جمعہ , 7 اگست 2020

سب کچھ اچھا ہوسکتا ہے، مگر۔۔۔۔

تحریر: محمد راشد

ملک کے عوام، خصوصاً غریب طبقہ کن مشکلات کا شکار ہے، اس کا اندازہ لگانا اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیا ت کے لیے بھی مشکل ہو گا۔ ماضی و حال کا جائزہ لیں تو اکثر لوگوں کی نظر میں ملک کی ابتر صورتِ حال کی ذمہ دار صرف اور صرف حکومتِ وقت اور اس کی پالیسیاں رہی ہیں۔

اہلِ علم کے نزدیک حکومتی پالیسیاں یقینا غلط ہوں گی، مگر کیا کبھی تنقید کرنے والوں نے یہ بات بھی سمجھنے کی کوشش کی کہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ انفرادی برائیاں بھی ہیں۔ معاشرے میں دھوکا دہی، فریب، جھوٹ، نام تول میں کمی، حق تلفی، چوری عام ہے جب کہ ناجائز قبضے، ناانصافی اور زیادتیوں کے واقعات روز ہی رونما ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہمارے اندر اپنی ذمہ داریوں سے نظر بچانے کی عادت پختہ ہوچکی ہے۔ یہ برائیاں ہماری کم عقلی اور سماجی نظریۂ ضرورت کے تحت ہی پروان چڑھ رہی ہیں اور یقیناً ان کا معاشرے پر منفی اثر بھی پڑ رہا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر عمر اور طبقے کا فرد کسی نہ کسی طرح برائی میں مبتلا ہے اور بدنصیبی کہیے کہ ان میں سے بیش تر کو غلط یا برائی مانا ہی نہیں جاتا۔ معاشرے کا ہر فرد اپنی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تنقید برائے تنقید کرتا دکھائی دیتا ہے۔

گلیوں، چوراہوں، ہوٹلوں، دکانوں، بیٹھکوں اور گھروں میں ملکی مسائل اور منہگائی جیسے موضوع پر وہ لو گ لب کشائی کرتے ہیں جن کے پاس اپنے گھر کے مسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہوتا۔ کیا ہم کسی طرح بھی دانش مند اور مہذب ہیں؟

یہ تو صرف ایک سوال ہے، ایسے کئی سوال ہم اپنے آپ سے پوچھ سکتے ہیں جن کا ایمان داری سے دیا گیا جواب خود ہمارے لیے باعثِ شرم ہو گا۔

البتہ یہ بات کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ غیرمؤثر اور غیرواضح پالیسیاں عوام مسائل پر بوجھ اور ان کے مسائل میں اضافہ کررہی ہیں۔ اگر ہر کوئی صرف منفی سوچ کے ساتھ ایک ہی طبقے کو ذمہ دار ٹھیراتا رہے گا اس کا نتیجہ بھی یقیناً منفی ہی برآمد ہو گا۔

اس سے نجات پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لائیں، اپنا محاسبہ کریں اور حقوقُ اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد کا خیال رکھیں۔ معاشرے میں بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی اور ہم اپنا احتساب کرنے کی عادت ڈالیں گے تو ضرور فائد ہوگا۔ انفرادی سطح پر اپنی ذمے داریوں کا احساس اور انھیں پورا کرنا ہوگا۔ اصلاح برائے اصلاح کا اصول اپنا کر ہم تمام مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔

علامہ اقبال نے کہا تھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …