منگل , 9 مارچ 2021

عراقی شہر رمادی میں دوسرے روز بھی لڑائی جاری

1

عراق کے شہر رمادی کے مرکز سے ’دولت اسلامیہ‘ کو نکالنے کے لیے جاری جنگ دوسرے روز بھی جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عراقی سپیشل فورسز دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے گلی در گلی برسرپیکار ہے۔

حکام پر امید ہیں کہ وہ شہر کو اس ہفتے کے اختتام تک پھر سے حاصل کر لیں گے۔

لیکن امریکی اتحاد کے ایک ترجمان نے محتاط انداز میں کہا کہ اس کے لیے معرکہ سخت ہے۔

2

اطلاعات کے مطابق عراقی فوجی حکومت کے صدر دفتر کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں اور انھوں نے خود کش حملہ آوروں اور نشانے بازوں کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ رمادی مئی میں عراقی فوجیوں کی شرمناک شکست کے بعد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ہاتھ لگ گیا تھا۔

امریکی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کرنل سٹیو وارن کا اندازہ ہے کہ رمادی میں دسیوں ہزار شہریوں کے علاوہ ابھی بھی دولت اسلامیہ کے 350 جنگجو موجود ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو انسانی دھال کے طور پر استعمال کرنے کے لیے لوگوں کو گھیر رہے ہیں۔

بی بی سی کے مشرق وسطی کے نمائندے سیبشٹیئن اشر کا کہنا ہے کہ رمادی کا حملہ عراقی افواج کی جانب سے موثر حملہ نظر آ رہا ہے اور اس کے لیے امریکہ نے مہینوں تربیت دی تھی۔

3

اس سے قبل سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عراقی افواج جنھیں سنی قبائیلیوں اور امریکہ کی قیادت میں اتحادی طیاروں کی مدد حاصل ہے نے پہلے ہی دو ضلعوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہ دوسرے دو ضلعوں میں داخل ہو گئی ہیں۔

گذشتہ ماہ حکومت کی فورسز نے رمادی شہر پر اپنا مکمل محاصرہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے اس میں موجود دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اپنے دوسرے مضبوط گڑھ انبار صوبے اور شام سے کٹ گئے تھے۔

عراقی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عثمان الغنامی نے پیر کو سرکاری ٹی وی چینلوں کو بتایا تھا کہ ’رمادی کے محاصرے کے ساتھ ساتھ علاقوں سے دولتِ اسلامیہ کی صفائی‘ نزدیک تھی۔

 

4

منگل کی صبح کو عثمان الغنامی نے کہا کہ عراقی فوج، سنی قبائلیوں اور امریکہ کی قیادت میں اتحادی طیاروں کی مدد سے انسدادِ دہشت گردی کی فورسز نے رمادی کا محاصرہ شروع کیا تھا اور حکومت کے کمپلیکس کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہم مختلف راستوں سے رمادی کے مرکز کی جانب بڑھے اور ہم نے رہائشی علاقوں کو صاف کرنا شروع کر دیا۔‘

عثمان الغنامی نے کہا: ’آنے والے 72 گھنٹوں میں شہر خالی کروا دیا جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ ہمیں سنائیپرز اور خود کش بمباروں کا سامنا کرنا پڑا جس کی ہم پہلے سے ہی امید کر رہے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ دہشت گرد گروہ کے سرغنہ ہیں: سی این این

امریکی نیوز چینل سی این این نے رپورٹ دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک دہشت …