جمعہ , 14 اگست 2020

بغداد میں مظاہرین پرحملے کی مذمت کیوں کی؟ چار مغربی سفراء عراق کی وزارت خارجہ میں طلب

عراق کی وزارتِ خارجہ نے چار مغربی ملکوں کے سفیروں کو اختتام ہفتہ پر بغداد میں مظاہرین پر حملے کی مذمت کرنے پر طلب کیا ہے۔بغداد کے علاقے السنک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں حکومت مخالف بیس مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے اور چار پولیس اہلکار بھی مارے گئے تھے۔

جرمنی ، برطانیہ اور فرانس کے سفیروں نے اتوار کے روز عراق کے نگران وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے ملاقات کی تھی اور انھیں یہ باور کرایا تھا کہ کسی بھی مسلح گروپ کو ریاست کے کنٹرول سے آزاد ہو کربلاخوف وخطر کام نہیں کرنا چاہیے۔

کینیڈا کے سفیر نے الگ سے ایک بیان میں کہا تھا کہ ریاست کوخصوصی ایجنڈوں کے حامل مسلح گروپوں کو آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

عراق کی وزارت خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان چاروں سفیروں کو ان کی ملک کے داخلی امور میں ’’ناقابلِ قبول مداخلت‘‘ پر طلب کیا گیا ہے۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے نے آج ایک نیا سفری ہدایت نامہ جاری کیا ہے اور امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عراق کے غیر ضروری سفر اور مظاہروں والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔امریکی سفارت خانے نے مئی 2019ء میں ایسا ہی ایک اور سفری ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔

واضح رہے کہ جمعہ کی شب نقاب پوش مسلح حملہ آوروں نے بغداد میں دریائے دجلہ پر واقع السنک پُل پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر دھاوا بول دیا تھا جس سے تیئیس افراد موقع پر ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کی فائرنگ کا سلسلہ ہفتے کی صبح تک جاری رہا تھا اور انھوں نے کئی ایک مظاہرین کو چاقو بھی گھونپے تھے۔

عراقی حکام کے مطابق بغداد کے وسط میں مظاہرین پر اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد پچاس ہوچکی ہے۔ان میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں اور ایک سو تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران اور عراق میں جدائی، ناممکن !

امریکی، برطانوی، صیہونی اور بعض خائن عرب ریاستوں کی لاکھ کوششوں اور سازشوں کے باجود …