ہفتہ , 8 اگست 2020

اسرائیل کے لئے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟ اسرائیل کے خلاف اگلی جنگ کیسی ہوگی؟ (دوسرا حصہ)

اسرائیلی اخبار یدیعوت احارنوت نے لکھا کہ اسرائیل پر متعدد جاسوس طیاروں کے حملے کے بعد اسرائیلی فوج و ٹکنالوجی کمپنیوں کو حزب اللہ اور حماس کی جانب سے ممکنہ ڈرون حملے سے محفوظ رکھنے کی ٹکنالوجی تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ سیکڑوں ڈرون طیارے ایک ساتھ حملہ کریں گے تو حالات بہت ہی خوفناک ہوں گے۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارنوت نے اس کے لئے چین کو ذمہ دار قرار دیا ہے کیونکہ اسرائیل کے فوجی ذرائع کے مطابق دنیا کے ڈرون طیاروں کے بازار کے 70 فیصد حصے پر چین کی ڈی جے آئی کمپنی کا قبضہ ہے اور یہی کمپنی پوری دنیا میں ڈرون طیاروں کے پھیلنے کی ذمہ دار ہے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس چھوٹی سی فضائیہ بنانے کی کوشش میں ہے اور وہ ڈرون طیاروں کا بھی استعمال کر رہی ہے جس کی ایک چھوٹی سی جھلک حماس کے اس انیمیشن میں دیکھنے کو ملتی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے ڈرون طیارے، اسرائیلی ٹینکوں اور گاڑیوں پر بموں کی بارش کر رہے ہیں۔ اخبار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لبنان کے ساتھ اگلی جنگ میں وسیع پیمانے پر ڈرون طیاروں کا استعمال ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی اخبار نے لکھا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کے پاس موجود میزائلوں سے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جیسا کہ اسرائیلی ویب سایٹ 0404 نے لکھا ہے کہ یہ بھاری میزائیل پوری دقت کے ساتھ نشانہ لگاتے ہیں اور اسے ایرانی ماہرین کی مدد سے تیار کیا گیا ہے اور اگر حماس کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو حماس، اسرائیل کے خلاف ان میزائلوں کو ضرور استعمال کرے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ایسی حالت میں کہ جب نتن یاہو اسرائیلی فوج کے لئے "ڈرون طیاروں کے خطرے” کی بات کر رہے ہیں، ایران کی زمینی فوج کے ایک سینئر کمانڈر کیومرس حیدری نے اعلان کیا ہے کہ زمینی فوج کے ماہرین، ڈرون طیارے بنانے میں خودمختار ہوگئے ہیں اور خطروں کے حساب سے ڈرون طیارے تیار کئے جا رہے ہیں۔

بشکریہ

رای الیوم

عبد الباری عطوان

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …