اتوار , 19 جنوری 2020

ایرانی وزیر خارجہ کی افغان صدر سے ملاقات

ایران کے وزیر خارجہ نے بیرونی فورسز کی موجودگی کو علاقائی امن و استحکام کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر افغانستان کے صدراشرف غنی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کابل قیادت میں انٹرا افغان ڈائیلاگ پر تبادلہ خیال کیا.

اس ملاقات میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات سمیت افغانستان کی حالیہ تبدیلیوں اور افغان حکومت کی قیادت میں ملک کے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان امن مذاکرات کے انعقاد پر تبادلہ خیال کیا۔

محمد جواد ظریف نے ترکی میں افغانستان سے متعلق منعقدہ "ہارٹ آف ایشیا استنبول عمل” کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے افغانستان میں یکجہتی اور اتحاد کے تحفظ پر زور دیا۔

انہوں نے افغان رہنماوں سے درخواست کی کہ وہ  اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغانستان میں یکجہتی اور اتحاد کے تحفظ سمیت ملک کے آئینی اصولوں کے عمل درآمد پر خصوصی توجہ دیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے ذمہ دار انخلا کیلئے ٹائم ٹیبل کے اعلان سے افغان حکومت کی جانب سے قومی سطح پر امن اور مفاہمت کےعمل کو قائم کرنے میں مناسب فضا کی فراہمی ہوجائے گی۔

محمد جواد ظریف نے افغانستان میں قیام امن کی فراہمی پر اقوام متحدہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ممالک کے خیالات کو مدنظر رکھنا اوران کے جائز خدشات پر توجہ دینا، امن معاہدے کی مضبوط علاقائی حمایت کا باعث بنے گا۔

انہوں نے داعش دہشتگرد گروپ کے خلاف ایک مضبوط اتحاد کی تشکیل اور اس گروہ کے خلاف جنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا سب سے پہلا اجلاس 2011ء میں 14 ممالک بشمول ایران، ترکی، افغانستان، آذربائیجان، چین، ہندوستان، قازقستان، کرغیزستان، پاکستان، روس، سعودی عرب، تاجیکستان، ترکمانستان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی شرکت سے منعقد کیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

رہبر معظم کا آیت اللہ سیستانی کے نام پیغام

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آیت اللہ العظمی سیستانی کے نام ایک پیغام میں ان …