پیر , 27 جنوری 2020

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی

واشنگٹن: ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں اکثریت یعنی 88.5 فیصد لوگ، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں کی پرزور یا کسی حد تک حمایت کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2019 کے لیے ایشیا فاؤنڈیشن کے سروے میں افغانستان بھر سے 18 سال اور اسے زیادہ کے 17 ہزار 812 مرد و خواتین نے حصہ لیا۔اس سروے کے نتائج میں یہ سامنے آیا کہ 64 فیصد جواب دہندگان سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت ممکن تھی۔علاقائی طور پر مشرقی افغانستان میں 76.9 فیصد اور جنوب مغربی حصے میں 72.9 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ مفاہمت ممکن تھی۔

یہ دونوں پشتون اکثریتی علاقے ہیں اور ان میں ایسے صوبے شامل ہیں جن کی سرحد پاکستان سے متصل ہے۔اس کے علاوہ سینٹرل/ہائی لینڈز ریجن میں 37.7 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ مفاہمت کا کم امکان تھا۔ایشیا فاؤنڈیشن نے نشاندہی کی کہ 2013 میں افغانستان سے متعلق رجائیت پسندی کی رفتار 58 فیصد پر تھی لیکن معاشی مشکلات، سورش زدہ الیکشن اور غیرملکی افواج میں بنیادی کمی سے صرف 3 سال بعد یہ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔تاہم 2016 سے ملک کی ترقی سے متعلق رجائیت پسندی میں 7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 25 فیصد تک پہنچ گئی۔

سروے میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا روس، چین اور پاکستان سے علاقائی نمائندوں سے امن مذاکرات سے متعلق تبادلہ خیال ہورہا ہے اور یہ امید ظاہر کی جارہی کہ یہ امریکا-طالبان امن مذاکرات کی بحالی کا سبب بن سکتے ہیں۔مذکورہ سروے کے دوران جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں سے آگاہ ہیں تو اس میں 3 چوتھائی سے زیادہ یعنی 77.4 فیصد نے کہا کہ وہ آگاہ تھے۔

سروے میں جواب دہندگان میں 9.6 فیصد نے امن مذاکرات کی مخالفت کی، تقریباً نصف یعنی 46.5 فیصد نے اپنی مخالفت کے لیے ایک وجہ بیان کی، ایک تہائی یا 32.4 فیصد نے کہا کہ ‘جنگ بدتر ہوجائے گی’، 17.1 فیصد نے کہا کہ ‘مزید لوگ مریں گے’، 16.2 فیصد کا کہنا تھا کہ ‘یہ بیکار’ ہے، 15.1 فیصد کے مطابق ‘طالبان ظالم ہیں’، 14.3 فیصد کا کہنا تھا کہ ‘طالبان کرپٹ ہیں’ جبکہ 11.2 فیصد نے کہا کہ ‘پاکستان امن نہیں چاہتا’۔

یہ بھی دیکھیں

ایران میں اڑھائی ہزار سے زائد جڑی بوٹیوں کی ادویات کی برآمدات

 تہران:  اسلامی جمہوریہ ایران میں رواں سال کے ابتدائی مہینوں سے اب تک 1600 ٹن …