جمعہ , 7 اگست 2020

عراق میں داعش دوبارہ سرگرم

تحریر: صباح زنگنہ

عراق میں کچھ ماہ پہلے سے شروع ہونے والی سول نافرمانی کی تحریک اور اس کے نتیجے میں وزیراعظم کے استعفے کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام والی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جبکہ تکفیری دہشت گرد داعش کے بچے کھچے عناصر نے اس نئی صورتحال کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں دوبارہ سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ چند دن پہلے عراق کے صوبہ دیالا میں داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر اور عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اسی طرح بعض ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش عراق کی مختلف جیلوں پر حملہ ور ہو کر اپنے قیدی ساتھیوں کو آزاد کروانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اسی طرح گذشتہ ہفتے بدھ کے روز عراق کے کرد اکثریتی شہر خانقین میں کرد فورسز اور داعش کے دہشت گردوں کے درمیان مسلح ٹکراو بھی ہوا ہے۔ ان مسلح جھڑپوں سے کچھ گھنٹے پہلے ایک معروف کرد سیاسی رہنما وفیق السامری نے خبردار کیا تھا کہ داعش صوبہ دیالا پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس طرح موصل بغداد ہائی وے پر کنٹرول حاصل کر سکے لیکن حشد الشعبی نے اس کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

حشد الشعبی کی کور 9 کے کمانڈر بلاسم الخفاجی نے کچھ دن پہلے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر ملک کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھا کر عراق کی سکیورٹی فورسز پر حملوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس بارے میں عراق کی آرمی انٹیلی جنس کے ایک افسر نے بتایا کہ داعش کی جانب سے عراق کی جیلوں پر حملہ ور ہونے کے ٹھوس ثبوت حاصل ہوئے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کے اخبار "الاخبار” نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ داعش عراق کی مختلف جیلوں پر حملہ ور ہو کر اپنے ہزاروں قید ساتھیوں کو آزاد کروانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جن میں داعش کے چند اعلی سطحی کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ یاد رہے عراق کی مختلف جیلوں میں 18 ہزار تکفیری دہشت گرد عناصر قید ہیں۔ ان افراد کا تعلق داعش سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں سے ہے جن میں القاعدہ، انصار السنہ، الجیش الاسلامی، جیش الراشدین، جیش الفاتحین، حماس العراق اور جیش المصطفی شامل ہیں۔ یہ افراد گذشتہ 15 برس کے دوران عراق کی سکیورٹی ایجنسیز کی جانب سے گرفتار کئے گئے ہیں۔

عراق میں داعش کی شکست کا مطلب عراقی سرزمین اس گروہ کے قبضے سے آزاد کروانا تھا۔ داعش نے ایک خودمختار ریاست قائم کر رکھی تھی اور عراق کے کچھ علاقوں پر قبضہ جما رکھا تھا۔ حشد الشعبی نے عراق آرمی کے تعاون سے یہ علاقے داعش کے قبضے سے چھڑوا لئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عراق سے داعش کے وجود کا خاتمہ ہو گیا ہے بلکہ اب بھی داعش کے بچے کھچے عناصر عراق کے مختلف حصوں میں خفیہ طور پر موجود ہیں اور بعض جگہ تو انہوں نے دہشت گردانہ نیٹ ورکس تشکیل دے رکھے ہیں۔ یہ دہشت گرد عناصر چھوٹے چھوٹے گروپس کی صورت میں موجود ہیں اور مناسب موقع کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ موقع ملنے پر تخریبی کاروائی انجام دے سکیں۔ جن علاقوں میں داعش کے خفیہ نیٹ ورکس زیادہ پائے جاتے ہیں وہ صوبہ دیالا کے اردگرد علاقے، صوبہ نینوا کے کچھ علاقے، صوبہ بابل اور صوبہ الانبار خاص طور پر نجف اور کربلا کی حدود کے قریب علاقے ہیں۔

لہذا جیسے ہی عراق میں سیاسی عدم استحکام معرض وجود میں آیا داعش سے وابستہ یہ خفیہ نیٹ ورکس متحرک ہو گئے اور عوامی مظاہروں میں گھس کر شدت پسندانہ اقدامات انجام دینے لگے۔ اکثر اوقات یہ چھوٹے چھوٹے گروپس علیحدہ طور پر محدود کاروائیاں انجام دیتے ہیں لیکن اس بات کا بھی خطرہ موجود ہے کہ وہ آپس میں مل کر کوئی بڑی کاروائی انجام دیں۔ چند دن پہلے صوبہ دیالا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ داعش کی مسلح جھڑپیں اسی کی ایک مثال تھی۔ جس قدر عراق کے سیاسی رہنماوں اور عوام کے اندر انتشار زیادہ ہو گا اسی قدر داعش کی جانب سے ایسی کاروائیوں کا خطرہ بڑھتا جائے گا۔ اس نکتے سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے کہ داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر کے ساتھ سابق صدر صدام حسین کی بعث پارٹی کے بچے کھچے عناصر بھی سرگرم عمل ہیں۔ اس بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ عراق میں داعش کی حالیہ سرگرمیاں بہت حد تک داعش تشکیل پانے سے پہلے ابومصعب زرقاوی کی سربراہی میں القاعدہ کی سرگرمیوں سے ملتی جلتی ہیں۔ البتہ موجودہ دہشت گرد عناصر کہیں زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ وہ القاعدہ اور داعش دونوں تنظیموں میں فعالیت کا تجربہ رکھتے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …