ہفتہ , 25 جنوری 2020

عالمی عدالت میں روہنگیاں نسل کشی کے مقدمے کی سماعت

دی ہیگ (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی ماتحت بین الاقوامی عدالت انصاف میں میانمر میں روہنگیا اقلیت کی نسل کشی کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ اس عدالتی کارروائی میں میانمر کے وفد کی قیادت ماضی میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی اور حال میں فوجی آمریت کی اتحادی آنگ سان سوچی نے کی۔ اجلاس میں شرکت سے قبل سوچی نے میڈیا کے ساتھ کوئی گفتگو نہیں کی۔ سماعت کے دوران وکیل استغاثہ نے اپنے ابتدائی دلائل میں میانمر کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ روہنگیا برادری کی ہلاکتوں کے سلسلے کو فوری طور پر روکے۔ یہ درخواست کئی مسلمان ممالک کی جانب سے افریقی ملک گیمبیا نے دے رکھی ہے۔ ابتدائی 3 روزہ کارروائی کے دوران عالمی عدالت انصاف سے کہا جائے گا کہ وہ عارضی طور پر روہنگیا کی حفاظت کے لیے اقدامات کرے۔ نسل کشی کے الزامات پر فیصلہ آنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ میانمر میں زیادہ تر آبادی بدھ مت مذہب کی پیروکار ہے۔ وہ روہنگیا باشندوںکو غیر قانونی تارکین وطن سمجھتے ہیں اور انہیں شہریت بھی نہیں دی جاتی۔ 2017ء کے آغاز میں میانمر میں 10 لاکھ روہنگیا آباد تھے۔ یہ لوگ زیادہ تر میانمر کی ریاست راکھین میں رہتے تھے۔ روہنگیا کی جانب سے طویل عرصے سے یہ شکایت کی جاتی رہی کہ ان پر ظلم و ستم ہو رہا ہے اور پھر 2017ء میں ملکی فوج کی طرف سے راکھین میں ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ عالمی عدالت انصاف کی دستاویزات کے مطابق فوج پر الزام ہے کہ اس نے روہنگیا کے خلاف اکتوبر 2016ء سے بڑے پیمانے پر منظم طریقے سے کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ عدالت میں ان الزامات پر سماعت ہو گی کہ اس کلیئرنس کا مقصد روہنگیا برادری کو یکبار مکمل یا حصوں میں قتل کرنا، بے آبرو کرنا اور آبادیاں جلانا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران، امریکی جرائم کو یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کرے گا

تہران: ایرانی وزارت سائنس ، ریسرچ اینڈ ٹکنالوجی کے پلاننگ کے منیجنگ جنرل نے کہا …