منگل , 28 جنوری 2020

کپتان سمیت کوئی بھی کھلاڑی پرفارمنس کے بغیر ٹیم میں نہیں رہ سکتا، اظہر

قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ انہیں قیادت چھن جانے کا کوئی ڈر نہیں اور ابھی تمام تر توجہ سری لنکا کے خلاف پاکستان میں ہونے والی ہوم سیریز پر مرکوز ہے۔

پاکستان کو دورہ آسٹریلیا میں بدترین ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا جہاں آسٹریلیا نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دونوں میچوں میں اننگز کی شکست دے کر 0-2 سے کلین سوئپ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان، سری لنکا سیریز کیلئے ٹکٹ کی حیران کن قیمت مقرر

دونوں میچوں میں شکست کے ساتھ ہی پاکستان کی ٹیم اب آستریلین سرزمین پر 14 ٹیسٹ میچ ہار کر نیا بدترین عالمی ریکارڈ بھی قائم کر چکی ہے۔

آسٹریلیا سے وطن واپسی پر ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت بیٹسمین ہم نے ابتدا میں اچھی پارٹنر شپ بنائیں مگر انہیں میچ وننگ پارٹنر شپ میں تبدیل نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ بیٹسمینوں نے جو رنز کیے وہ اننگز کو میچ وننگ نہیں بناسکے جبکہ باؤلنگ میں ہم نے نئی گیند سے وکٹیں نہیں لیں جہاں آسٹریلیا میں نئی گیند سے وکٹ لینا بہت ضروری ہے۔

اظہر علی اپنی فارم پر بھی پریشان دکھائی دیے۔۔ کہا جانتا ہوں کوئی بھی پرفارمنس کے بغیر ٹیم میں نہیں رہ سکتا۔

‘مجھے پتہ ہے مجھے رنز کی ضرورت ہے، کپتان یا کوئی بھی کھلاڑی ہو، اس لیول پر کوئی بھی بغیر پرفارمنس کے نہیں کھیل سکتا، میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اب اسکور کرنا چاہیے۔

ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ کھلاڑیوں کو فارم کی بحالی میں وقت لگے گا اور سری لنکا کے خلاف سیریز قومی ٹیم کے اکثر کھلاڑی کے لیے امتحان ہو گی۔

اظہر نے سری لنکا کے خلاف سیریز کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیریز ہم سب جے لیے بہت اہم ہے، ہمارے پاس نئی بیٹنگ لائن ہے اور امید ہے کہ ہم سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے اپنی قیادت پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب مخالف ٹیم اسکور کر رہی ہو تو تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں، ہمیں متبادل باؤلرز استعمال کرنے پڑتے ہیں اور آپ صرف یاسر شاہ یا شاہین شاہ آفریدی پر انحصار نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکٹ پر چیزیں اپنے مخالف جانا شروع ہوتی ہیں تو جارحانہ انداز قیادت کے حامل کپتان کو بھی ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران جب اظہر سے سوال کیا گیا کہ کیا گھٹنے کی انجری کے سبب ان کی کارکردگی متاثر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں ہر دوسرے تیسرے کھلاڑی کو انجری ہوتی ہے لیکن میں تمام فٹنس ٹیسٹ پاس کرتا ہوں، تمام ٹریننگ کرتا ہوں اور مکمل فٹنس کے ساتھ میدان میں اترتا ہوں لیکن بعض اوقات قسمت اور فارم کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں گھٹنے کی انجری کے سبب رنز نہیں کر سکا کیونکہ اگر مجھے کوئی انجری ہوتی تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بارے میں پتہ چل جاتا۔

اظہر نے کہا کہ ٹیم نے اظہر علی کے خلاف منصوبہ بنایا تھا لیکن ہم اس منصوبے کو عملی جامع نہ پہنا سکے جس کا ہمیں نقصان پہنچا، حتیٰ کہ جب آپ میچ میں جدوجہد کر رہے ہوں تو حریف ٹیم کی معمولی غلطی سے میچ کا پانسہ پلٹ جاتا ہے لیکن ہم میچ میں دوبارہ نہ آ سکے۔

انہوں نے جنوبی افریقہ کے مقابلے میں آسٹریلین وکٹوں کو نسبتاً آسان قرار دیتے ہوئے رنز اسکور نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ہمیں آنے والے میچوں پر توجہ مرکوز کر کے یہ پتہ لگانا ہو گا کہ ہم کس طرح سے جیت سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے ذریعے پاکستان میں 10سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوگی۔

یہ بھی دیکھیں

ایران میں ہونے والے عالمی ویٹ لفٹنگ کپ میں18ممالک کی شرکت

18ممالک کے ویٹ لفٹرز نے رشت میں منعقدہ عالمی کپ میں حصہ لینے کے لئے …