لبنان میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں دارالحکومت بیروت اور کئی دوسرے شہر پانی میں ایسے ڈوبے کہ گاڑیوں کی جگہ سڑکوں پر کشتیاں چل پڑیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنان کے دارالحکومت سےملنےوالی اطلاعات اور ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ بیروت میں سیلاب کی کیفیت ہے اور نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانی کی نکاسی کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ پانی کی وجہ سے بند سڑکوں کو کھولا جاسکے۔

طوفانی بارش کی وجہ سے پانہ صرف سڑکوں پر کھڑا ہوگیا بلکہ دکانوں اور لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے لبنان میں بارش کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال کے بعض تصویری مناظر حاصل کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز میں اس تکلیف دہ منظر کو دکھایا گیا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق بیروت میں قائم رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے کے متعدد دفاتر میں پانی داخل ہوگیا۔شدید بارشوں کی وجہ سے فضائی سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی لاپرواہی اور پانی کی نکاسی کے مسئلے کے بنیادی حل تلاش کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اکثر بارشوں میں علاقے سیلاب کا منظر پیش کرتے ہیں۔ دارالحکومت بیروت کے علاوہ ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں کا حال بھی ایک ہی جیسا ہے۔

خیال رہے کہ لبنان میں گذشتہ کچھ ہفتوں سے معاشی ابتری کے خلاف عوام سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج کے نتیجے میں وزیراعظم سعد الحریری کو اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہونا پڑا ہے۔