جمعہ , 7 اگست 2020

سعودی فوجی کی نیول بیس پر فائرنگ کو دہشت گردی کا نام نہیں دیا جا سکتا: امریکا

امریکی ریاست فلوریڈا کی نیول بیس پر سعودی فضائیہ کے اہلکار کے حملے پر امریکا کا کہنا ہے کہ ابھی اس واقعے کو دہشت گردی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

دو روز قبل امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک فوجی اڈے پر زیر تربیت سعودی فضائیہ کے افسر نے فائرنگ کرکے تین امریکی فوجیوں کو ہلاک اور سات کو زخمی کر دیا تھا جب کہ جوابی فائرنگ میں حملہ آور  بھی مارا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلوریڈا کے نیول بیس میں فائرنگ کرنے والے سعودی اہلکار کا نام سعید الشمرانی تھا جو سعودی فضائیہ میں سیکنڈ لیفٹننٹ تھا اور امریکی بحری اڈے پر تربیت حاصل کر رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق سعید الشمرانی نے حملے سے چند روز  پہلے گھر پر تین دوستوں کی دعوت کی تھی اور رات کے کھانے کے بعد دوستوں کے ساتھ لوگوں پر فائرنگ کی ویڈیوز دیکھی تھیں۔

امریکی تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت سعید کے تینوں دوست عمارت کے باہر موجود تھے جن میں سے ایک دوست عمارت کے باہر ویڈیو بنا رہا تھا اور باقی دو دوست کار میں بیٹھے فائرنگ کا منظر دیکھ رہے تھے۔

حکام کا بتانا ہے کہ سعودی فضائیہ کے اہلکار کے تینوں دوستوں سمیت 10 سعودی طلبہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے، اس کے علاوہ سعید کی سوشل میڈیا پوسٹس کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے کہ کیا اس نے تنہا حملہ کیا یا یہ کسی بڑے گروپ سے وابستہ تھا۔

فائرنگ واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ  سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے امریکی نیول بیس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عوام حملہ آور کے وحشیانہ اقدام پر سخت برہم ہیں اور یہ شخص کسی بھی صورت میں امریکی عوام سے محبت کرنے والے سعودی عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پیغام میں مزید لکھا کہ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان نے فلوریڈا کے شہر  پنساکولا میں ہونے والے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ اور دوستوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔

فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع مائیک ایسپرکا کہنا تھا کہ فی الحال نیول بیس پر فائرنگ کو "دہشت گردی” کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

 

یہ بھی دیکھیں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے : اسد الدین اویسی

سری نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے …