منگل , 21 جنوری 2020

وزیرستان سے دمشق تک

تحریر اسلم خان۔

دمشق میرے دل میں بستا ہے اس کا ذکر آتے ہی دل و دماغ معطر ہو جاتے ہیں۔ وہاں گذارے چند دن اور روشن راتیں قلب و جگر کو منور کرتی ہیں۔ بی بی زینب کا دمشق، سلطان صلاح الدین ایوبی کی آخری آرام گاہ، عرب تہذیب و تمدن کا گہوارہ …میرا دمشق آج ظالموں اورجابروں کے نرغے میں ہے۔صرف چند برس پہلے اقوام متحدہ سے دنیا کے محفوظ ترین شہر کا اعزاز پانے والا دمشق، آج دھماکوں سے لرز رہا ہے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ ساری دنیا سے ’’مجاہدوں‘‘ کے گروہ اس شہر بے مثال کو فتح کرنے کیلیے ترکی اور قطر کے راستے وہاں پہنچ رہے ہیں۔ وزیرستان سے معروف چیچن کمانڈر روسلان کیلائیو حلب کے محاذ پر برسرپیکار ہیں جہاں ان کا بیٹا رستم کیلائیو شام کی سرکاری فوجوں سے لڑتا ہوا ’’جام شہادت‘‘ نوش کر چکا ہے۔

برطانیہ میں شدت پسند ی اور دہشت گردی پر کڑی نظر رکھنے والے خفیہ ادارے مختلف قومیتوں کے مسلمان نوجوانوں میں بشارالاسد کی ’’منکراورظالم‘‘ حکومت کے خلاف ایک بار پھرجذبہ جہاد بیدار کر رہے ہیں۔ قبرص میں قائم برطانوی جاسوسی اڈے سے شامی باغیوں کی رہنمائی کی جا رہی ہے اور انھیں خفیہ جنگی اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں۔برمنگھم سے پاکستانی نژاد رُکن برطانوی پارلیمان خالد محمود کھل کر احتجاج کر رہے ہیں کہ برطانوی خفیہ ادارے شامی باغیوں کے لیے ہونے والی بھرتی سے دانستہ چشم پوشی کر رہے ہیں اور اب تک پاکستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے 300 نوجوانوں کو ضروری تربیت کے بعد دمشق کے محاذ پر بھجوایا جا چکا ہے۔

وزیرستان سے امریکی، افغان اور پاکستانی افواج سے بیک وقت برسرپیکار یہ مجاہدین دمشق کے محاذپر امریکا اور اس کے حامیوں کے ساتھ مل کر کس کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ صرف جغرافیائی تبدیلی سے نظریات اور قلب و نگاہ کے زاویے یکسر کیسے بدل سکتے ہیں۔ یہ کیا معمہ ہے کہ اسلام سے وابستگی اور شدت پسندی کے لیے معروف چیچن کمانڈر روسلان کیلائیو افغانستان میں امریکا کے خلاف جہاد کرتے کرتے اچانک شام کیسے جا پہنچے اور وہ امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے ساتھ مل کر حلب کے خطِ اول پر معرکہ آرا ہو گئے۔

یہ کرائے کے لڑاکے ہیں یامجاہد ۔۔۔۔۔ ان کے ٹھوس عقائد پر استوار نظریات یکایک کیسے بدل گئے۔ اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے متحارب فریقوں کی صف بندیوں پر غورکرنا ہو گا۔شام کی حکومت کے خلاف مختلف الخیال تین مسلمان ممالک کا اتحاد ثلاثہ تشکیل، ترکی کے اسلام پسند جمہوری حکمرانوں، قطر کے آمرِ مطلق اور خادم ِحرمین شریفین… اس مقدس جنگ میں گولہ بارود، سامان ِرسد باغیوں کو مہیا کرنے کے ذمے دار ہیں۔اس لیے پاکستان کے خلاف برسر پیکار مقامی و غیر ملکی عناصر نادیدہ اِشاروں پر ’’مملکت خراسان‘‘ سے دمشق کے میدان جنگ کی طرف ہجرت کر رہے ہیں اور اس کے لیے ’’محفوظ راستے‘‘ کون فراہم کر رہا ہے۔ بشارالاسد کے خلاف دوحہ اور استنبول میں خیمہ زن اتحاد ثلاثہ کے اجزائے ترکیبی پر غور کیا جائے تو معاملہ عیاں ہو جاتا ہے کہ فوری ضرورت کے تحت کرائے کے یہ مجاہدصرف محاذ ہی نہیں نظریات اور دشمن بھی بدل سکتے ہیں اور ہم کھلی آنکھوں کے ساتھ شام میں یہ کایا کلپ دیکھ رہے ہیں۔

شام امریکا کا ہدف کیوں ہے! اس لیے کہ بشارالاسد کی ’’ملحد‘‘ حکومت نے شام کو امریکا اور اسرائیل سے اصلی جنگ لڑنے والے شیعہ اور سنی جنگجوئوں کی پناہ گاہ بنا دیا تھا۔ لبنانی شیعہ ملیشیا، حزب اللہ کے حسن نصر اللہ جنہوں نے اپنے جذبے اور بشار الاسد کی فوجی حمایت کے سہارے اسرائیل کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ اسرائیل جس نے ہر لڑائی میں شام سمیت تمام عرب ممالک کی فوجوں کو شکست فاش دی تھی۔

اس طرح اسرائیل کی سر زمین پر کثیرالجہتی محاذوں پر سینہ سپر سنی العقیدہ حماس اور اس کی قیادت کے لیے حقیقی سائبان کس نے فراہم کیا اور دمشق اُن کے لیے کیسے جائے امان بنا۔ یہ سب مرحوم حافظ الاسد کی دانشمند قیادت کا کمال تھا۔ جس نے اسرائیل سے شکست کھانے کے بعد زخم چاٹنے کے بجائے خاموشی سے نئی معرکہ آرائی کی تیاری جاری رکھی۔ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں بر سر پیکار راسخ العقیدہ سنی، حماس کی قیادت کو اپنا بازوئے شمشیر زن بنایا۔ یہ وہی حافظ الاسد تھے جو اپنی شخصی عظمت کی دَھاک بٹھانے کے لیے شام کے گلی کوچوں میں اپنے بت نصب کرنے کے خبط میں بھی مبتلا رہے کہ شخصی عظمت کا جاہ و جلال ہمیشہ آمریت کی کھیتی میں پھلتا پھولتا ہے لیکن سراب ہوتا ہے اور ہمیشہ اپنے شکار کو دھوکے میں رکھ کر مار ڈالتا ہے۔

مشرق وسطی میں امریکی عزائم کی راہ میں شام سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ اس لیے بشارالاسد کی’’ ظالم‘‘ حکومت کو ہٹانے کے لیے اوبامہ نے اعلانِ جہاد کر دیا۔ جس کا ہر اول دستہ ترکی کے اسلام پسند حکمران ہیں جبکہ قطر اور سعودی عرب مالیاتی، سفارتی اور اخلاقی محاذوں پر باغیوں کے لیے جہاد کی معاونت کے ساتھ ساتھ اس کا شرعی جواز تلاش کر چکے ہیں اس لیے تو ساری دنیا سے جذبہ جہاد سے سر شار مجاہدین دمشق کا رُخ کر رہے ہیں تا کہ بشار الاسد کی فاسق و فاجر حکومت کا تختہ اُلٹ کر اس پُر امن ملک میں بھی لیبیا اور عراق کی طرح شوریدہ سر جمہوریتوں کی بنیاد ڈالی جا سکے۔

مسلمان ممالک کی نمایندہ تنظیم او آئی سی شام کی رکنیت ختم کر چکی ہے جس کے بعد شاطر امریکی شام کو نوفلائی زون قرار دینے کے لیے اقوام متحد ہ میں اپنی بساط بچھا رہے ہیں۔ جس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چین اور روس بنے ہوئے ہیں لیکن ان کا ویٹو کب تک موثر رہے گا؟ میڈیا وار کے لیے کیل کانٹے تیار کیے جا رہے ہیں۔ باغیوں کو پراپیگنڈہ جنگ کی تربیت دینے کا امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے باقاعدہ اعتراف کر لیا ہے۔ رائی کا پہاڑ بنانے میں امریکیوں کو کمال حاصل ہے۔ صدام کے خلاف وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے من گھڑت افسانے اور جھوٹی افواہیں پھیلائی گئیں۔ جسے امریکا سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے بے بنیاد قرار دے دیا لیکن نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا۔ اس بے بنیاد الزام کی آڑ میں عراق کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ اب وہی مکروہ کھیل شام میں کھیلا جا رہا ہے کہ شام باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ بلا ٹھوس ثبوت شامی فوج پر ظلم و ستم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جو سوچی سمجھی اور منظم اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہیں۔ جس میں تمام بین الاقوامی خبر رساں ادارے مجرمانہ طور پر معاون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ واٹرگیٹ اسکینڈل کا شکار ہو جانے والے امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ایک بار کہا تھا کہ پراپیگنڈہ پر لگایا گیا ایک ڈالر اسلحہ پر خرچ کیے جانے والے دس ڈالر کے مقابلے میں زیادہ قیمتی اور موثر ہوتا ہے کیونکہ پراپیگنڈہ کا اثر فوراً ظاہر ہو جاتا ہے۔ امریکی دل و جان سے نکسن کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں۔

امریکی دانشور کئی دہائیوں سے تیل کے لیے جاری جنگ کو تہذیبوں کے تصادم کی اصطلاح میں ڈھانپتے رہے ہیں لیکن شام میں جاری بغاوت نے اس ملمع کاری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ نظریاتی اعتبار سے شام کے حکمران، لبرل، سیکولر اور اسلامی نظریات اور تشخص سے کوسوں دُور رہے ہیں لیکن جنگوں میں نظریات نہیں مفادات فیصلہ کن محرک ہوتے ہیں۔ اس لیے امریکی بڑی ڈھٹائی سے شام کے روشن خیال اور لبرل حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے میدان جنگ میں نکلے ہیں۔ ہزار سالہ تاریخ کا حامل دمشق، عربی تہذیب و تمدن کا گہوارہ——- اب امریکی تربیت یافتہ جنگجوئوں کے نرغے میں ہے۔

بی بی زینب کا مزار، جامع اُمیہ، صلاح الدین ایوبی کا مرقد، دمشق یونیورسٹی اور پانچ صدیوں سے بروئے کار، شہر کہنہ کا حمام، نجانے کیا کیا یاد آتا ہے۔ اس شہر بے مثال کے کھانے جن کا ذائقہ آج بھی نوک زُباں پر ہے۔

شام کو نوفلائی زون قرار دینے کے بعد چہاراطراف سے دمشق پر چڑھائی کے منصوبے کی نقش گری ہو رہی ہے۔ مختلف شہروں میں سرکاری فوجوں سے الجھنے کے بجائے ساری قوت کو دمشق کے اطراف میں متجمع کیا جا رہا ہے 1971ء میں بھارت کی جارحِ افواج نے اسی حکمت عملی کے تحت براہ راست ڈھاکہ پر چڑھائی کی تھی کیونکہ جب دارالحکومت ختم ہو جاتے ہیںتو پھر حکومتیں قائم نہیں رہا کرتیں۔ تازہ ترین سانحہ لیبیا میں ہو چکا ہے۔ باغیوں نے طرابلس فتح کر لیا تو کرنل قذافی نے ڈوبتے اقتدار کوبچانے کے لیے دارالحکومت ’’سیرت‘‘ منتقل کر دیا تھا۔ جب قدموں تلے زمین نہ رہے تو صرف شہر بدلنے سے اقتدار نہیں بچا کرتے۔

شام میں جاری جنگ اور نظریاتی اَکھاڑ پچھاڑ پر سب سے معنی خیز تبصرہ چیچنیا کے صدر رمضان قادروف نے کیا ہے۔ ’’چیچنیا کے باشندے شام میں نہیں لڑ رہے جہاں تک روسلان کیلائیویا ان کے صاحبزادے رستم کا تعلق ہے ان کا کوئی وطن نہیں رہا۔ اس لیے انھیں چیچن قرار دینا غلط ہے۔‘‘

جی ہاں کرائے کے سپاہیوں اور قاتلوں کا کوئی وطن یا نظریہ نہیں ہوتا!
ان کا کام کٹھ پتلیوں کی طرح نادیدہ اشاروں پر ناچنا ہوتا ہے
وزیرستان سے دمشق تک آج یہ ناٹک جا ری ہے!

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …