پیر , 28 ستمبر 2020

طالبان نے کے سامنے امریکا نے سر جھکا دیا

قطر میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 3 ماہ سے تعطل کے شکار امن مذاکرات دوبارہ بحال ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان مذاکرات کو معطل کرنے کے اعلان کے 3 ماہ بعد قطر میں مذاکراتی عمل کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔ مذاکرات کے دوران امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد اور طالبان مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے مذاکرات کو اسی موڑ سے شروع کرنے پر زور دیا جہاں مذاکرات کو معطل کردیا گیا تھا۔

امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد گزشتہ روز ہی واشنگٹن سے کابل پہنچے تھے اور صدر اشرف غنی سے خصوصی ملاقات کی تھی۔ کابل کے بعد زلمے خلیل زاد قطر پہنچے جہاں انہوں نے طالبان نمائندوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں افغانستان میں پُر تشدد واقعات روکنے کیلئے حکمت عملی بھی وضع کی جائے گی۔

رواں برس ستمبر میں افغان امن مذاکرات حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے کہ کابل میں طالبان کے ایک حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ فریقین کے درمیان بیک ٹو ڈور رابطہ اس وقت شروع ہوا جب طالبان رہنماؤں کی جیل سے رہائی کے بدلے میں مغوی امریکی پروفیسر کی بازیابی عمل میں لائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ امریکا افغانستان میں 17 برسوں سے جاری جنگ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد اب اس ملک سے دامن بچا کر باہر نکلنا چاہتا ہے جس کے لیے افغان طالبان کے ساتھ قطر میں مذاکرات کا عمل شروع کیا گیا تھا جس کے دوران فریقین نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا پراتفاق کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران اور حزب اللہ کے خلاف شاہ سلمان کی ہرزہ سرائی، مخالف اتحاد بنانے کا مطالبہ

ریاض: سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمتی تحریک حزب …