بدھ , 23 ستمبر 2020

عراق میں مشکوک دہشتگردانہ اقدامات

تحریر: علی احمدی

گذشتہ دو دنوں میں عراق میں بعض مشکوک دہشت گردانہ اقدامات انجام پائے ہیں، جن کے باعث مختلف قسم کی قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی ہیں۔ کربلا میں عوامی مظاہروں کے دوران مظاہروں کو لیڈ کرنے والے دو لیڈر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے گئے۔ اس کے ایک ہی گھنٹے بعد بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو چار راکٹس سے نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح حشد الشعبی کی ویب سائٹ ہیک کرکے ملک میں جاری واقعات کے بارے میں جعلی بیان جاری کر دیا گیا۔ چند ہفتے پہلے عمار حکیم کے گھر میں تمام عراقی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ملاقات کی اور ایک معاہدہ انجام دیا۔ اسی طرح عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے، تاکہ عوامی مظاہروں کا سلسلہ روکا جا سکے۔ لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ نامرئی قوتیں ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہونے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ایک ایسے وقت جب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں نئی حکومت تشکیل دینے کیلئے باہمی صلاح مشورے میں مصروف ہیں، مشکوک دہشت گردانہ اقدامات کا سلسلہ انجام پاتا ہے۔ جمعہ کی رات بغداد کے دو علاقوں الخلانی اسکوائر اور السنک پل میں مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔

بعد میں اس دہشت گردانہ اقدام کا الزام عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی پر عائد کر دیا گیا۔ کل تین یورپی ممالک نے عراقی وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ حشد الشعبی کو عوامی مظاہروں کے قریب نہ آنے دیں اور بغداد میں فائرنگ کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے۔ ایک دن بعد یعنی ہفتے کے دن سائرون اتحاد کے سربراہ مقتدا صدر کے گھر پر ڈرون سے حملہ کیا گیا۔ یہ اقدام مقتدا صدر کے حامیوں میں اشتعال کا باعث بنا اور انہوں نے نجف کی جانب مارچ شروع کر دیا۔ مقتدیٰ صدر پارٹی کے رہنما محمد الدراجی نے اس بارے میں کہا: "یہ واقعہ خطرناک پیغام لئے ہوئے ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ مقتدیٰ صدر اس وقت ایران میں ہیں اور وہ حملے کے وقت اپنے گھر میں نہیں تھے۔” مشکوک دہشت گردانہ اقدامات کا سلسلہ آگے بڑھا اور اتوار کے دن کربلا میں عوامی رہنما فاھم الطائی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو نقاب پوش افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے فاھم الطائی کو قریب سے گولیوں کا نشانہ بنایا۔

اسی طرح مسلح دہشت گردوں نے ایک اور عوامی رہنما ایھاب جواد الوزنی کو قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا، لیکن وہ خوش قسمتی سے زندہ بچ گئے۔ انہیں کربلا کی قبلہ الحسین اسٹریٹ پر نشانہ بنایا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے ان دو واقعات سے پہلے ایک اور عوامی لیڈر مہند الکعبی کی گاڑی سے بم چپکا دیا گیا۔ البتہ وہ بھی قاتلانہ حملے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی طرح کل صبح کے وقت بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چار کیٹیوشا میزائل پھینکے گئے۔ اس حملے میں چھ فوجی زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی فورسز نے اس حملے کے فوراً بعد سرچ آپریشن شروع کر دیا اور اس جگہ کا سراغ لگا لیا، جہاں سے یہ میزائل فائر کئے گئے تھے۔ وہاں ابھی چند دیگر میزائل بھی پڑے تھے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جگہ امریکی فوجیوں اور سفارتکاروں کی رہائش گاہ تھی۔ دوسری طرف صوبہ دیالا کی سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ صادق الحسینی نے کہا ہے کہ حشد الشعبی نے داعش کی جانب سے ایک بڑی کارروائی ناکام بنا دی ہے۔ عراق آرمی نے موصل میں داعش کے بچے کھچے عناصر کے کلین اپ کیلئے فوجی آپریشن انجام دیا ہے۔ اس آپریشن میں داعش کے پانچ دہشت گرد گرفتار کئے گئے ہیں۔

الشرق الاوسط نے عراق میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ یہ اخبار لکھتا ہے: "دہشت گرد عناصر ہمیشہ سے عراق میں بدامنی کی آڑ میں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کوشاں رہے ہیں۔” جنرل تحسین الخفاجی نے ارادہ النصر فوجی آپریشن کے ساتویں مرحلے کے آغاز کی خبر دی ہے۔ یہ مرحلہ کچھ دن پہلے عراق کے صوبوں صلاح الدین، کرکوک، دیالا اور شہر سامرا میں شروع کیا گیا ہے۔ جنرل تحسین الخفاجی نے اخبار الشرق الاوسط کو بتایا: "یہ آپریشن اپنے تمام مطلوبہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا اور مقررہ وقت پر اختتام پذیر ہوگا۔” انہوں نے صلاح الدین اور کرکوک میں دہشت گرد عناصر کی سرنگیں اور خفیہ پناہ گاہیں کشف ہونے کی خبر دی اور کہا کہ اس کارروائی میں بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ ضبط اور بڑی تعداد میں دہشت گرد گرفتار کئے گئے ہیں۔ جنرل الخفاجی نے خبردار کیا کہ داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر عوامی مظاہرین کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں موصولہ معلومات کی روشنی میں داعش بغداد میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نئے کراچی کا خواب

غریدہ فاروقی جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیر اعظم عمران خان …