بدھ , 23 ستمبر 2020

امیر قطر ریاض کے اجلاس میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟

تحریر: فاطمہ محمدی

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی آج پیر کے دن براعظم افریقہ کے ملک روانڈا روانہ ہو گئے ہیں جبکہ سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز نے انہیں کل ریاض میں منعقد ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی تھی۔ قطر نیوز ایجنسی نے اس بارے میں لکھا ہے: "امیر قطر روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں کرپشن سے مقابلہ کرنے کی قدردانی کرتے ہوئے بین الاقوامی انعام عطا کئے جانے کی خصوصی تقریب میں شرکت کریں گے۔” نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق سیاسی ماہرین اس سے پہلے 2017ء سے قطر اور سعودی عرب کے درمیان شروع ہونے والے سیاسی تنازعات کے حل کیلئے امیدواری کا اظہار کر رہے تھے۔ سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے قطر کے امیر کو ریاض میں منعقد ہونے والی خلیج تعاون کونسل کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی خصوصی دعوت سے یہ امیدواری مزید بڑھ گئی تھی لیکن اب امیر قطر کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال بدستور بحرانی ہے۔

مڈل ایسٹ مانیٹر کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے تحادی ممالک کی جانب سے قطر کے خلاف اقتصادی پابندیاں اور محاصرہ ختم کئے جانے سے پہلے امیر قطر کا ریاض میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنا دور از امکان ہے۔ ابھی قطر اور سعودی عرب میں بہت سے مسائل حل ہونا باقی ہیں اور ایسی صورتحال میں امیر قطر سعودی عرب کا دورہ نہیں کر سکتے۔ اگر امیر قطر اپنے خلاف عائد پابندیوں کے خاتمے سے پہلے ریاض میں منعقد ہونے والے کسی اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے ان پابندیوں کے برحق ہونے کو تسلیم کر لیا ہے۔ دوسری طرف اگر سعودی عرب قطر سے اپنے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہوتا تو اسے یہ اجلاس کویت یا عمان جیسے غیر جانبدار ملک میں منعقد کرنا چاہئے تھا۔ یاد رہے 2017ء میں سعودی عرب اور خطے میں اس کے اتحادی ممالک یعنی متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے اپنے تمام تعلقات منقطع کر لئے تھے اور اس کے خلاف شدید اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے قطر کے خلاف اقتصادی محاصرے اور پابندیوں کے خاتمے کیلئے 13 شرطیں پیش کی تھیں جن میں الجزیرہ نیوز چینل کی بندش، ترکی کے فوجی اڈوں کا خاتمہ، ایران سے تعلقات کا خاتمہ اور اخوان المسلمین سے تعاون ختم کرنا شامل تھا۔ لہذا اگر ایسی صورتحال میں امیر قطر ریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے خلاف عائد الزامات کی تصدیق کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ قطر کے وزیر خارجہ اچانک دورے پر ریاض پہنچے ہیں اور انہوں نے سعودی حکام کو اخوان المسلمین سے تعلقات ختم کر دینے کے بدلے قطر اور سعودی عرب میں جاری تنازعہ ختم کر دینے کی پیشکش کی ہے۔ لیکن دیگر ذرائع ابلاغ نے قطر کی جانب سے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کی تردید کی اور واضح کیا کہ یہ افواہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے اڑائی ہے تاکہ اس طرح قطر اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی راہ میں روڑے اٹکا سکیں۔

یمن میں امریکہ کے سابق سفیر جیرالڈ فائرسٹائن نے اس بارے میں میمو نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کیلئے کوششیں انجام پا رہی ہیں لیکن فی الحال واضح نہیں کہ ایسی ہی کوششیں ابوظہبی اور دوحہ کے درمیان بھی کی جا رہی ہوں۔ دوسری طرف سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے امریکہ کے بی بی ایس نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے معروف سعودی صحافی جمال خاشگی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ قتل ان کی ولیعہدہ کے زمانے میں انجام پایا ہے۔ انہوں نے قطر اور سعودی عرب کے مشترکہ مفادات کی جانب اشارہ کیا۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ان کا یہ بیان اپنی نجات کیلئے دیا گیا ہے اور وہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات کی بحالی میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ مڈل ایسٹ مانیٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ قطر کے خلاف جاری محاصرے کے خاتمے تک خلیج تعاون کونسل کی کوئی افادیت نہیں اور درپردہ مذاکرات سے بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نئے کراچی کا خواب

غریدہ فاروقی جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیر اعظم عمران خان …