہ بیٹھی۔ نہ کسی کو ہمدردی کرنے کا خیال آیا نہ ردعمل دینے کی ضرورت کا احساس ہوا۔ جماعت اسلامی بذات خود خاموشی سے اپنے پرانے رہنماؤں اور بیٹوں کو پھانسی چڑھتا دیکھتی رہی اور ’رام بھلی کرے گا‘ والا محاورہ سچ ہوتا چلا گیا۔

سوال یہ نہیں ہے کہ علاقائی اور عالمی معاملات کے ساتھ سیاسی، سماجی اور معاشرتی معاملات میں ہمیں کس قدر سمجھ بوجھ حاصل ہے، لیکن یہ سوال بہرحال ضرور ہے کہ کیا ہمیں پتہ ہے کب اور کس سے ہمدردی کرنی ہے اور کب کس بات پر ردعمل دینا ہے؟ کیا ہمیں پتہ ہے کہ ہماری ہمدردی اور ردعمل کا نتیجہ اس شخص کو کس صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے، جس سے اپنا تعلق نبھانے کےلیے ہم اوتاؤلے ہوئے جاتے ہیں؟ اگر ہم ان سوالوں کے جواب تلاش کرلیں تو شائد ہندوستانی مسلمانوں کی مشکلات کسی طور کم ہوسکتی ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کے قیام کی بنیاد ہی دونوں مذاہب کےلیے اپنا ملک تھا۔ لیکن پھر بھی ایک بڑی تعداد ہندوؤں کی ایسی تھی جس نے پاکستان سے جانے سے انکار کردیا تھا۔ ویسے ہی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان کے بجائے ہندوستان کو ترجیح دی۔ اب اس صورت حال میں ہندوستان کو بہرحال ماننا چاہیے کہ پاکستان صرف مسلمانوں کا ہی ملک نہیں ہے، بلکہ وہاں ہندو بھی رہتے ہیں اور اپنی مرضی سے رہتے ہیں۔ انہیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ پاکستان کا ہندو پورے کا پورا پاکستانی ہے اور اس کے پاکستانی ہونے سے اس کے ہندو دھرم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بالکل اسی طرح ہمیں یعنی پاکستانیوں کو بھی صرف اپنے پاکستان پر توجہ دینی چاہیے۔ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے خوامخواہ میں چاچے مامے نہیں بننا چاہیے۔ جبکہ انہوں نے نہ کبھی ہم سے کسی مدد کی فرمائش کی ہے اور نہ کسی طرح کا مطالبہ کیا ہے۔

مجھے ستر سال میں کسی ہندوستانی مسلمان کی طرف سے ایسا کوئی بیان یاد نہیں پڑتا کہ فلاں مسئلے پر پاکستان ہمارے لیے آواز اٹھائے۔ ہمیں بھی ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوستانی مسلمان ہی سمجھنا چاہیے اور بات بے بات ان کی طرف سے بڑھکیں مار کر دوسروں کو ایسا کوئی موقع نہیں دینا چاہیے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھائیں اور ان سے پوچھیں کہ اگر تم اتنے ہی دیس بھگت ہو تو پھر ہر دوسرے دن سرحد پار سے تمہارے لیے آواز کیوں سنائی دیتی ہے؟ تمہارے ان سے کیا سمبندھ ہیں؟

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بجائے ہم اپنی بچگانہ حرکتوں سے ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگائیں، ہمیں اپنے ملک میں پاکستانیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہاں کہیں مذہب کی بنیاد پر اور کہیں زبان کی بنیاد پر، کہیں قوم تو کہیں کسی امارت اور غریبی کی بنیاد پر اتنی نفرتیں اور تقسیم جنم لے چکی ہیں کہ اس سب کے درمیان پاکستان اور پاکستانیت کو ڈھونڈنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ہندوستان میں رہنے والے خود اپنے بارے میں بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں، ہم سے آبادی میں بھی زیادہ ہیں اور محب وطن بھی۔ اس لیے ہمیں اپنے آپ اور اپنے ملک پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور شائد یہی ایک درست کام ہوگا، جو ہم کرسکتے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …