جمعرات , 6 اگست 2020

سوشل میڈیا ایک نوع کے عذاب سے کم نہیں!

سید محمد اشتیاق
سوشل میڈیا ایک ایسا موثر ذریعۂ ابلاغ ہے جس سے جہاں سیاسی اور سماجی و معاشرتی مسائل، واقعات و حادثات کی خبریں پل بھر میں صارفین تک پہنچ جاتی ہیں، وہیں اخبارات اور ویب سائٹس پر شائع شدہ کالمز اور مضامین بھی بذریعہ فیس بک اور واٹس ایپ عوام کو پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس احسن کردار سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک درد ناک حقیقت ہے، کہ سوشل میڈیا سے غلط اور بے بنیاد خبریں بھی عوام تک پل بھر میں پہنچ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی کثیر تعداد خبر چاہے درست ہو یا غلط، اس خبر کی حقیقت یا تہ تک پہنچے بغیر اظہار خیال کرنے میں جت جاتی ہے اور فوراً سے پیش تر آپ ہی منصف بن جاتی ہے۔
گزشتہ دنوں دادو سے تعلق رکھنے والی کم سن بچی گل سما کی سنگ باری کے ذریعے ہلاکت کی اندوہناک خبر جب عوام الناس تک پہنچی، تو عوام کا غیظ و غضب میں آنا یقینی تھا۔ ایسا ہوا بھی، لیکن پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے فرمایا کہ ’’گل سما کے قتل کے شواہد نہیں ملے‘‘۔ محترم وزیر صاحب کے اس غیر موزوں بیان کی بھی سوشل میڈیا پر خوب دھجیاں اڑیں۔ دوسری طرف گزشتہ دنوں کراچی کی ایک کم عمر بچی ہما کی گمشدگی کی خبر سامنے آئی اور تفتیش کے بعد پتا چلا، وین ڈرائیور نے بچی کو اغواء کر لیا۔ مزید تحقیق ہوئی، تو بچی کا بیان سامنے آیا، کہ وہ اپنی مرضی سے وین ڈرائیور کے ساتھ فرار ہوئی تھی۔ اب ہوا یہ کہ سوشل میڈیا کے بہت سے صارفین گل سما کے قتل کی مذمت فیس بک پر کرتے رہے اور تصویر ہما کی چسپاں کرتے رہے۔ یہ رویہ اور عمل ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر وقت مصروف عمل رہنے والے صارفین کسی بھی خبر، حادثے یا واقعے کا تجزیہ کرتے وقت زمینی حقائق کا ادراک اور سچائی کا تعین کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرتے وقت بعض دوست جہاں خبر یا واقعے کی صحت سے متعلق تحقیق نہیں کرتے، وہیں اس حقیقت کا ادراک نہیں کرتے کہ سوشل میڈیا ہر عمر اور جنس کے افراد استعمال کر رہے ہیں۔ ہر ایک کی ذہنی و تعلیمی صلاحیت و استعداد مختلف ہے۔ اس صورت حال میں کوئی خبر، پوسٹ یا تبصرہ خلاف حقیقت یا اخلاق سے گرا ہوا ہو، تو ان سوشل میڈیا صارفین پر اس کا کیا اثر ہوگا؟ جن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت محدود ہے اور خبر کی تحقیق سکی جستجو بھی جن میں ناپید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس کے جو جی اور من میں آ رہا ہے، بلا تحقیق بات کو آگے بڑھائے جا رہا ہے۔ چلیے، کم تعلیم یافتہ افراد اس عمل میں شریک ہوں، تو صرف نظر کی گنجائش ہے۔ لیکن یہاں تو ہو یہ رہا کہ تعلیم یافتہ افراد بھی تاریخی لحاظ سے بے بنیاد و غیر مستند اور خلاف واقعہ پوسٹ سے اجتناب کرنے سے قاصر ہیں۔ کچھ دوست تو ایسے ہیں، جن کا سیاست یا تاریخ بطور مضمون مطالعہ یا تعلیم کا میدان نہیں رہا۔ وہ بھی سیاسی یا تاریخی حوالے سے تحریر کیے گئے، کالمز یا مضامین پر اعتراضات داغتے نظر آتے ہیں اور ساتھ میں تبصرے بھی فرماتے جاتے ہیں۔
ایسے افراد تاریخی حوالے بھی مانگتے نظر آتے ہیں۔ حقائق پیش بھی کر دیے جائیں، تو میں نہ مانوں کی رٹ پھر بھی جاری رہتی ہے۔ گزشتہ دنوں فیس بک پر ایک تبصرہ پڑھا کہ پی سی او کا اجراء 2007 میں پہلی دفعہ جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر کو کیا، تو پڑھ کر حیرانی ہوئی، چونکہ یہ تبصرہ ایک پڑھی لکھی شخصیت نے کیا تھا۔ تبصرہ پر کوئی تبصرہ تو نہیں کیا کہ پھر بلا وجہ کی بحث کا آغاز ہو جائے گا۔ ورنہ دل تو چاہ رہا تھا، کہ لکھ دیا جائے کہ پی سی او جنرل ضیاء الحق نے 25 مارچ 1981 میں متعارف کروایا تھا اور پھر اکتوبر 1999 میں پہلی بار اور دوسری بار 2007 میں جنرل پرویز مشرف نے پی سی او کا اجراء کیا۔ کوئی مہاتیر محمد کے برطانیہ کے دورے کی پوسٹ لگا رہا ہے کہ وہ دورہ برطانیہ سے ناراض ہو کر ملائشیا واپس پہنچے تو برطانوی وزیر اعظم کا معافی نامہ میز پر دھرا تھا۔ ابھی تک منتظر ہوں کہ اس پوسٹ کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش کیا جائے۔ دو چار دن قبل ایک عزیز کو دوستوں کی فہرست سے خارج کیا۔ چونکہ ان کی پوسٹ پر تبصرہ کرنے والے ان کے ایک دوست گالم گلوچ کر رہے تھے اور ان کے دوست نے نازیبا تصویر بھیجی تھی اور ہمارے وہ عزیز دھڑلے سے اس گالم گلوچ کو اور نازیبا تصویر کو پسند کر رہے تھے۔
سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا صارف ایک دوسرے کے خلاف ذاتی عناد اور اختلافات کو بھی عوام الناس کو سامنے لانے سے نہیں چوک رہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے، چونکہ آپ فرینڈز لسٹ میں موجود ہر شخص کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور تعلیم سے نا واقف ہیں۔ اس وجہ سے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز زبان کا استعمال اور نفرت انگیز رویوں کا اظہار ایک عام بات ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف الخیال افراد کا ایک گروپ میں ہونا یا فیس بک پر دوست ہونا۔ کسی اچنبے یا معیوب بات نہیں۔ بلکہ صحت مند رجحان ہے۔ لیکن اگر مکالمہ یا بحث ذاتیات تک پہنچ جائے، تو ایسی صورت حال میں سوشل میڈیا سے دوری یا علیحدگی ہی بہتر طرز عمل ہے۔
خیر یہ سب تو سوشل میڈیا کے حوالے سے سنجیدہ اظہار خیال ہے۔ لیکن یہ تحریر لکھنے کی تحریک ایک پر مزاح واٹس ایپ ویڈیو دیکھنے کے بعد پیدا ہوئی کہ سوشل میڈیا ایک ماں کے لیے کیسے عذاب بنا؟ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک خاتون اپنی سہیلی سے فون پر اپنے دکھڑے روتے وقت کہتی ہیں کہ واٹس ایپ کی وجہ سے ان کی تو ان دنوں جان عذاب میں آئی ہوئی ہے۔ خاتون کہتی ہیں: ’’ایک دن ان کے بچے کو اسکول پہنچنے میں آدھے گھنٹے کی دیر ہوگئی، تو بچے کے والد نے مختلف گروپوں میں بچے کی تصویر کے ساتھ درخواست کی کہ جس کو بھی ملے گھر تک پہنچا دے۔ بچہ تو خیر خیریت سے گھر کوئی پہنچا گیا۔ لیکن اب ہو یہ رہا کہ آئے دن وہی پوسٹ کوئی نہ کوئی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتا ہے اور بچے کو جب بھی اسکول بھیجو۔ کوئی نہ کوئی گھر پہنچا جاتا ہے‘‘۔ سوشل میڈیا کا یہ بھی المیہ ہے کہ کئی برس پرانی پوسٹ اور ویڈیو بھی بعض دوست احباب دھڑلے سے ایک دوسرے کو بھیجنے سے نہیں چوکتے۔ اس لیے جہاں سوشل میڈیا کے فوائد ہیں، وہیں سوشل میڈیا ایک نوع کے عذاب سے کم نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …