منگل , 4 اگست 2020

ایپ سے خطرے کی تنبیہ: ’مستقبل قریب میں پانی کے لیے فسادات ہونے کا خدشہ‘

انڈیا، عراق اور مالی میں آئندہ چند برسوں میں پانی کی دستیابی پر فسادات بھڑک اٹھنے کا خدشہ ہے جس کا خدشہ ایک ‘ایپ’ بنانے والوں نے ظاہر کیا ہے جن کا مقصد ممکنہ فسادات کی وقت سے پہلے نشاندہی کر کے ان سے بچنا ہے۔

یہ ایک جدید ترین ‘ایپ’ اس کے بنانے والوں کے مطابق وقت سے پہلے خطرات کی نشاندہی کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔

ان کے مطابق پاکستان، ایران اور نائجیریا میں بھی ایک سال کے عرصے میں کشیدہ صورت حال پیدا ہوسکتی ہیں اور پانی کی دستیابی اس کا سبب ہو سکتا ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبادی، تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر، معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی زراعت کے سبب پانی کے محدود ذخائر پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹر فاونڈیشن کی چند روز قبل جاری ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ کرۂ ارض کا ایک چوتھائی حصہ قدرتی ذرائع سے پانی کے ذخائر بھرنے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے پانی استعمال کر رہا ہے۔

عالمی آبی ذخائر سے متعلق ادارے ‘واٹر پیس اینڈ سیکیورٹی، جس کی شراکت میں یہ نئی ایپ بنائی گئی ہے ان کے مطابق یہ نیا طریقہ حکومتوں اور قدرتی آفات کی صورت میں امداد فراہم کرنے والے اداروں کو قبل از وقت خطرات سے خبردار کر دے گی اور ان کو ان خطرات کا تدارک کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

اس ادارے کا کہنا ہے کہ تجرباتی مرحلے پر اس ایپ کی ایسے جھگڑوں یا کشیدگی کی جن میں دس یا اس سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہو کامیابی سے نشاندہی کرنے کی شرح 86 فیصد یا اس سے زیادہ رہی۔

واٹر اینڈ پیس سیکیورٹی کے شریک ادارے ‘انٹرنیشنل الرٹ’ کی اہلکار جیسکا ہارٹوگ کا کہنا ہے کہ یہ ایپ اس لیے بہت اہم ہے کہ پانی کی عدم دستیابی پر دنیا میں کشیدگی پیدا ہونے کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

انھوں نے تھامس فاونڈیشن کو بتایا کہ اس سے انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے اگر سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر انھیں اعداد و شمار سے آگاہ کیا جائے جو آنے والے دنوں اور مہینوں میں خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

واٹر اینڈ پیس سکیورٹی گلوب ارلی وارنگ ٹول میں ‘مشین لرنگ’ طریقہ استعمال ہوتا ہے یعنی خود کار یا کمپیوٹر کے ذریعے گزشتہ 20 سال میں اسی متغیر عوامل کی بنیاد پر ان خطرات کا پتا لگاتا ہے۔

ان عوامل میں ہوا میں نمی، خشک سالی، سٹلائٹ سے موصول ہونا والا ڈیٹا یا اعداد و شمار، سماجی، معاشی اور آبادی سے متعلق ڈیٹا، آبادی کی گنجائی اور ماضی میں ان علاقوں میں تشدد کا رجحان شامل ہیں۔

ورلڈ رسورسز انسٹی ٹیوٹ کے چارلس آئس لینڈ کا کہنا ہے کہ پانی کی دستیابی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے اکثر صرف نظر کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بھی اس نئے ایپ کو دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے کی جانی والی کوششوں اور کارروائیوں میں ایک سنگ میل قرار دیا جس سے خون ریزی سے قبل اتنا موقع فراہم کر سکتا ہے کہ اس کو تدارک کیا جا سکے۔

اس ایپ کو مالی میں تجرباتی طور پر استعمال کیا گیا جہاں پانی کی عدم دستیابی یا کمی دوگون کسانوں اور فولانی چرواہوں کے درمیان کشیدگی میں ایک بڑا عنصر تھی۔

انٹرنیشنل الرٹ کی ہارٹوگ نے کہا کہ’سیاست دانوں اور پالیسی ساز لوگوں سے بات کرنے اور انھیں قائل کرنے میں ڈیٹا بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ مالی میں انھوں نے حکومت اور سول سوسائٹی کے گروپوں سے آنے والے خطرات کے بارے میں بات شروع کر دی ہے۔

واٹر اینڈ پیس سیکیورٹی نے عراق میں اس بات کی پیش گوئی کر دی تھی کہ بصرہ جہاں صاف پانی کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے وہاں صورت حال انتہائی کشیدہ ہو جائے گی کیونہ وہاں گذشتہ سال مضر صحت پانی پینے سے ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں کو ہسپتال داخل ہونا پڑا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

چین کے ساتھ سرحدی تنازع پر دنیا ہمارے ساتھ ہے: سشما سوراج

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے چین کے ساتھ سرحدی تنازع …