منگل , 21 جنوری 2020

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

سید جواد حسین رضوی

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا تعلق شیعہ خوجہ اثنا عشری جماعت سے تھا جنہوں نے نیک نیتی کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علحدہ وطن حاصل کیا۔ خود شیعہ ہونے کے باوجود ہمیشہ مسلک سے بالاتر ہو کر سوچا اور تمام مسلمانوں کے لئے چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی، بریلوی ہوں یا دیوبندی، مقلد ہوں یا غیر مقلد ایک علحدہ وطن کا تحفہ دیا۔

اسی قائد کے پاکستان میں چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ثقلین نقوی کو اس لئے ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق شیعہ مکتب فکر سے ہے۔ وہ ملک جس کے شیعہ بانی نے کبھی مسلکی بنیاد پر تفریق نہیں کی وہاں ان کے ہم مسلک افراد کو اہم عہدوں سے دور رکھنے کے لئے مسلک کا کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔ گویا یہاں وہی افراد اہم عہدوں پر ہو سکتے ہیں جن کا تعلق ایک خاص مکتب فکر سے ہو۔

تکفیری عناصر سر عام مختلف شاہراہوں اور چوک پر مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور ریاست خاموش تماشائی بنی نئے پاکستان کے قیام پر بغلیں بجا رہی ہے۔ شاید نئے پاکستان کی ابتدا بانئ پاکستان کی تکفیر کے بغیر ممکن نہیں۔

عین ممکن ہے کہ وائس چانسلر کے خلاف کچھ یونیورسٹی کے اندرونی لوگ بھی متحرک ہوں جو وی سی کے مسلک کو بنیاد بنا کر لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہوں۔ شیعہ اس ملک میں بہت آسان ہدف ہیں جس کا عملی مظاہرہ اس وقت باچا خان یونیورسٹی میں ہو رہا ہے۔

اگر نیا پاکستان حقیقت میں قائد اعظم کا پاکستان ہے تو حکومت کو نفرت پھیلانے والے ان عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنی چاہیے تاکہ یہ نشانۂ عبرت بنیں۔ لیکن سردست ایسی کسی بھی کارروائی کی اطلاعات نہیں آئيں۔ خٹک صاحب اپنے صوبے میں عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور کالعدم جماعتوں کو لگام ڈالیں، نئے پاکستان میں مسلک کی بنیاد پر ناانصافی کی حوصلہ شکنی کی جائے اور فقط کنٹینر پر رقص کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …