ہفتہ , 14 دسمبر 2019

"اسرائیل” میں ہرپانچ میں سے ایک بچہ بھوکا اسکول جاتا ہے

تحریر: حسیب اصغر

قابض ریاست اسرائیل کا نام آتے ہی اس کی خونی خفیہ ایجنسی موساد اس کی  اسلحہ سازی کی صنعت اوراس کے عیارترین یہودی سیاستدانوں کاخیال آتا ہے جن کی سازشوں اور تخریب کاری سے پوری دنیامتاثر ہورہی ہے، اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا اثرروسوخ دنیا کے بیشترممالک پر ہے لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسرائیل میں غربت اس تیزی سے بڑھ رہی ہے جس نے صیہونی پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

صیہونی ریاست کے ظلم و جبر کا شکار فلسطینیوں میں غربت کوئی چونکا دینے والی بات نہیں ہے صیہونی ریاست نے فلسطین کے 90 فیصد ملک اور تمام معدنیات پر قبضہ کیا ہوا ہے اور فلسطینیوں کو ان کے ہی ملک سے نکالنے کیلئے ہر غیرقانونی اور غیر انسانی حربہ استعمال کیا جارہا ہے جس سے پوری دنیا واقف ہے لیکن فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے ان غیر انسانی اقدامات پر تنقید کرنے کی کسی میں اخلاقی جرات نہیں  اس طرح اگر فلسطینی غربت کا شکار ہیں تو یہ کوئی خبر ہی نہیں ہے لیکن یہاں خبر یہ ہے کہ دنیا کی آٹھویں غیر اعلانیہ جوہری طاقت اور عالم اسلام کے قلب میں خنجر کی حیثیت رکھنے والے اسرائیل جس کا لٹریسی ریٹ دنیا کے پانچ  بڑے ممالک میں آتاہے جس کے اسلحہ ساز صنعتیں دنیا کو جدید ترین اسلحہ فروخت کرتی ہیں اور جو ملک آئندہ ایک صدی کی منصوبہ بندی کرتا ہے وہاں  غربت  اس تیزی سے پھیل رہی ہے جس نے صیہونی ریاست کے پالیسی سازوں کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

ترقی پزیر ممالک میں ایسے منظر بارہا دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں معصوم بچے کوڑے دانوں سے خوراک چن کر کھاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں لیکن اگر بات کی جائے دنیا پرحکمرانی اور گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے والی صیہونی ریاست اسرائیل  کی تو شائد بہت سے لوگوں کو یقین نا آئے کہ اسرائیل میں غربت کا یہ عالم ہے کہ یہاں اسرائیلی بچے کوڑے دانوں سے خوراک تلاش کرتے دیکھے جاسکتےہیں۔

اسرائیل کے عبرانی زبان میں شایع ہونے والے سب سے بڑے اخبار یدیعوت احرونوت نے اپنی رپورٹ میں  فلسطین پر قابض ریاست اسرائیل کے حوالے سے غربت کے حیران کن اعداد و شمار پیش کئے ہیں جس کے مطابق  ہزاروں اسرائیلی  قابض ریاست میں غربت اور مفلسی کی زندگی بسرکر رہے ہیں، اسرائیل میں فقر و تنگدستی بڑا مسئلہ بنتا جارہاہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ریاست کے پالیسی سازوں اعلیٰ عہدیداروں نے حالیہ انتخابات میں شکست کھانے والے اسرائیلی وزیراعظم بیجمن  نیتن یاھو سے ملک میں غربت کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیلی سیاسی جماعت لیبر پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار اسحاق ہرٹزک نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو کا غربت کے مسئلے سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غربت اسرائیل کے لئے اسٹریٹجک خطرہ ہے۔لیبر پارٹی کے ایک اور سینئر عہدیدار، ایسٹک شمولی نے بھی اقتصادی مسائل کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا۔

شمولی نے کہا ، “اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ غریبوں کی اکثریت محنت کش لوگ ہیں،” غربت کے خاتمے اور عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے حکومت کو چاہیے کہ معاشرتی اہداف کو قانون میں شامل کرے  ہمارے پاس حکومت کے کھوکھلے بیانات جو تشویش کا باعث ہیں۔

