بدھ , 29 جنوری 2020

برطانوی انتخابات میں کشمیر کی اہمیت

نعیمہ احمد مہجور

اسی لاکھ سے زائد محصور کشمیری اس بات پر کچھ مطمئن نظر آ رہے ہیں کہ بھارت نے خود کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کیا اور پانچ اگست کے فیصلے کے بعد بیشتر ملکوں میں یہ مسئلہ انتخابی مہم کا اہم ایجنڈا بھی بن گیا۔ تازہ مثال برطانیہ کی ہے جہاں پارلیمانی انتخابات کے لیے 12 دسمبر کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور بیشتر انتخابی حلقوں میں کشمیر کی موجودہ صورت حال اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

انتخابی مہم میں اتنی گرمجوشی نظر نہیں آتی ہے جتنی کرسمس کی تیاریوں میں جس کی سجاوٹ، خریداری یا چھٹیاں منانے کا اہتمام ہر ووٹر کے ذہن پر سوار ہے۔

برطانیہ کا ہر بازار، ہر گلی یا ہر مکان آج کل قمقوں سے سجا ہوا ملے گا۔ بازاروں میں تحفے وتحائف کی خریداری دیکھ کر امیر یا سرمایہ دارانہ نظام کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ ہم جیسے غریب ملکوں کے لوگوں کو یہ دیکھ کر فرحت سے زیادہ وحشت طاری ہوتی ہے یا شاید میں اس کی عادی نہیں ہوں۔ میں فورا اس چمک دھمک سے گھبرا جاتی ہوں اور اپنے غریب عوام کی یادوں کے انبار تلے چہرہ چھپانے کی کوشش کرتی ہوں۔

انتخابی مہم اور کرسمس کی خریداری کے دوران جب 30 نومبر کو لندن برج پر حملہ ہوا تو عام شہریوں کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کیوں کہ ہم ان حالات سے آئے دن گزرتے ہیں اور دہشت کا سامنا کرنے کی اپنی صلاحیت بھی اب کھو چکے ہیں۔

برطانیہ کی انتخابی مہم میرے لیے دلچسپی کا باعث اس لیے بنی کیوں کہ شاید پہلی بار کشمیر کا تنازعہ اور موجودہ صورت حال یہاں کی سیاست پر اتنی حاوی ہے کہ بعض عناصر نے حملہ آور کا تعلق کشمیر سے جوڑا اور کشمیر کے حامی سیاست دانوں کے خلاف بدظنی پھیلانے کی بھر پور کوشش کی۔

بھارت کی حکومت کے پانچ اگست کے فیصلہ پر عالمی سطح پر بدستور تشویش ظاہر کی جا رہی ہے اور کئی ملکوں نے بھارت پر اپنا فیصلہ بدلنے اور ترسیلات کو بحال کرنے کے لیے زور بھی ڈالا جس کو بھارت نے اب تک نظر انداز کیا ہے۔

برطانوی پارلیمان میں بیشتر اراکین نے کشمیر کے حالات پر تشویش ظاہر کی جبکہ حزب اختلاف کی بڑی پارٹی لیبر نے ایک اہم اجلاس کے دوران کشمیر کے مسئلے پر رائے شماری سے متعلق ایک قرارداد بھی منظور کر دی۔ اس پر فورا حکومت بھارت نے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی حامی ہندو تنظیمیں لیبر پارٹی کے خلاف ملک گیر مہم چلا کر ہندؤں سے حکمران جماعت کنزرویٹیو کو ووٹ ڈالنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ برطانیہ کے انتخابات میں پہلی بار بی جے پی کی ہندوتوا پالیسیاں مداخلت کر رہی ہیں۔

ماضی میں یہاں روس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے یا اسرائیل کا خاصا اثر پایا جاتا رہا ہے لیکن پہلی بار ہندتوا پالیسیاں ہندو ووٹروں پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے میں کوشاں ہیں۔ گو کہ کنزرویٹو پارٹی نے لیبر پارٹی پر یہود مخالف سوچ رکھنے کی تشہیر میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے جس کو لیبر نے ہر مرتبہ رد کیا ہے۔

برطانیہ میں ایک تنظیم او ایف او بی جے پی یعنی اورسیز فرینڈز آف بی جے پی ایک بڑی نیٹ ورک کے طور پر قائم کی گئی ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں بی جے پی کے حق میں بھارتیوں کو متحد کرتی ہے اور ہندتوا کے ایجنڈے کی حمایت حاصل کرنے کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس نیٹ ورک کی 40 شاخیں مختلف ملکوں میں سرگرم ہیں۔

انڈیا کے بیشتر ووٹروں کو خود پہلی بار معلوم ہوا کہ برطانیہ میں ہندو مندروں کے انتظامات سے متعلق ایک بڑا ادارہ کام کر رہا ہے جس نے تمام مندروں کے ذمہ داران سے وٹس اپ ایپ پیغامات کے ذریعے تاکید کی کہ ہندوؤں کو کنزرویٹیو کو ووٹ دینے پر آمادہ کرنے کی بھر پور کوشش کی جانی چاہیے۔ لیبر پارٹی کو کٹر ہندوؤں کی اتنی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ پارٹی کو کشمیر کے حوالے سے ایک خط شائع کرنا پڑا جس میں کہا گیا کہ کشمیر مسئلہ بھارت اور پاکستان کو باہمی طور پر حل کرنا چاہیے۔ اس سے قبل قرارداد میں حق خود ارادیت پر زور ڈالا گیا تھا۔

بھارت نواز سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کو کافی اچھالا گیا تاہم انتخابی مہم میں کشمیر پوری طرح چھایا رہا، بھلے ہی بھارتی حکومت اس کو داخلی مسئلہ کیوں نہ قرار دے۔

بی جے پی کے حامی ہندوؤں نے کہا کہ وہ 48 نشستوں پر کنزرویٹیو کے حق میں مہم چلا رہے ہیں گو کہ بعض ہندوؤں نے بی جے پی کی مخالفت کرتے ہوئے بھارت کی بدلتی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ یہاں بھی کٹر سوچ اور جذبات ابھارنے میں مصروف ہے۔

یہ بات طے ہے کہ انتخابی مہم میں بریگزٹ اور ملک میں صحت عامہ دو اہم موضوعات ہیں جن کی بنا پر ووٹر اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں البتہ اس بار کشمیر کے بدترین حالات بیشتر انتخابی مباحثوں کا حصہ بن کر بھارت کے لیے گھبراہٹ کا باعث بنے۔

برطانیہ میں بھارتیوں کی تعداد 14 لاکھ ہے جن میں محض 40 فیصد کٹر ہندو سوچ کے حامی ہیں جبکہ پاکستانی تارکین وطن کی تعداد 12 لاکھ کے قریب ہے اور اکثر لیبر پارٹی کے حامی تصور کے جاتے ہیں۔

کنزرویٹیو پارٹی کے بعض ممبران پر سخت گیر سوچ رکھنے کا الزام ہے جن میں وزیر اعظم بورس جانسن بھی شامل ہیں۔ ان پر ماضی میں اپنے کئی اخباری مضامین میں مسلمان اور مسلم عورتوں کے خلاف غیرشائستہ الفاظ استعمال کرنے کا الزام ہے۔ انہیں حالیہ انتخابی نشریات میں مدعو سامعین کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

برطانیہ میں رہ کر اگر تارکین وطن کچھ نہیں سیکھتے مگر اس بات کا شعور ضرور بیدار ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کتنی ضروری ہے اور آزادی سوچ و تحریر وتقریر زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کے مترادف ہے۔ جب کشمیر کی 80 لاکھ آبادی سے زندہ رہنے کا حق چھینا گیا اور باضمیر اور باشعور عوام یا اراکین پارلیمان نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو چند فیصد کٹر ہندوؤں نے آزاد ماحول میں رہ کر بھی کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو جائز بتایا اور بی جے پی کی حمایت حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑی۔

ایسے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کی زنگ آلودہ سوچ کو تبدیل کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا اس کا ڈی این اے تبدیل کرنا ہے چاہے آپ لبرل جمہوریت میں رہتے ہوں یا ڈکٹیٹرشپ میں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فرعون وقت کے آشیانے میں صدائے موسیٰ

تحریر: سید اسد عباس ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے …