بدھ , 29 جنوری 2020

امریکا نے راؤ انوار سمیت 18 افراد پر پابندیاں عائد کر دیں

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان میں جعلی انکاؤنٹرز کے لیے بدنام سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکی محکمہ خزانہ سے جاری بیان کے مطابق راؤ انوار، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر کے طور پر متعدد جعلی پولیس انکاؤنٹرز کے ذمہ دار ہیں جن میں پولیس کے ہاتھوں کئی افراد ہلاک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ راؤ انوار 190 سے زائد پولیس انکاؤنٹرز میں ملوث رہے جن میں 400 سے زائد اموات ہوئیں، جن میں نقیب اللہ محسود کا قتل بھی شامل ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق راؤ انوار نے پولیس اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ٹھگوں کے نیٹ ورک کی مدد کی جو مبینہ طور پر بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے، منشیات کی فروخت اور قتل کی وارداتوں میں ملوث تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ راؤ انوار پر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں دنیا بھر سے مجموعی طور پر 18 افراد پر امریکی پابندیاں عائد کی گئیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث دیگر ممالک میانمار، لیبیا، سلواکیہ، جنوبی سوڈان، کانگو اور روس کے متعدد افراد پر بھی اقتصدی پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ دو افراد پر امریکا میں داخل ہونے کی پابندی عائد کی گئی جن میں استنبول میں سابق سعودی قونصل جنرل بھی شامل ہیں۔

محمد العُطیبی پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں مبینہ طور پر کردار ادا کرنے پر پابندی عائد کی گئی۔

پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کی امریکا میں جائیدادیں منجمد ہوجائیں گی جبکہ امریکی شہریوں پر ان فراد کے ساتھ لین دین پر پابندی ہوگی۔

نقیب اللہ کا قتل
یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں نقیب اللہ محسود سمیت 444 افراد کے مبینہ طور پر قتل کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کرنے والے راؤ انوار پولیس سروسز سے ریٹائر ہوگئے تھے۔

13 جنوری 2018 کو نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کا معاملہ سامنے آیا، جنہیں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کا معامہ سوشل میڈیا پر سامنے آیا، جس کے بعد راؤ انوار کے خلاف ایک مہم کا آغاز ہوا۔

ابتدائی طور پر پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

اس وقت ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

یہ بھی پڑھیں: راؤ انوار کا بیرون ملک جانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

تاہم نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

سوشل میڈیا پر اس مہم کے سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا جبکہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔

بعد ازاں مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں ہوئیں تھی جن میں سپریم کورٹ نے راؤ انوار کو عدالت میں پیش ہونے کا موقع بھی دیا گیا تھا، تاہم 21 مارچ 2018 کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے، جہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

اس کے بعد یہ معاملہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا تھا، جہاں مختلف سماعتوں میں راؤ انوار کو پیش کیا گیا تھا لیکن ان پیشیوں کے دوران راؤ انوار کو کبھی ہتھکڑی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی انہیں خصوصی بیلٹ پہنائی گئی تھی۔

عدالت میں زیرِ سماعت اس معاملے میں راؤ انوار کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے منظور کرلیا گیا تھا۔

تاہم ان کا نام ابھی بھی ای سی ایل میں شامل ہے جس کے باعث وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن، نہم کا علاقہ سعودی اتحاد کا قبرستان بن گیا، 2 ہزار فوجی قیدی، 400 ہلاک و زخمی + ویڈیو

یمن یمن، نہم کا علاقہ سعودی اتحاد کا قبرستان بن گیا، 2 ہزار فوجی قیدی، …