ہفتہ , 8 اگست 2020

خصوصی رپورٹ: برطانوی کمپنی کی کراچی میں غیرقانونی سرگرمیاں بے نقاب

لندن کی کمپنی کی کراچی میں غیرقانونی سرگرمیوں کے حوالے سے بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔

لندن کی کمپنی نے کراچی میں دفتر بنوا کر کام کیا، بہت سی کمپنیوں کی مشکوک سودے بازیاں چھپائیں، بین الاقوامی جرائم پیشہ گینگز کو فائدے پہنچائے.کراچی آئی ٹی پارک کی بلڈنگ سے کام کرنے والی کمپنی کے کلائنٹس میں فراڈیے، منظم جرائم پیشہ گروہ اور اطالوی مافیا بھی شامل تھے۔دنیا کے مختلف ملکوں کے رپورٹرز اور دی نیوز کے رپورٹر عمر چیمہ کی کاوش سے یہ گروہ بے نقاب ہوگیا۔

لندن کی ٹوئنٹی نائن ہارلے اسٹریٹ پر واقع کمپنی کا آپریشن آفس کراچی کے آئی ٹی پارک کی ایک بلڈنگ سے کام کرتا رہا۔ اسی لیے ان تحقیقات کو # 29 لیکس پراجیکٹ کا نام دیا گیا۔تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوا ہے کہ فارمیشن ہاؤس اپنے کلائنٹس کیلئے برٹش ورجن آئی لینڈ، سی شیلز اور پاناما میں آف شور کمپنیاں بناتے اور اسے چلاتے رہے۔فارمیشن ہاؤس نے چار لاکھ کمپنیاں بنائیں، پارٹنرشپس اور ٹرسٹس تخلیق کیے، ڈھائی ہزار ریڈی میڈ کمپنیاں فروخت کیں، ایک پاکستانی نے فارمیشن ہاؤس کی مدد سے اپنی بیوی اور بیٹے کے نام پر آف شور کمپنی بنائی۔ اس کا نام ’گولڈن ایگل ایوی ایشن لمیٹڈ‘ رکھا اور اس کمپنی نے ایک ہیلی کاپٹر خریدا۔

فارمیشن ہاؤس خود برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹر ایک آف شور کمپنی تھی۔ فارمیشن ہاؤس کی ملکیت پاکستانی نژاد برطانوی ندیم خان کے نام پر ہے۔ فارمیشن ہاؤس کی ملکیت 2004 میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان میں رجسٹر کمپنی سنٹر لمیٹڈ کے پاس ہے۔سنٹر لمیٹڈ ندیم خان کی والدہ فردوس خان اور برادرِ نسبتی عابد رحیم کے نام ہے۔ فارمیشن ہاؤس کی دو کمپنیاں، جعلی ڈگریاں بیچنے والی کراچی کی کمپنی کی طرح آئی ٹی ایکسپورٹ کیلئے رجسٹرڈ بھی تھیں۔

فارمیشن ہاؤس میں دنیا بھر کی کالز کو کراچی ری روٹ کیا جاتا تھا اس لیے مقامی ملازمین کے نام مغربی رکھے گئے۔کلائنٹس سے بات کرنے کیلئے ہیڈ آف سیلز ڈپارٹمنٹ سید رضوان احمد کا جعلی نام نام اولیور ہارٹمین رکھا گیا۔کلائنٹس میں ایرانی حکام بھی تھے جو بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کیلئے شناخت چھپا کر گیمبیا میں کمپنی رجسٹر کرانا چاہتے تھے۔ندیم خان کی بیٹی شارلٹ نے دی ٹائمز کے انڈر کور رپورٹر کے سامنے اعتراف کیا کہ ان کی کمپنی شناخت چھپا کر فارن بینکس میں فنڈ جمع کراسکتی ہے۔

فارمیشن ہاؤس کا بھانڈا اولیور یا رضوان کی ایک میل سے پھوٹا جو ایک کلائنٹ مائیکل کو بھیجی گئی تھی۔ اس ای میل میں اعتراف کیا گیا کہ میں فارمیشن ہاؤس کا کراچی میں آف شور آفس چلا رہا ہوں، ہمارا دفتر ہارلے اسٹریٹ پر ہے، شارلِٹ میری باس ہے۔رضوان نے کہا کہ آج کل کاروبار چلانے کے لیے آف شور کمپنی رکھنا بہت ضروری ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے : اسد الدین اویسی

سری نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے …