جمعہ , 7 اگست 2020

کیا ڈرون حملے کے وقت مقتدیٰ الصدر اپنے گھر میں موجود تھے؟

کیا حملے کے وقت مقتدیٰ الصدر اپنے گھر میں موجود تھے۔ ایک معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتدیٰ الصدر صاحب اس وقت عراق میں نہیں ہیں اور بنا بر وجوہات ایران کے شہر قم میں مقیم ہیں اور قم میں مشغول تحصیل علوم دینیہ ہیں۔ قم میں موجود طالبعلموں نے انہیں گزشتہ روز بھی آیت اللہ جعفر سبحانی کے درس خارج میں دیکھا ہے۔


دوسری طرف اطلاعات کے مطابق  مقتدیٰ الصدر کے گھر پر ہونے والے حملے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ جس سے کوئی بڑا نقصان ہوتا۔ یہ ایک دیسی ساخت معمولی راکٹ تھا جو ان کے گھر کی بیرونی دیوار کو آ لگا ہے جس کے بارے احتمال ہے کہ ڈرون کے ذریعے پھینکا گیا ہے۔
لہذا یہ حملہ مقتدیٰ الصدر کی جان لینے کے قصد سے نہیں کیا گیا اس کے باوجود کے سید مقتدیٰ کے نزدیکی ساتھیوں نے عوام کو سید مقتدیٰ کے گھر کے باہر جمع ہوںے اور انسانی دیوار بنانے کا کہا اور کہا ہے سید کی جان کو خطرہ ہے۔
ذرائع کا مزید یہ کہنا ہے کہ حملہ ایک طرح کا پیغام ہے جو اس وقت کسی کی طرف سے بھی دیا جاسکتا ہے۔ مقتدی الصدر از اول ان مظاہروں میں حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں اور سب سے پہلے حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ انہوں نے ہی کیا تھا۔ بعدازاں انہوں نے اپنے زیر اثر تربیت یافتہ عسکری گروہ سرایا الاسلام کو مظاہرین کی حفاظت کی غرض سے مظاہروں والی جگہوں ہر رہنے کی تاکید کی تھی تاہم گزشتہ چند دنوں میں عراقی سیکورٹی اداروں نے سید مقتدی کو پیغام بھی بھجوائے ہیں کہ سرایا الاسلام کے کارکن زبردستی سڑکیں بند کررہے اور سیکورٹی اداروں کے اقدامات کے رستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں لہذا اب جبکہ حکومت مستعفی ہوچکی اور آپ مرجعیت کی حمایت کا اعلان کرچکے تو اپنے حامیوں کو مظاہروں سے واپس جانے کا کہیں جس کا اس وقت تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے ایسی صورتحال میں جب مقتدیٰ ایک مکمل اپوزیشن کا کردار ادا کررہے بلکہ تخریب میں بھی ان کے لوگ ملوث ہوں، دوسری طرف سیکورٹی اداروں اور ان کے درمیان پیغامات کا ردوبدل بھی ہوچکا ہو اور وہ خود فزیکلی عراق میں موجود بھی نہ ہوں ایسے میں یہ حملہ کس فریق کے فائدے میں ہے؟۔  خیال ہے عراقی قبائل کی موو کے بعد اور پارلیمانی جماعتوں کے درمیان نئی حکومت پر اتفاق کے امکانات کا قوی ہونا باعث بنا ہے کہ تیسرا فریق ہر اس آپشن کو استعمال کرے جس سے داخلی طور پر مختلف گرہوں کے درمیان غلط فہمیاں ایجاد ہوں اور حتی داخلی طور پر درگیری وجود میں آئے۔ اس سے بحران کے طول پکڑنے میں مدد ملے گی۔ مقتدی کے گھر پر حملہ انہی آپشنز میں سے ایک آپشن ہے۔ یاد رہے اطلاعات ہیں کہ مقتدی نئی حکومت کی تشکیل میں اپوزیشن ڈیسکوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کرچکے اور نئی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے۔

علاوہ ازیں ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہگزشتہ رات بغداد کے میدان التحریر میں بھی نامعلوم لوگوں نے شدید فائرنگ کی ہے جس سے حشد الشعبی کے میڈیا دیسک کے کیمرہ مین سمیت 6 افراد شہید ہوئے ہیں۔ اس فائرنگ کے بارے بھی یہی کہا جارہا ہے کہ قبائل کی موو کے بعد جب تخریب کاروں اور نفوذی عناصر کو میدان التحریر چھوڑنا پڑا اور عملاً مظاہرے مرجعیت کے حامیوں کے ہاتھ میں جارہے ہیں تو یہ تخریب کار عناصر ایسی کاروائیاں کررہے ہیں جن سے داخلی گروہوں کے درمیان اختلافات کو ہوا ملے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے : اسد الدین اویسی

سری نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے …