جمعہ , 14 اگست 2020

فلسطینی گاڑیوں کی توڑپھوڑ اسرائیلی تخریب کاروں کا مشغلہ بن گیا

فلسطینی شہریوں کی جان ومال پریہودی آباد کاروں کے حملے نہ صرف روز کا معمول ہیں بلکہ ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فلسطینیوں سے تعلق رکھنے والے ہرچیز یہودی آباد کار تخریب کاروں کے حملوں کا نشانہ بنتی ہے یہاں تک کہ گھروں کے سامنے کھڑی کی گئی گاڑیوں کو بھی معاف نہیں کیا جاتا۔ اس طرح فلسطینیوں کی املاک کی توڑپھوڑ اور ان پرحملے اسرائیلی تخریب کاروں کا دل پسند مشغلہ بن چکا گیا ہے۔دوسری طرف اسرائیلی پولیس فلسطینیوں کےخلاف صہیونی تخریب کاری کی اس منظم کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ ایام میں بیت المقدس میں فلسطینیوں کی 160 گاڑیوں کی توڑپھوڑ کی گئی۔ اس کے علاوہ فلسطینی شہریوں کے گھروعں کی بیرونی دیواروں پر نفرت آمیز چاکنگ کی جاتی ہے۔ پولیس فلطسینیوں کے خلاف شرپسندوں کی طرف سے جاری ان نفرت آمیز اور تباہ کن واقعات کی روک تھام میں ناکام ہے۔ پولیس پر یہودی شرپسندوں کے ساتھ ملی بھگت کا الزام بھی عاید کیا جاتا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس شہر کے ایک محلے میں 160 سے زیادہ گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور عرب مخالف نعرے لکھے گئے۔

سرخ رنگ کے ساتھ عبرانی زبان میں لکھے گئے نعروں کو تصاویرکی شکل میں سوشل میڈیا پر مشہتر کیا گیا۔۔ ان نعروں میں ‘ملک میں دُشمنوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے’ ، "عرب اور دشمن برابر ہیں” اور "جب یہودیوں کو چھرا مارا جائے گا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے” جیسے نعرے شامل ہیں۔

فلسطینی شہریوں نے’ اےایف پی’ کو بتایا کہ اس توڑ سے تقریبا 180 گاڑیوں کے ٹائر متاثر ہوئے ہیں۔ یہ گاڑیاں "ریخس شعفات” یہودی بستی کے قریب مرکزی سڑک پر کھڑی تھیں۔

نقاب پوش تخریب کار

شعفات ولیج کونسل کے سربراہ اسحاق ابو الخیرنے اس بات کی تصدیق کی کہ نگرانی کے لیے لگائے گئے کیمروں میں لوگوں کے ایک گروپ کو دکھایا گیا ہے جو گاڑیوں کے ٹائر خراب کررہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ ہونے والی گاڑیوں میں ان کی گاڑی اور اس کے بیٹوں کی کاریں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نسل پرست اسرائیلی ریاست نے اپنے گماشتے کھلے چھوڑ رکھے ہیں جو ہماری گاڑیوں کوتباہ کرتے ہیں تاکہ ہم کوئی کام کاج بھی نہ کرسکیں۔

ایک خاتون میساء ابو الخضر نے کہا کہ گاڑی خراب کیے جانے کے نتیجے میں میری بیٹی بارش میں اسکول گئی اور میں خود بھی اپنے کام پر نہیں جا سکی۔ اس کا کہنا تھا کہ خفیہ کیمروں سے تین نقاب پوش افراد کو گاڑیوں کے گرد گھومتے اور انہیں خراب کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گاڑیوں کو خراب کرنے میں ملوث ملزمان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

‘تدفیع الثمن’ پرالزام

فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کی املاک کے خلاف سرگرم ایک گروپ’تدفیع الثمن’کے نام سے مشہور ہے اور فلسطینی شہریوں کی طرف سے اس پر گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور دیگر املاک کوتباہ کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

مقامی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ‘تدفیع الثمن’ کے کارندےان کی جان ومال کے درپےہیں۔اس گروپ کا مقصد فلسطینیوں کی املاک کو توڑنا اور تباہ کرنا، کاروں کو نقصان پہنچانا، مسلمانوں اور عسیائی برادری کی عبادت گاہوں میں تخریب کاری اور زیتون کے درختوں کو اکھاڑنا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی صدر محمود عباس اور چینی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

اسلام آباد: فلسطین کے صدر محمود عباس اور چینی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ …