منگل , 28 جنوری 2020

اسرائیل دشمن ممالک کے حالات خراب کیوں؟

تحریر: محمد سلمان مہدی

عالم اسلام و عرب کے حالات پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں۔ پاکستان تا افغانستان، ایران و عراق و شام تا لبنان، کشمیر تا فلسطین و یمن، سوڈان و الجزائر و تیونس، ترکی تا لبیا، ہر ایک مشکل میں گرفتار نظر آتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے!؟ افغانستان میں امریکی فوجی جانے کا نام نہیں لے رہے۔ افغانستان کے سیکیورٹی حکام تک غیر محفوظ ہیں مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے لئے افغانستان محفوظ ہے۔ عراق میں جن جن کی طاقت اور اثر و رسوخ کو مغربی ذرایع ابلاغ نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا، انکو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور امریکی نائب صدر مائیک پینس، اعلی فوجی کمانڈر، وزراء اور مقننہ کے اراکین دھڑلے سے عراق آجارہے ہیں۔

ایسا اس لئے ہے کہ امریکی حکومت نے افغانستان و عراق کو اپنے لئے محفوظ بنالیا ہے مگر یہ ملک یہاں کے اصلی باشندوں کے لئے غیر محفوظ بنادیئے گئے ہیں۔ نائن الیون 2001ء کے بعد امریکا نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت افغانستان پر قبضہ کی جنگ شروع کی۔ یہاں قبضہ مستحکم کرکے امریکا 2003ء میں عراق پر چڑھ دوڑا۔ اسی تسلسل میں اسرائیل نے لبنان پر 2006ء میں چڑھائی کردی۔ مگر وہاں حزب اللہ کی مقاومت کی وجہ سے اسرائیل کو مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ لیکن امریکی مغربی بلاک کی منظم منصوبہ بندی کے تحت عالم اسلام و عرب کو ڈسٹرب رکھا جاتا رہا۔

نائن الیون 2001ء سے قبل ہی یہ گیم پلان تیار کرلیا گیا تھا۔ زایونسٹ لابی نے امریکا میں بیٹھ کر اے کلین بریک کے عنوان کے تحت ایک نئی حکمت عملی بنائی۔ اس کا مقصد اسرائیل کا تحفظ تھا۔ اس کے بعد اے پراجیکٹ فار نیو امریکن سینچری کے نام سے اسرئیل نواز نیو کنزرویٹو تھنک ٹینک بنا۔ اور جارج بش جونیئر کے آٹھ سالہ عہد صدارت میں اعلانیہ طور اس گیم پلان پر عمل کیا جاتارہا۔ ہم آج کی صورتحال کا تجزیہ کرتے وقت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ امریکی حکومت نے سوویت یونین کے سقوط کے بعد اسلام کو مرکزی حریف قرار دے کر مستقبل کی منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ اس ضمن میں بش جونیئر کے دور حکومت کی امریکی نیشنل سیکیورٹی اسٹرٹیجی، صدر بش جونیئر کی نومبر 2003ء کی تقریر جو نیشنل اینڈوومنٹ فار ڈیموکریسی میں کی، اہم تھیں۔ اور 12 دسمبر 2002ء کو امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں تقریر میں بھی مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی بات کی تھی۔

اس کے بعد امریکی حکام نے عظیم تر مشرق وسطی و شمالی افریقہ انیشی ایٹیوپیش کیا۔ لندن کے الحیات میں 13فروری 2004ء کو یہ خفیہ منصوبہ لیک کیا گیا۔ الحیات کے مالک سعودی شہزادہ خالد بن سلطان ہیں۔ شاہ فہد باپ کے رشتے سے انکے چچا اور ماں کے رشتے سے خالو تھے۔ یہ خود اہم سعودی عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ بندر بن سلطان انکا بھائی ہے مگر بندربن سلطان کی ماں لونڈی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ امریکی منصوبہ سعودی شاہی خاندان کے ایک اخبار میں شایع کروایا گیا۔ بظاہر یہ لیک کیا گیا تھا مگر در حقیقت یہ مستقبل کے امریکی ایجنڈا سے متعلق عرب و مسلم رائے عامہ کو پہلے سے ذہنی طور پر تیار کرنا تھا۔ بلکہ انکا ردعمل جاننے کے لئے اس کو دانستہ طور شایع کروایا گیا۔

یہ ایک ورکنگ پیپر تھا جو امریکی حکام نے یورپی شراکت دارممالک سے مل کر تیار کیا تھا۔ اس دستاویز کو گروپ آٹھ G8 کے سربراہی اجلاس میں پیش کیا جانا تھا جو امریکی ریاست جارجیا کے سمندری جزیرے میں آٹھ تا دس جون ہونا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ نے عرب ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ (2002-2003) میں عرب دنیا میں انسانی ترقی نہ ہونے کی وجوہات بیان کیں تھیں۔ امریکی و یورپی حکام نے اس رپورٹ کے اعداد و شمار سے استفادہ کیا تھا۔ اس امریکی دستاویز میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں انتخابات کی مانیٹرنگ کے لئے تیکنیکی معاونت، آزاد صحافیوں کے لئے تربیتی پروگرامز، غیر حکومتی تنظیموں (این جی اوز) کے لئے مالی مدد میں اضافہ اور انتخابات میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کی تربیت شامل تھیں۔

اس امریکی یورپی منصوبے میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں اصلاحات کے نام پر بہت کچھ شامل تھا۔ مگر، اس خطے کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ یا خود اسرائیل کا اپنا ناجائز وجود تھا، اس مسئلے کے حل کے لئے کچھ نہیں تھا۔ عرب اسرائیل امن عمل کا سرسری حوالہ دیا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کے لیک ہونے پر شدید ردعمل اردن اور مصر کی حکومتوں کی طرف سامنے آیا، رائے عامہ تو ویسے ہی امریکی منصوبے کے خلاف تھی۔ حالانکہ جاننے والے جانتے تھے کہ امریکی و یورپی اتحادی ممالک ایسا کوئی بھی منصوبہ سعودی عرب کی بادشاہت کو اعتماد میں لئے بغیر نہیں بناسکتے تھے۔ خود گروپ آٹھ کے بعض ممالک کو حیرت تھی کہ اس میں عظیم تر مشرق وسطیٰ کی اصطلاح کی حدود کیا ہیں اور اس منصوبے میں غیر مسلم اور غیر عرب ممالک سرے سے شامل ہی نہیں تھے!۔ قصہ مختصر یہ کہ گروپ آٹھ کے سربراہی اجلاس میں عظیم تر کو وسیع تر کے الفاظ سے تبدیل کرکے پیش کردیا گیا۔ البتہ G8 نے سربراہی اجلاس کے بعد بیان میں عرب اسرائیل امن عمل پر تاکید بھی کی تو کوارٹیٹ یعنی اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکا اور روس پر مشتمل چار کے ٹولے کے روڈمیپ کو مسئلے کے جامع حل کی راہ قرار کیا۔

لیکن آج دسمبر 2019ء میں پیچھے کی طرف مڑکر دیکھ لیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین سمیت وہ ساری امریکی اتحادی و شراکت دار عرب حکومتیں مزے میں ہیں جو اسرائیلی ایجنڈا پر کام کررہی ہیں۔ اور جن جن حکومتوں سے اسرائیل خفا ہے، ان سب پر امریکی و یورپی غظ وغضب صاف نظر آرہا ہے۔ یہی امریکا و یورپ کا منظور کردہ اصل عظیم تر مشرق وسطیٰ ہے کہ سعودی عرب، امارات اور بحرین سمیت جہاں بھی غیر جمہوری موروثی مطلق العنان حکمران ہیں، ڈکٹیٹر ہیں، وہاں سب کچھ اوکے کردیا گیا ہے۔ اور ان ملکوں میں بھی مشکلات کا شکار وہ ہیں جو ان استبدادی حکومتوں کے مخالف ہیں۔ بحرین کی جمہوری تحریک کچل کر رکھ دی گئی ہے اور اس کچلنے کے لئے سعودی فوجی ٹینکوں میں سوار ہوکر آئے تھے۔

یہ محض چند مثالیں پیش کیں ہیں۔ ورنہ امریکی بلاک کی جانب سے عظیم تر، وسیع تر کے بعد نیا مشرق وسطیٰ کہہ دینے سے اس خطے کے ممالک کے حالات پہلے سے زیادہ بدتر ہوچکے ہیں۔ امریکی بلاک کی پابندیاں اس خطے کے عوام کی اقتصادی نسل کشی کے مترادف ہے۔ امریکی مغربی بلاک نے ان ممالک میں منظم انداز میں اپنے نیٹ ورک قائم کئے ہیں۔ اور فعال سماجی و سیاسی کارکنان بشمول خواتین سے لے کر صحافیوں اور دانشوروں تک سبھی پر خرچہ کیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے تحت ٹیک کیمپ اس کی تازہ مثال ہے ورنہ امریکی سی آئی اے کا آپریشن موکنگ برڈ عالم اسلام و عرب کے لئے ایک عبرت ناک مثال ہے۔ آج لبنان اور عراق عالم اسلام و عرب کی اس اصل لڑائی کی فرنٹ لائن اسٹیٹ ہیں۔ امریکی و عربی غربی اتحاد مشرق وسطیٰ میں زایونسٹ اتحاد کی حیثیت سے اسرائیل کا سہولت کار بنا ہوا ہے۔ اور انہی کی وجہ سے عالم اسلام و عرب کے حالات خراب ہیں۔ اسکا الزام ایران پر لگانے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ جسے بھی عالم اسلام و عرب سے ہمدردی ہے، وہ حقیقت بیان کرے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فرعون وقت کے آشیانے میں صدائے موسیٰ

تحریر: سید اسد عباس ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے …