پیر , 27 جنوری 2020

بھارتی خاتون نے امریکی ایوان میں مقبوضہ کشمیر پر بل پیش کر دیا

واشنگٹن: امریکی ایوان نمایندگان میں بھارتی نژاد خاتون رکن نے ایوان میں مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے متعلق بل پیش کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ایوان نمایندگان میں خاتون رکن پرامیلا جیا پال نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر ایک بل پیش کر دیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بندش اور نظر بندیاں فوری طور پر ختم کرے۔

پرامیلا جیا پال کے پیش کردہ بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تمام باشندوں کی مذہبی آزادی کا حق جلد بحال کرے،گزشتہ 30 سال میں مسئلہ کشمیر نے ہزاروں افراد کی جانیں لی ہیں۔

دریں اثنا، مقبوضہ کشمیر میں آج کرفیو کو نافذ ہوئے 126 دن ہو گئے ہیں، اس دوران وادی کی معیشت کو 150 ارب کا نقصان پہنچ چکا ہے، مسلسل کرفیو اور پابندیوں کے باعث مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے، تعلیمی ادارے، دکانیں، کاروباری مراکز، انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن سروس تاحال بند ہے، حریت رہنما اور مقامی سیاسی قیادت سمیت 11 ہزار کشمیری گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

دوسری طرف حریت رہنما سید علی گیلانی نے 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن پر یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت نے مسئلہ کشمیرپر ٹر مپ کی ثالثی کی پیشکش مستردکردی

نئی دہلی:بھارت نے امریکی صدر ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو مسترد کرتے …