اسرائیلی ریسرچ انسٹیٹیوٹ  نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کی  آبادی میں سے 2 ملین سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں ایک ملین تین لاکھ ادھیڑ عمر کے افراد ہیں جبکہ باقی 18 سال یا اس سے کم عمر کے بچے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی  یہودی معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ایک چوتھائی صہیونی بچے رفاہی فلاح و بہبود کے محتاج ہیں ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ افراد کو ایک وقت کا کھانا نصیب نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان بچوں میں سے پانچ  فیصد بچے کوڑے دانوں اور سڑکوں کے کناروں پر کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ لیٹٹ ادارہ جو دس سال سے زیادہ عرصے سے اسرائیل کی معیشت اور اس ریاست میں پائی جانے والی غربت پر تحقیقات انجام دے رہا ہے، اس نے 2015 میں ایک رپورٹ میں شائع کیا کہ اسرائیل کی کل آبادی کا  22  فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق یہودی گھرانوں میں بچوں کی صورتحال تشویشناک ہے اس لیے کہ ہر تین اسرائیلی بچوں میں ایک بچہ غریب ہے یہاں تک کہ 5 فیصد بچے بغیر ناشتہ کئے اسکولوں میں جاتے ہیں جبکہ 11فیصد بچوں کے والدین انہیں تین وقت کا کھانا کھلانے کی توانائی نہیں رکھتے,15 فیصد والدین اپنے بچوں کے لیے مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔

اسرائیل میں سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال  اور غربت کے باعث گزشتہ 10 سالوں میں تقریبا20ہزار کے لگ بھگ اسرائیلی جرمنی، کینیڈ، اٹلی اور امریکہ میں مقیم ہوچکے ہیں کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی معاشی پریشانیوں کی وجہ سے مقبوضہ فلسطین کو چھوڑ کر دیگر ممالک میں بسنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں زیادہ ٹیکسوں اور کم اجرت کی وجہ سے اسرائیلیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

تازہ ترین سروے کے مطابق گزشتہ پندرھ برس میں اسرائیل میں غربت کی لکیر سے نیچے افراد کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے، اسرائیل کے اقتصادی ماہرین کے مطابق تین سال قبل دوسرے انتفادا کے شروع ہونے کےبعد فلسطین کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے اور اسرائیل میں بھی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔بینک آف اسرائیل کے اس سروے میں کہا گیا کہ اسرائیل میں سیاحت ختم ہو کر رہ گئی ہے جبکہ امریکہ اور مغرب میں ہائی ٹیک کے بحران کے منفی اثرات اسرائیل پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

اسرائیل میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت پر یہودیوں کی آبادکاری پر ضرورت سے زیادہ اخراجات کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فلسطینیوں کی زیادہ سے زیادہ زمین کے حصول کیلئے ضرورت سے زیادہ اخراجات کررہی ہے ۔

اسرائیل میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت بلیواینڈ وائٹ پارٹی جس نے حالیہ ہونے والے کنیسٹ انتخابات میں واضح برتری حاصل کی ہے  نے نیتن یاھو کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ نیتن یاھو شدت پسند ہیں اور انھوں نے اپنے طویل ترین دور اقتدار میں یہودیوں کی بہبود کے کسی بھی منصوبے پر کام نہیں کیا ہاں لیکن انھوں نے یہودی بستیوں کی تعمیر میں جو تیزی دیکھا ئی وہ وقت کی ضرورت نہیں تھی ، ان کو یہودیوں کی بہبود روزگار اورمعیشت کی بہتری کے اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔

دنیا میں مقیم دیگر لوگ ممکن ہے کہ اس غیر قانونی ریاست کو اپنی خوابوں کی سرزمین سمجھتے ہوں لیکن یہاں مسئلہ صرف معاشی بدحالی کا ہی نہیں ہے یہاں ایک بڑا مسئلہ نسل پرستی کا ہے یہودی نسل پرست ہیں اور اس نسل پرستی میں انکا مذہب بھی ان کو ایک کرنے  میں ناکام ہے، اسرائیل میں مقیم اشکنازی یہودی سیاہ  فام یہودی جن کو ’’مرزاحی یہودی‘‘ کہا جاتا ہے اور دیگر ممالک سے اسرائیل میں آباد ہونے والے یہودیوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ اسرائیلی قانون کے تحت دنیا کے کسی بھی ملک میں آباد یہودیوں کو اسرائیلی شہریت دیدی جاتی ہے، اس قانون کو ’’واپسی کا قانون‘‘  کہا جاتا ہے۔

فلسطین پرقابض صیہونی نے اسرائیل میں عددی برتری کیلئے دنیا بھر سے یہودیوں کو اسرائیل میں مقیم ہونے کی دعوت عام دی ہوئی ہے جس کے تحت پوری دنیا سے یہودی اسرائیل میں آکر آباد ہونے کے مجاز ہیں اس ضمن میں غریب افریقی ملک ایتھوپیاسے ہزاروں کی تعداد میں سیاہ فام یہودیوں کو اسرائیل میں لاکر آباد کیا گیا ہے۔ لیکن نسل پرست اسرائیلی یہودیوں نے انھیں کبھی اسرائیلیوں کے برابر درجہ نہیں دیا یہاں تک کے اس غیر قانونی ریاست نے بھی ان یہودیوں کے ساتھ نسلی امتیاز جاری رکھا ہے جس کی مثال حالیہ احتجاجی تحریک ہے جس نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب سمیت پورے اسرائیل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

یہ احتجاجی تحریک ایک ایتھوپیائی یہودی نوجوان کے قتل کے بعد شروع ہوئی جس کو اسرائیلی پولیس نے گولی ماری تھی اس قتل کے بعد پورے اسرائیل میں نسل پرستانہ فسادات شروع ہوئے احتجاج کرنے والے سیاہ فام نوجوان کا کہنا تھا کہ ’’ہم قتل ہونے سے بچنے کیلئے ایتھوپیا سے نقل مکانی کرکے اسرائیل آئے تھے۔ مگر یہاں بھی ہماری جان محفوظ نہیں۔

سیاہ فام یہودیوں کا کہنا ہے کہ سفید فام یہودی انہیں اپنے اسکولوں میں داخلہ نہیں دیتے اور انہیں اسرائیل میں مساوی حقوق حاصل نہیں۔ یہاں تک کہ کالوں کے خون کو بھی سفید فام یہودی نجس سمجھتے ہیں، سیاہ فام یہودی اسرائیل میں غلاموں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں۔

ایتھوپیائی شہری کئی عشرے گزرنے کے بعد بھی اسرائیل میں سفید فام اشکنازی یہودیوں کی نسل پرستی کا شکار ہیں۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مرکز کی جانب سے کی گئی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ ایتھوپیائی یہودی جنہیں ’’مرزاحی یہودی‘‘ کہا جاتا ہے، اشکنازی یہودیوں سے کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں پیدا ہونے والے اشکنازی یہودی، مرزاحی یہودیوں کی نسبت دگنے اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ 2014ء میں ہونے والی ایک تحقیق کی بنیاد پر اوسطاً اشکنازی یہودیوں کی آمدن مرزاحی یہودیوں سے 36 فیصد زیادہ ہے۔

ایسی بھی اطلاعات  ہیں کہ حبشی یہودیوں کی افزائش نسل روکنے کیلئے ان کی عورتوں کو مخصوص ادویات دی جاتی ہیں۔ اسرائیل پہنچنے والی مہاجر عورتوں کو Depo Provera نامی دوا پلائی جاتی ہے، تاکہ وہ حاملہ نہ ہوسکیں۔

نسلی امتیاز کا یہ عالم ہے کہ 2013ء میں اسرائیل کی ایک رفاہی انجمن نے ایتھوپین نژاد سیاہ فام رکن پارلیمنٹ سے خون کا عطیہ لینے سےبھی معذرت کرلی تھی۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں سرگرم ریڈ ڈیوڈ کریسنٹ کو وہی مقام حاصل ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرنے والی ریڈ کراس اور ہلال احمر جیسی رفاہی انجمنوں کو حاصل ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی ایتھوپین نژاد سیاہ فام خاتون رکن نینا ٹامانو شاٹا ایوان میں عطیہ خون کیمپ میں آئیں اور انہوں نے خون کا عطیہ دینے کی خواہش ظاہر کی تو ریڈ ڈیوڈ کریسنٹ کی انتظامیہ نے انہیں بتایا کہ انہیں کسی ایتھوپین نژاد یہودی سے خون کا عطیہ نہ لینے کے احکامات ہیں۔ اس ڈائیلاگ کو وہاں موجود کیمرے نے محفوظ کرلیا تھا۔

اسرائیل کی حالیہ معاشی، سیاسی اور بدترین نسلی امیتاز کی صورتحال سے ایسا لگتا ہے کہ قابض ریاست بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے یہاں حضرت علی کرم الله وجهه کریم کا وہ تاریخی قول یاد آرہا ہے آپ علیہ سلام نے فرمایا کہ کفر کانظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …