پیر , 20 جنوری 2020

ٹیکنالوجی کا آسیب

   

                                                         عباس عالم
دنیا کا سیاسی کلچر کس طرف جا رہا ہے؟ کیوں جارہا ہے؟ ہم اس کے اثرات سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اور اس مسئلے کا تدارک کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن سے اس وقت دنیا کی ہر سنجیدہ اور آئیڈیالوجی رکھنے والی جماعت کو نبرد آزما ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ یہ وہ مسئلہ ہے جو اپنے آپ کو درست اور دوسروں کو غلط سمجھنے اور ثابت کرنے سے حل نہیں ہو پائے گا۔ اس کو حل کرنے کے لیے مسئلے کے بنیادی اسباب پر غور کرنا پڑے گا اور یہ غور بھی شاید مسئلے کو حل کرنے میں زیادہ مدد نہ کرسکے لیکن کم ازکم ذہن کی راہیں اور سوچ کی راہ داریاں کشادہ کرنے میں ضرور معاون اور مددگار ثابت ہوگا۔ ہمارے ہاں تو خیر ابھی اس مسئلے کا پورے طور پر ادراک بھی نہیں کیا گیا ہے لیکن دنیا میں کہیں کہیں اس مسئلے پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ ہم چاہیں تو اس غور وفکر سے جڑ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے پہلے ہم کو ایک ایسا نیٹ ورک وجود میں لانا ہوگا جو ہمارے اور غور و فکر کرنے والے ان لوگوں کے درمیان رابطے کے پل تعمیر کر سکے۔ دیکھیے اس امر سے تو ہم سب اچھی طرح آگاہ ہیں کہ یہ دور جذباتیت کا دور ہے اس عہد میں جذباتیت بکتی ہے۔ ہر طرح کی جذباتیت… جھوٹی جذباتیت، سچی جذباتیت، گہری جذباتیت، اتھلی جذباتیت، لسانی جذباتیت، مذہبی جذبات، نظریاتی جذباتیت۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ جذباتیت سے جڑے ہر طرح کے نعرے پر کشش ہیں۔ ظاہر ہے یہ وہ فضا ہے جہاں عقل تو پہلے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ ہو جاتی ہے۔ یہ جذباتیت کا دوردورہ کیوں ہوگیا اور یہ مسئلہ حل کیسے ہوگا۔ چلیے ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اصل میں ان معاملات پر غور کرنے والے لوگ کہتے ہیں یہ وہ عہد ہے جس میں بنیادی اصول بدلنا شروع ہوچکے ہیں اور ہم ایک ایسے بدلتے ہوئے عہد میں سانس لے رہے ہیں جس میں تبدیلی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ یعنی تبدیلی ٹیکنالوجی کی سطح پر تو آ چکی ہے لیکن ذہنی سطح پر اس تبدیلی کو ایک میچور انداز میں قبول کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔
کمیونیکیشن کی دنیا میں انقلاب آچکا ہے یعنی کمیونیکیشن کے جدید ترین ٹولز ایجاد ہوچکے ہیں۔ ان کا استعمال عام ہو چکا ہے لیکن بنی نو انسان کی میچوریٹی ان سے بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ مطلب یہ کہ آج کل نیٹ ورک سے جڑی ڈیجیٹل مشینوں کا ایک ازدحام ہے۔ یہ اطلاعات کے ریلے کو مسلسل بہا کر ہمارے کانوں اور آنکھوں سے ذہن تک پہنچا رہا ہے۔ یہ ٹول ہمارے لیے نئے ہیں لیکن اس قدر موثر ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر فرد تک اطلاع پہنچا سکتے ہیں۔ پہلے ہم اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ علم حاصل کرنے کے لیے شاید خواندگی اور لکھنا پڑھنا ضروری ہے لیکن اب سوشل میڈیا پر پھیلتی ہوئی اطلاعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ شرط ختم ہو چکی ہے۔ آپ پڑھے لکھے ہوں یا نہ ہوں آپ تک موثر پیغام رسانی سو فی صد ممکن ہے۔ علم نہیں تو اطلاعات تک رسائی تو اب سبھی کے لیے ہے۔ اطلاعات کے اس طاقتور تیزرفتار اور اندھے بہاؤ نے پورے معاشرے میں اور ہر ادارے میں ایک ایسی تبدیلی آنا شروع ہوچکی ہے جس کے اثرات کو ناپنے کا کوئی ذریعہ کم از کم ہمارے پاس تو بالکل نہیں ہے۔
تصاویر، آوازوں، ویڈیوز کو ملا جلا کر کیا تاثر پیدا کرنا ہے کیسے ان میں سے کسی بھی عنصر کو تبدیل کرنا ہے اور کس طرح کسی ایک چیز کو بدل کر پیغام کی حرکیات کو کچھ سے کچھ کر دینا ہے۔ یہ کھیل اب بہت عام ہو چکا ہے اور ہم سب اس کے چشم دید گواہ ہیں۔ اس کھیل میں ہوتا یہ ہے کہ ایک موثر پیغام آپ تک بہت جلدی پہنچتا ہے۔ بہت سارے زاویوں سے پہنچتا ہے۔ بہت ساری حسیات کو متاثر کرتا ہے اور بہت مرتبہ پہنچتا ہے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے بے شمار لوگوں تک یہ پیغام بے شمار ذرائع سے پہنچ جاتا ہے اور چند گھنٹوں میں اکثریت کو جذباتی سطح پر اپنا ہمنوا بنا لیتا ہے۔۔ پھر اقلیت کے پاس خاموش رہنے یا آواز میں آواز ملانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ ایسے میں کسی بھی گروپ کی قیادت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ اب پیغام قیادت کی جانب سے نہیں بلکہ کسی انجان ٹیکنالوجی کی جانب سے براہ راست نچلی سطح پر موجود کارکنوں کو متاثر کرتا ہے اور چشم زدن میں ان کو اپنی رو میں بہا کر لے جاتا ہے۔ لوگ اپنی رائے بنا لیتے ہیں اور پھر کسی بھی اور بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یوں رائے سازی کا عمل بجائے بالائی سطح پر شروع ہونے کے سب سے نچلی سطح سے شروع ہوجاتا ہے۔ اور ان لوگوں سے شروع ہوجاتا ہے جو سب سے نوجوان ہوتے ہیں۔۔ سب سے جذباتی ہوتے ہیں… اور کسی بھی پیغام سے سب سے جلدی اثر پزیر ہو جاتے ہیں۔
دنیا کے سیاسی کلچر کا مطالعہ کرنے والے تقریباً تمام دانشور اس امر پر اتفاق کرتے ہیں کہ اطلاعات کی اس فراوانی نے اور نچلی سطح پر اطلاعات کی اس تیز ترین رسائی نے سیاسی عمل کے روایتی ڈھانچے کو تتر بتر کر دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی کلچر کا اس وقت یہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جس پر ہر اس سیاسی جماعت کو غور کرنے کی ضرورت ہے جو کارکنوں تک پیغام رسانی اور ان کی رہنمائی کرنے پر یقین رکھتی ہے کیونکہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا کوئی سیاسی جماعت کوئی اور مسئلہ حل کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔ اس لیے چین ہو یا انڈیا یورپ ہو یا برازیل لوگ اس مسئلے کی نزاکت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اور پوری تندہی سے سوچ رہے ہیں یہ مسئلہ کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس مسئلے کو بے حد اہمیت دینی چاہیے اور ان تمام لوگوں سے رابطے استوار کرنے چاہییں جو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا تو کسی بھی ادارے یا سیاسی جماعت میں ڈھا نچہ تو باقی رہ جائے گا لیکن ڈھانچے کے اندر موجود روح میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آجائے گی۔ یہ کچھ ایسا عمل ہوگا جیسے کسی فرد پہ آسیب کا سایہ پڑ جائے۔ یوں دیکھنے میں تو وہ فرد وہی جانا پہچانا فرد ہو جس کو آپ ہمیشہ سے جانتے ہیں پہچانتے ہیں۔ لیکن دراصل اس کے قالب میں موجود روح ایک آسیب کے نرغے میں آ چکی ہو اور یوں وہ فرد جانا پہچانا ہونے کے باوجود آپ کی رسائی سے بہت دور جا چکا ہوں۔ انسانوں پر آسیب کا سایہ پڑتا ہے یا نہیں؟ ہمیں معلوم ہے کہ یہ ایک متنازع بحث ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ انسانوں پر آسیب کا سایہ پڑتا ہو یا نہ پڑتا ہو… اداروں قوموں پراور سیاسی جماعتوں پر ٹیکنالوجی کے آسیب کا گہرا اور مہیب سایہ پڑچکا ہے۔ اب ان کے قالب میں ایسی تبدیلیاں آرہی ہیں جن کا ان کے وژن اور طرز فکر سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ سایہ… پاک ہوگا یا نہیں اور ہوگا تو کیسے؟ نہ ہوا تو کیا ہوگا؟ ان سوالات کا حل نکلے نہ نکلے کوئی سوچے تو سہی اور نہ سوچے تو کم سے کم ایسے لوگوں سے رابطہ ضرور قائم کرے جنہوں نے اس مسئلہ پر سوچنے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …