منگل , 4 اگست 2020

لبنان کے نگران وزیراعظم سعد الحریری کی برطانیہ ، جرمنی اور اسپین سے امداد کی اپیل

لبنان کے نگران وزیراعظم سعد الحریری نے جرمنی ، برطانیہ اور اسپین کے لیڈروں سے اپنے ملک کو درپیش معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مالی امداد کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے ان تینوں ممالک کی حکومتوں کے نام ہفتے کے روز خطوط بھیجے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ لبنان کو غذائی اجناس سمیت اشیائے ضروریہ کی درآمدات کے لیے نقد رقوم کی اشد ضرورت ہے۔

سعد الحریری نے جمعہ کو سعودی عرب ، فرانس ، روس ، ترکی، امریکا ، چین اور مصر کے رہ نماؤں کو خطوط لکھے تھے اور ان سے بھی ملکی درآمدات کے لیے رقوم مہیا کرنے کی اپیل کی تھی۔

لبنان اس وقت سخت معاشی بحران سے دوچار ہے اور اس قومی خزانہ زرمبادلہ سے خالی ہوچکا ہے اور اس کے پاس ضروری درآمدات کے لیے بھی رقوم نہیں ہیں۔لبنانی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دوسرے ممالک سے غیرملکی کرنسی میں ملنے والی امدادی رقوم کو شہریوں کے لیے بنیادی اشیائے ضروریہ کی درآمدات پر صرف کیا جائے گا تاکہ غذائی اجناس اور پیداوار کے لیے درکار خام مال کی لبنان میں دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔

لبنان میں 17 اکتوبر سے ہزاروں شہری حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔وہ حکمراں اشرافیہ کی بدعنوانیوں، پست معیار زندگی،بے روزگاری اور معاشی زبوں حالی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ ارباب اقتدار ہی کو ملک کے معاشی مسائل کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں۔

ان ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیراعظم سعدالحریری 29اکتوبر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے لیکن صدر میشیل عون نے ان کے مطالبے پر اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ مظاہرے ان کے خلاف نہیں، بلکہ کرپشن کے خلاف کیے جارہے ہیں۔

مستعفی وزیراعظم سعدالحریری کے زیر قیادت جماعت مستقبل تحریک نے اب کاروباری شخصیت سمیر خطیب کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھیں مشاورت کے بعد آیندہ سوموار کو باضابطہ طور پر پارلیمان میں وزیراعظم نامزد نامزد کردیا جائے گا۔

لبنان کی دو شیعہ جماعتوں حزب اللہ اور امل نے بھی سمیر خطیب کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ لبنان میں فرقہ وار بنیاد پرمروج نظام حکومت میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنی مسلمان کے لیے مختص ہے اور اس عہدے کے لیے کسی سنی ہی کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔پارلیمان کا اسپیکر اہل تشیع سے ہوتا ہے اور صدر کا تعلق عیسائی مذہب سے ہوتا ہے۔

اگر لبنانی پارلیمان میں سنی اور شیعہ دونوں گروپ سمیر خطیب کی حمایت کرتے ہیں تو ان کا انتخاب یقینی ہے۔وہ ایسے وقت میں نئی حکومت کے سربراہ بنیں گے جب لبنان کو بدترین معاشی بحران اور سماجی ابتری کا سامنا ہے۔

دریں اثناء پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ سمیر خطیب ہی کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کریں گے۔انھوں نے اخبار الجمہوریہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ابتدا میں تو وزیراعظم سعد الحریری یا ان کے حمایت یافتہ کسی شخص کو نئی حکومت کی قیادت کے لیے نامزد کرنے والا تھا۔اب وہ انجنئیر سمیر خطیب کی حمایت کررہے ہیں اور میں بھی ان ہی کو نامزد کروں گا۔‘‘

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کی ایک بار پھر لبنان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی

لبنان کی فوج کا کا کہنا ہے کہ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت …