ہفتہ , 8 اگست 2020

عراق کی جیلوں پر داعش کی یلغار اور عراق کی سالمیت

ترجمہ و تحقیق: خیبر ٹیم

فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی رپورٹ [1] کے مطابق یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اکتوبر کی ابتداء میں عراق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے آغاز سے اب تک بعض اندرونی و بیرونی طاقتیں اس بات کے درپے ہیں کہ ان اعتراضات کے ذریعے اپنی مچھلیوں کا شکار کریں اور اپنے اہداف کو حاصل کرسکیں۔ داعش جیسے وہ دہشت گرد گروہ بھی جن کا تقریباً عراق میں زوال ہوچکا تھا اور ان میں سے کچھ بچے کچے عناصر چند ایک لوگوں پر مشتمل گروہوں کی صورت عراق کے بعض علاقوں میں آخری سانسیں لے رہے تھے، اب عراق کی موجودہ ناامنی و خراب حالات سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہیں، ان کے لئے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ ایک بار پھر سے عراق میں اپنے عناصر کو نئے سرے سے منظم کرسکیں۔

لبنان کے روزنامے الاخبار [2] نے رپورٹ دی ہے کہ داعش سے وابستہ عناصر اس کوشش میں ہیں کہ عراق کی جیلوں میں قید اپنے ساتھیوں کی خاطر عراق کی جیلوں پر یلغار کر دیں اور اپنے ہزاروں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے گرفتار شدہ ساتھیوں اور کمانڈروں کو جیل سے بھگانے میں کامیاب ہو جائیں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ 18 ہزار سے زیادہ مختلف دہشت گرد گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد عراق کی جیلوں میں قید ہیں۔ اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان 18 ہزار لوگوں کی گرفتاری کا عمل یوں ہی ممکن نہیں ہوسکا بلکہ یہ 15 سالوں کے تعاقب و پکڑ دھکڑ کا نتیجہ ہے، جس کے نتیجہ میں القاعدہ[3]، انصارالسنہ[4]، داعش[5]، الجیش الاسلامی[6]، جیش الراشدین[7]، جیش الفاتحین[8]، حماس العراق[9]، جیش المصطفیٰ[10] وغیرہ جیسے گروہوں سے وابستہ افراد کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر انہیں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا ہے اور ان پندرہ سالوں کے عرصے میں ان گروہوں کے بہت سے کمانڈروں کو پکڑ کر زندان کے حوالے کیا گیا ہے۔

ناصریہ میں زندان الحوت پر داعش کیجانب سے حملہ کرنیکی منصوبہ بندی
ناصریہ شہر بغداد کے جنوب میں 375 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور صوبہ ذی قار کا پایتخت ہے، اس شہر میں قبیلہ ای نظام رائج ہے اور یہاں کے باشندے اس صوبے میں تیل کے ذخائر سے مالامال ہونے کے باوجود بے روزگاری و غربت میں مبتلا ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق انہیں مسائل کی وجہ سے ناصریہ کے رہائش پذیر لوگوں کی تعداد عراق کے جنوب میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں زیادہ ہے، چونکہ اس شہر کا «الحبوبی» چوک احتجاج کے آغاز سے ہی معترضین کے جم گٹھے کا مرکز رہا ہے۔ "الاخبار” روزنامہ نے آگے چل کر اس بات کو بیان کیا ہے کہ ناصریہ میں آغاز میں تو سارے احتجاجات و مظاہرے بہت ہی نظم و ضبط کے ساتھ مصالحت آمیز انداز میں ہوئے اور معترضین عراق میں تبدیلیوں اور اصلاحات کے نعرے لگا رہے تھے، لیکن گذشتہ مہینے کی 28 تاریخ سے سوشل میڈیا پر ایسے جعلی پیجیز بنائے گئے، جن کو باہر سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، ان پیجز نے اعتراضات کے ڈھول کی آوازوں کو اور تیز کر دیا۔

ان مجازی صفحات میں آشکار طور پر نقاب اوڑھے ہوئے ایک چھوٹے سے گروہ کی حمایت کی گئی، ایسے لوگوں کی حمایت جنہوں نے بعض حکومتی کارندوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا اور اس ہدف دار پروپیگنڈے کا نتیجہ یہ ہوا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ عراق کی مرکزی حکومت مجبور ہوگئی کہ اس شہر میں مزید حفاظتی دستوں کو بھیجے۔ اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق نومبر کے آخری دنوں میں یہ نقاب پہنے ہوئے لوگ ناصریہ میں حفاظتی دستوں سے بِھڑ گئے اور اسی وجہ سے وسیع پیمانے پر تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں حفاظتی دستے شہر سے باہر نکلنے پر مجبور ہوگئے جبکہ بہت سے جوانوں نے جب دیکھا کہ سکیورٹی فورسز شہر سے باہر نکل گئِی ہیں تو "الناصریہ” کے پولیس ہیڈ کوارٹر کی طرف حملے کی غرض سے چل پڑے۔

عراق کے محکمہ اطلاعات کے ایک افسر نے” الاخبار” سے گفتگو میں کہا کہ اس تصادم کا ہدف حفاظتی دیوار کے اندر ایک ایسے خلا کو وجود میں لانا تھا کہ جس کے چلتے دسیوں داعش کے عناصر مختلف بیابانی راستوں سے چل کر الحوت کے زندان تک پہنچ سکیں اور وہ جیل پر قابض ہوسکیں۔ "حوت” کی جیل ایسی جیل ہے، جو ناصریہ کے مشرق میں واقع ہے اور جس میں 6 ہزار دو سو قیدی جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق دہشت گرد گروہوں خاص طور پر داعش سے ہے۔ اتنا ہی نہیں اس جیل میں کچھ ایسے بھی دہشت گرد ہیں، جن کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ عراق کے اس محکمہ اطلاعات کے افسر کے بقول عراق کے محکمہ سراغرسانی نے داعش کے کمانڈروں سے کئے گئے کئی رابطوں اور فسادیوں کے درمیان رد و بدل ہونے والے پیغامات کا سراغ لگایا ہے، جن سے پتہ چلتا ہے کہ ناصریہ کی مرکزی جیل پر یلغار کا اصلی ہدف یہی تھا کہ وہاں قید دہشت گرد عناصر کو جیل سے نکال کر بھگا لے جایا جائے۔

اس محکمہ اطلاعات کے افسر نے بیان کیا کہ یہ داعش کا ایسا منصوبہ تھا، جسے نامعلوم بیرونی افراد کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس افسر نے مزید کہا کہ اس منصوبہ کا مقصد ناصریہ میں افراتفری کا ماحول پیدا کرنا اور سکیورٹی فورسز سے تصادم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کے محکمہ سراغرسانی نے ناصریہ میں عراقی فورسز سے درخواست کی کہ ناصریہ کی جیل کی حفاظت کو اور بھی شدید کر دیں اور حفاظتی انتظامات کو مزید بڑھا دیں۔ بعض قبائل کے شیوخ و سرداروں نے بھی ناصریہ میں انجام پانے والی اس سازش کے بارے میں خبردار کیا تھا، چنانچہ صوبہ "ذی قار” کے قبائل کے عمائدین و سرداروں نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں اس بات کی خبر دی تھی کہ اس صوبے میں کئی دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس کا مقصد "الحوت” جیل سے داعشی عناصر کو نکال بھگانا ہے۔

ان قبائل کے سرداروں نے اس منصوبے سے پردہ اٹھاتے ہوئے ناصریہ میں موجود سکیورٹی فورسز خاص طور پر اس شہر کے ڈپٹی آف پولیس اور عراقی سکیورٹی فورسز کے حامی علاقائی افراد کی موجودگی میں ایک میٹنگ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں نے ناصریہ زندان کے اطراف اکناف میں اپنی اپنی پوزیشنز سنھبال لیں، تاکہ جیل کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔ اسی سلسلہ سے "نینوا "پولیس کے ہیڈ آفس نے یہ خبر دی کہ گشتہ 27 نومبر کو موصل شہر کے مرکز میں واقع «التسفیرات» نامی جیل پر حملہ کرکے داعش کے دہشت گرد عناصر کو بھگانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے، اس سے پہلے بھی صلاح الدین صوبے کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ اور دہشت گردی سے نبٹنے والے اسکواڈ کی جانب سے بغداد کے 175 کلومیٹر شمال میں واقع ایک مقام پر پہل کرتے ہوئے ایک آپریشن کیا گیا، جس کے چلتے تکریت کے مرکز پر ہونے والے داعشی حملے کو ناکام بنا دیا گیا، یہ ایسا علاقہ ہے، جہاں عورتوں کی بھی ایک جیل ہے۔ عراق کی وزارت داخلہ کے ایک بلند پایہ افسر نے اس بات کی خبر دی کہ یہ ہونے والے سارے آپریشنز اتفاقی نہیں ہیں بلکہ داعش کا مقصد ہی یہی ہے کہ عراق کی سکیورٹی فورسز کی توجہ کو کسی دوسری سمت موڑ کر ناصریہ جیل پر ایک بڑا حملہ کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
[1]۔ https://www.farsnews.com/news/13980913000121/
[2]۔ https://www.al-akhbar.com/Iraq/280478/
[3]۔ اسامہ بن لادن کے ذریعہ وجود میں آنے والی سنی وسلفی نقطہ نظر کی حامل ایک بنیاد پرست و دہشت گرد تنظیم جسکے سرے 1980ء کی دہائی میں قائم ہونے والی ایک تنظیم مکتب الخدمت تک جاتےہیں ، القاعدہ ایک مربوط تنظیمی رکنیت رکھنے والی ایسی تنظیم ہے جس کے ارکان دنیا میں مختلف جگہوں پر موجود ہیں جو اس کے خلیات کو (Cells) تشکیل دیتے ہیں اور ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو:
Moghadam, Assaf (2008). The Globalization of Martyrdom: Al Qaeda, Salafi Jihad, and the Diffusion of Suicide Attacks. Johns Hopkins University. p. 48. ISBN 978-0-8018-9055-0.
Livesey, Bruce (January 25, 2005). "Special Reports – The Salafist Movement: Al Qaeda’s New Front”. PBS Frontline. WGBH educational foundation. Retrieved October 18, 2011.
Geltzer, Joshua A. (2011). US Counter-Terrorism Strategy and al-Qaeda: Signalling and the Terrorist World-View (Reprint ed.). Routledge. p. 83. ISBN 978-0415664523.
[4]۔ ۲۰۰۳ء میں تصوف کی آئیڈیا لوجی کی حامل عبد اللہ الشافعی کے ذریعہ وجود میں آنے والی سنی عرب اور سنی کرد اراکین کی حامل ایک سنی شورشی تنظیم جسے عراق میں جیش انصار السنہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ۔جس سے بعد میں انصار الاسلام و انصار اہل السنہ و رجال جیش نقشبندی جیسے نام بھی سامنے آئے جو اسی تنظیم کے یا ذیل میں آتے ہیں یا اسکے متحدین میں شمار ہوتے ہیں۔
https://www.investigativeproject.org/profile/125/ansar-al-sunna-as

Middle East Review of International Affairs. Vol 8, No.4
https://arquivo.pt/wayback/20091013162709/http://counterterrorismblog.org/2007/12/ansar_alsunnah_acknowledges_re.php
[5]۔ القاعدہ سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد وہابی نقطہ نظر کی حامل شدت پسند و بنیاد پرست تنظیم داعش الدولة الإسلامية في العراق والشام) کا مخفف ہے، ایسی تنظیم جو دنیا میں ISIS کے نام سے جانی جاتی ہے۔جسکے قتل عام و جسکی بربریت کی موجودہ دور میں کوئی مثال نہیں ہے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: https://web.archive.org/web/20180612141828/https://www.freewordcentre.com/explore/daesh-isis-media-alice-guthrie
Al-Yaqoubi, Muhammad (2015). Refuting ISIS: A Rebuttal Of Its Religious And Ideological Foundations. Sacred Knowledge. pp. xvii–xviii. ISBN 978-1-908224-12-5.
https://www.bbc.com/news/world-middle-east-29052144
Kerr, Michael; Larkin, Craig (2015). The Alawis of Syria: War, Faith and Politics in the Levant. Oxford University Press. p. 21. ISBN 978-0-19-045811-9.
http://www.washingtoninstitute.org/uploads/Documents/pubs/ResearchNote_20_Zelin.pdf
[6]۔ دو ہزار گیارہ میں اپنی فعالیت کا آغاز کرنے والی سلفی نقطہ نظر کی حامل بنیاد پرست تنظیم جسکا نام پہلے لواء الاسلام تھا اور اسے باڈی گارڈ آف اسلام بھی کہا جاتا تھا زہران علوش اور اسکے بعد عصام بویضانی کو اس تنظیم کے قائدین کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اس تنظیم کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ نے واضح طور پر سعودی عرب کی مالی اعانت کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: https://www.reuters.com/article/us-syria-crisis-jihadists-insight/insight-saudi-arabia -boosts-salafist-rivals-to-al-qaeda-in-syria-idUSBRE9900RO20131001

Saudi Arabia’s Shadow War


https://www.theguardian.com/world/2013/nov/07/syria-crisis-saudi-arabia-spend-millions-new-rebel-force
[7]۔ ۲۰۰۳ء میں عراق میں قائم ہونے والا ایک شدت پسند گروہ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔
http://www.roadstoiraq.com/2007/07/25/interview-with-al-rashideen-army-first-we-must-defeat-the-occupation-then-all-those-who-want-to-harm-iraq/
https://web.archive.org/web/20120118074406/http://al-rashedeen.net/

Marijuana Penny Stocks to watch


http://al-rashedeen.net/index.php/releases/12-code-of-silence.html
[8]۔ عراق کا ایک شدت پسند قبائلی گروہ جس میں بعث پارٹی کے بعض باقی ماندہ افراد کی بھی حصہ داری ہے تفصیل کے لئے۔
https://www.marefa.org/%D8%AC%D9%8A%D8%B4_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D9%8A%D9%86
[9]۔ دو ہزار تین میں عراق میں وجود مِیں آنے سنی نقطہ نظر اور عراقی قوم پرستی کے نظریہ کی حامل شدت پسند تنظیم۔ تفصیل کے لئے
http://memri.org/bin/articles.cgi?Page=archives&Area=sd&ID=SP155907
https://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2007/06/19/AR2007061900315.html
http://memri.org/bin/articles.cgi?Page=archives&Area=sd&ID=SP155907
https://abuaardvark.typepad.com/abuaardvark/2007/04/hamas_iraq_deni.html
[10]۔ عراق کی سنی نقطہ نظر کی حامل تنظیم تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔ https://www.islamist-movements.com/2872

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …